بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / دہلی پر کورونا کی مار اور کسانوں کی یلغار

دہلی پر کورونا کی مار اور کسانوں کی یلغار

IMG_20201129_193601

ڈاکٹر سلیم خان
راجدھانی دہلی فی الحال دوہری مار کا شکار ہے ۔ ایک طرف کورونا کا عتاب ہے اور دوسری جانب کسانوں کا احتجاج ہے ۔ کسان تنظیموں نے گزشتہ چار دنوں سے دہلی جانے والے اہم راستے بند کر رکھے ہیں ۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شاہین باغ کے سبب ایک ذرا سی سڑک کے بند ہونے پر واویلا مچانے والوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا ۔ سرکار لاچار ہے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس مسئلہ سے کیسے نمٹے ؟ گھیرابندی کے سبب بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ کسان اپنے ساتھ مہینوں کا راشن پانی لے کر آئے ہیں اور ایک طویل جدوجہد کا آغاز ہوگیا ہے ۔ اس درمیان ان کو خالصتانی ٹھہرانے والے میڈیا کے ہوش اڑانے والی یہ خبر بھی آئی ہے کہ ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے اور دہلی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ روز کھاپ پنچایتوں کی نشست میں اس فیصلے کے بعد اب ہریانہ کے وزیر اعلیٰ یہ دعویٰ بے بنیاد ہوگیا ہے کہ اس احتجاج میں ہریانوی کسان شریک نہیں ہے۔ وہ اگر پھر سے اپنا احمقانہ بیان دوہراتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنی کھاپ پنچایت کو اپنا نہیں پرایا سمجھتے ہیں ۔
ایک محاذ پر کسان ڈٹے ہوئے ہیں اور دوسرے پر کورونا اپنا قہر برسا رہا ہے تازہ ہیلتھ بلیٹن کے مطابق پچھلے ایک دن دہلی کے اندر 4906 نئے متاثرین کا اندراج ہوا۔ اس طرح متاثرہ افراد کی کل تعداد 566648 ہوگئی ہے۔ جبکہ 6325 مریضوں کی صحت یابی کی وجہ سے زیر علاج مریضوں میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی ۔ اب تک صوبے میں کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 522491 ہوگئی ۔ دہلی کے اندر کورونا وائرس سے شفایابی کی شرح قومی اوسط سے قدرے کم یعنی 91.88 فیصد ہے۔ اس مدت میں مزید 68 مریضوں کی ہلاکت کے سبب اموات کی جملہ تعداد 9066 ہوگئی۔ کورونا وائرس سے اموات کے معاملے میں دہلی چوتھے نمبر پر ہے۔دارالحکومت میں جانچ پڑتال کا کام بھی زور و شور سے جاری ہے ۔ پچھلے 24 گھنٹے کے دوران 64.2 ہزار نمونوں کی جانچ کی گئی۔ اس طرح جانچ کی کل تعداد فی الحال 62.4 لاکھ ہوگئی ہے جو تقریباً ۲۰ فیصد ہے۔
ملک میں ویسے تو مہاراشٹر میں کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں مگر مہاراشٹر کی آبادی بھی 12 کروڈ 30 لاکھ ہے جبکہ دہلی میں صرف 3 کروڈ 3 لاکھ لوگ بستے ہیں اس طرح اگر اوسط نکالا جائے تو دہلی کی حالت مہاراشٹر سے بھی بدترہے۔ دہلی کے اندر پچھلے 15 دنوں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوگئےجس سے نہ صرف اسپتالوں میں لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئیں بلکہ شمشان گھاٹوں پر بھی انتم سنسکار کے لئےلاشوں کا انبار لگ گیااور لاشوں کو جلانے کے لئے 3 سے 4 گھنٹے کی ویٹنگ لگ گئی ہے ۔ دہلی کی بابت تشویشنا ک بات یہ بھی ہے کہ صوبے کے اندر کنٹینمنٹ زون (حساس علاقہ) کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد اب تک 5156 تک پہنچ چکی ہے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک درسگاہوں میں طلباء کے تحفظ کی بابت تشویش ہے اس وقت تک انہیں کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
دہلی میں 28 اکتوبر سے کورونا وائرس کے پھیلاو میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ملک میں د سہرہ اور دیوالی کا تہوار منایا جارہا تھا اور مرکزی حکومت بہار الیکشن کی مہم میں مصروف تھی ۔ کورونا سے حکومت اور عوام دونوں پوری طرح غافل ہوگئے تھے۔ ایسے میں عدالت عظمی کو بیدار ہونا پڑا۔ سپریم کورٹ نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال دہلی میں بد سے بدتر ہوگئی ہے اور گجرات کے اندر بھی حالات بے قابو ہوگئے ہیں ۔ یہ اسی گجرات کا ذکر ہو رہا ہے جہاں سے ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تشریف لاتے ہیں لیکن چونکہ وہاں فی الحال انتخاب نہیں ہے اس لیے سارا دھیان بہار، بنگال بلکہ حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات پر مرکوز ہے۔ عدالت نے کہا کہ کووڈ۔19 کے مریضوں میں ماہ نومبر کے اندر یکایک اضافہ کی وجوہات پر غور ہونا چاہیے اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کرنا چاہیے کہ جاری اقدامات میں کون سی خامی اس کا سبب بن رہی ہے؟
ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت وقت اپنے فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ کوتاہی کررہی ہے سپریم کورٹ نے پیش قدمی کرتے ہوئےدہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں کورونا وائرس کی وبا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستوں سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔یہ شرم کی بات ہے کہ مرکزی حکومت کا یہ کام مجبوراً کورٹ کو ازخود نوٹس لے کر کرنا پڑرہا ہے لیکن افسوس کہ بے حس سرکار کو اس پر عار محسوس نہیں ہوتی ۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس بھوشن نے دہلی حکومت سے کئی چبھتے سوالات کیے مثلاً وہ حالات کو سنبھالنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟ کورونا کے مریضوں کا علاج کیسے کیا جارہا ہے ؟کیا دہلی کے اسپتالوں میں مریضوں کیلئے مناسب بستروں کا انتظام ہے ؟ وغیرہ یہ سوالات عدلیہ کے اضطراب کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔ دہلی حکومت کے وکیل نےجواب میں کہا کہ صوبے کے سبھی اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی خاطربستر محفوظ کئے گئے ہیں۔
اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مرکزی حکومت کے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے دہلی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ انہوں عدالت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دہلی حکومت کو کورونا معاملے میں بہت کچھ کرنا پڑے گا۔تشار مہتا نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی 13 نومبر کو ہونے والی میٹنگ میں دی جانے والی ہدایات کا حوالہ دیا لیکن کیا اس سے مرکزی حکومت اپنے فرض منصبی سے فارغ ہوجاتی ہے؟ بنچ نے حکومت گجرات سے شادیوں اور دیگر عوامی اجتماعات کے تعلق سے اس وبائی بحران کے دوران اختیار کردہ پالیسی کی بابت استفسار کیا۔ کاش کہ مہتا بتاتے اپنے حلقہ انتخاب اور صوبے کی بابت وزیر داخلہ نے میٹنگ کیوں نہیں کی؟ فاضل عدالت نے ریاستی حکومتوں کو خود احتسابی کی جانب متوجہ کرکے کہا کہ صورتحال مایوسی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس صورتحال پر مرکزی حکومت سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
عدالت عظمی ٰ کےساتھ ہی اس مسئلہ کی گونج دہلی ہائیکورٹ میں بھی سنائی دی جہاں ایک پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ کووڈ۔19 کے بڑھتے معاملات کی وجہ سے قومی دارالحکومت میں پھر سے لاک ڈاؤن لگایا جائے۔ اس پر چیف جسٹس بی این پٹیل کی بنچ نے سوال کیا کہ کیا لاک ڈاؤن مسئلہ کا واحد حل ہے؟ کیا حکومت کے پالیسی معاملے عدالتوں کو طےکرنے پڑیں گے؟ ایک طرف عدالت عالیہ اپنی ذمہ داری سے دامن جھٹک رہی تھی اور دوسری جانب عدالت عظمیٰ اسی روز ازخود نوٹس لے رہی تھی اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ارباب حل و عقد اس بابت کس قدر کنفیوزڈہیں۔ ویسے حکومت ِدہلی نے یہ کہہ اپنا دامن بچا لیا کہ مرکزی اعلامیہ کے مطابق کسی بھی ریاست کو بلااجازت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہے پھر بھی وہ کوروناکا زور توڑنے کے لئےرات کےکرفیو پر غور کر رہے ہیں۔ اس پر ہائی کورٹ نے تاکید کی کہ فیصلہ جلد کریں اور اس معاملہ میں تاخیر نہ ہو۔ ہائی کورٹ نے آئی سی یو بیڈز کے بارے میں گزشتہ حکم کی تعمیل سے عدم اطمینان کا اظہارکیا۔ اس پر دہلی سرکار نے جلد ہی تعداد بڑھانے کی یقین دہانی کی۔
ہندوستان کے اندر کورونا کا پہلا مریض کیرالا میں سامنے آیا ۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں وباء پھیلنے لگی لیکن اس پرمسئلہ پر سیاست کی ابتدادہلی میں ہوئی اس لیے کہ شہر دہلی میں مودی اور شاہ کے ہوتے کورونا ؟ ایک میان میں دو تلوار کے سمان(طرح) تھے ۔ اس لیے دہلی میں کورونا کے پھیلاو کی خاطر تبلیغی جماعت کو بلی کا بکرا بنایا گیا اور میڈیا کو بھوکے بھیڑئیے کی مانند مسلمانوں پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ملک بھر میں کورونا پھیلا یا ہے۔ اس وقت کورونا جہاد کی اصطلاح بھی گھڑی گئی تھی لیکن دہلی پھر ایک بار کورونا کی زد میں ہے ۔ بڑی تیزی سے کورونا کی دوسری لہر ملک کو اپنے نرغے میں لے رہی ہے۔ کورونا جہاد کا نعرہ لگانے والے گودی میڈیا اب لو جہاد کے نام پر عوام کی توجہ بھٹکانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ گھو م پھر کر سوئی پھر سے مسلمانوں جانب گھوم رہی ہے مگر کم ازکم کسی میں یہ ہمت نہیں ہے کہ مسلمانوں کو کورونا کے پھیلاو کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے۔ اسی لیے کہتے ہیں جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے وہ دور تک چل نہیں پاتا۔ اس کو سچ کے آگے جھکنا ہی پڑتا ہے بقول مراق مرزا؎
یہ معجزہ ہے کہ دنیا میں ایک بھی سچ کو ہزار جھوٹ کا لشکر دبا نہیں سکتا

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*