بنیادی صفحہ / روزگار / ٹیرر ازم کی جگ ٹورزم، بندوق اور پتھر کی جگہ ہاتھ میں کتاب اور قلم

ٹیرر ازم کی جگ ٹورزم، بندوق اور پتھر کی جگہ ہاتھ میں کتاب اور قلم

مفتی منظور ضیائی

مفتی منظور ضیائی

کشمیری پنڈتوں کے بغیر وادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، ریاست کے مخصوص اسلامی اور سیکولر کلچر کی حفاظت کی جائیں :مفتی
مئمبی : (اسٹاف رپورٹر ) صوفی کارواں کے روح رواں اور معروف اسلامی اسکالر مفتی منظور ضیائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کشمیری عوام کی سیاسی محرومیوں کوختم کیا جائے اور کشمیری عوام کی اپنی حقیقی نمائندوں کو منتخب کرنے کا بھر پور موقع دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مخصوص سیاسی مفادات کے أصول کیلئے کشمیری عوام کی جمہوری امنگوں کو کچلا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے حالات خراب ہوئے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وادی میں جمہوری عمل زور شور کے ساتھ جاری رہے تا کہ یہاں ٹیررازم‘‘ کی جگہ ٹورزم‘‘ کو بڑھاوا ملے اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور پتھر کی جگہ کتاب او قلم ہوں ۔ یہاں کے مخصوص سماجی و ثقافتی کلچر کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کا وادی سے  باہر کیا جانا وادی کے عوام کے اجتماعی ضمیر پر ایک بوجھ کی طرح ہے اس لئے جلد از جلد کشمیر میں پنڈتوں کی واپسی اور ان کی باز آبادکاری کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں صدیوں سے مسلمان اور کشمیری پنڈت مل جل کر  رہتے چلے آئے ہیں۔ سیاسی سازشوں اور نشہ داہونیوں نے انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا مفتی ضیائی نے کہا کہ کشمیر میں ہر طرف صوفی اور رشی مو نیو ن کا بول بالا ہے یہاں کے سماج میں مذہبی پسندی اور شدت پسندی کیلئے بھی کوئی جگہ نہیں رہی ہے ۔
سابقہ کشمیری حکومتوں کے کرپشن اور کشمیری عوام کے احساس محرومی میں ملک دشمنوں کو اس بات کا موقعہ دیا کہ وہ کشمیری عوام کو ان کے تاریخی پس منظر سے کاٹ کر انتہا پسندی کے ایک ایسے راستے پر لے جایا جائے جس کی کشمیری معاشرے میں بھی کوئی جگہ نہیں رہی ہے۔ مفتی ضیائی نے کہا کہ جولوگ کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں کو ورغلا کر غلط راستے پر ڈال رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے  اور عوام بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ نرمی و شفقت کا رویہ اپنایا جائے تا کہ ان ذہن ودماغ میں انتہا پسندی کے اثرات کو ختم کیا جا سکے۔ مفتی ضیائی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے جو جمہوری عمل شروع کیا گیا ہے اس کو مستحکم بنایا جا نا چاہئے اور عوام سے جو نمائندے منتخب ہو کر آئے ان کو اقتدار سونپ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ حالیہ انتخابات اسمبلی اور لوک سبھا میں جمہوریت کے استحکام کا ذریعہ بنیگے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں عوام نے جس جوش وخروش سے حصہ لیا ہے اگر اس سے بہتر نتائج بر آمد ہوئے تو اسمبلی اور پارلیمنٹ کے الیکیشن میں پورے ہندوستان سے جوڑنے والی صالح اور کا  باکردار سیاست کو ابھرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مرکز کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی جذبات احساسات اور ان کی تمناؤں کا احترام کریں تا کہ یہاں امن و امان قائم ہوں اور تعمیر و ترقی کی راہ ہموار ہوں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*