بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / اقلیتی معاشی اجلاس / معیشت میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سےنواں کل ہند تجارتی و معاشی اجلاس مغربی بنگال میں

معیشت میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سےنواں کل ہند تجارتی و معاشی اجلاس مغربی بنگال میں

business summit social banner

ممبئی: گذشتہ دس برسوں سے اقلیتوں کے مابین معاشی بیداری پیدا کرنے کے لئے معروف میڈیا کمپنی معیشت میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈنے اپنانواں کل ہند تجارتی و معاشی اجلاس مغربی بنگال کےشہر کولکاتہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیاہے جس میںمغربی بنگال سمیت بہار،جھارکھنڈ،اڑیسہ،اور چھتیس گڑھ کےساتھ مہاراشٹرسے بھی تقریباً دو سو سے زائد تاجروں کی شرکت ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار معیشت کے مینیجنگ ڈائریکٹر دانش ریاض نے یواین آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ 24جنوری2021 کوکلا کنج کلا مندر میں منعقد ہونے والا تجارتی اجلاس اس طور پر اہم ہے کہ اس میں جہاں امریکہ میں مقیم ہند نژادمشہور تاجر فرینک اسلام ،سنگاپور میں مقیم حلال ڈیولپمنٹ کارپوریشن کےڈائریکٹرمحمد جناح ،زکاۃ فائونڈیشن آف انڈیا کے پریسیڈنٹ ڈاکٹر سید ظفر محمود،مرکز المعارف ممبئی کے ڈائریکٹرمولانا برہان الدین قاسمی خطاب کریں گے وہیں مغربی بنگال میں مقیم آئی اے ایس آفیسر محمد اویس سمیت کئی اہم شخصیات بھی شرکت کریں گی۔
دانش ریاض نے تجارتی اجلاس منعقد کرنےکی تین بنیادی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’1.معیشت میڈیانے ہمیشہ کمزر طبقات پر فوکس کیا ہے یعنی اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ضروریات جو انتہائی اہم ہیںیعنی اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تاجر ہندوستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کررہےہیں۔ ان میں ملک اور دنیا کا نقشہ بدل دینے کی صلاحیت اور طاقت دونوں ہے۔ 2.جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس اجلاس میں صرف اقلیتوں کے بزنس پر بات ہوگی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہےکہ اس میںدوسروں کے لئے کچھ نہیں ہوگابلکہ تمام طرح کی عصبیتوں سے پاک ہوکر ہر طرح کےتعصب اور دشمنی کا شکار ہونے کے باوجود کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں اس پر توجہ مرکوز ہوگی ۔3.یہ ایوارڈ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جونمایاں کام کرتے ہیں لیکن ان کی قابل ذکر پذیرائی نہیں ہوتی اور وہ غیر مرئی رہتے ہیں۔یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جسے پیش نظر رکھتے ہوئے اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے‘‘۔
دانش ریاض نے کہا کہ ’’ Entrepreneur وہ ہوتا ہے جو بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے، خطرات کا اندازہ لگاتے ہوئے کوئی کاروبار شروع کرتا ہے اور مستقبل کے لیے ملازمت کےمواقع پیدا کرتا ہے۔مذکورہ اجلاس میں تاجروں کو ایوارڈ حاصل کرنےکے لیے بھی جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے ان میںیہ بات اہم ہے کہ وہ ملازمت کے مواقع پیدا کرتے ہوں، ملک و ملت کی فلاح وبہبو دکے لیے سرگرم رہتے ہوں، حکومت ہند کی طرف سے طے کیےگئے اصول وضوابط پر عامل ہوں، معاشی اور سماجی مساوات، رواداری، انصاف اور حقوق انسانی کا لحاظ رکھتے ہوں یہ باتیں ایسے تجارتی لیڈر سے تعلق رکھتی ہیں جو سماجی مسائل میں بھی دلچسپی رکھتا ہو‘‘۔
معیشت کے ڈائرکٹر نے کہا کہ ’’معیشت میڈیاہندوستان میں ایک ایسا سسٹم ڈیولپ کرنا چاہتی ہے جہاں بقائے باہمی کے اصول پر تجارت ہو۔تبلیغ اسلام کے لئے سب سے بہتر ذریعہ تجارت ہی ہے جہاں آپ کے لین دین کا معاملہ طے پاتا ہے۔ایک غیر مسلم اس وقت بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے جب وہ لین دین میں آپ کو کھرا پاتا ہے‘‘۔انہوں نےکہا کہ ’’ہندوستان میں ایوارڈ خریدنے کا مزاج بڑھتا جا رہا ہے اور خریداروں میںمسلمانوں کی بڑی تعداد ہے۔ایسے میں معیشت ایک ایسا ماحول بنا رہی ہے جہاں لوگوں کی لیاقت و قابلیت،دوسروں سے وہ کیسے مختلف ہیں اس کی استعداد کے ساتھ وہ زمانے میں کیسے دوسروں کو متاثر کر رہے ہیں اس کا بھی جائزہ ہو اور معیشت انہیں جائزوں کے بعد لوگوں کو منتخب کر رہی ہے‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*