بنیادی صفحہ / حلال صنعت / حلال وحرام مباح اور غلبہ ظن کا اصول

حلال وحرام مباح اور غلبہ ظن کا اصول

Halal Logo1

اباحت کی دوقسمیں:

مباح چیزوں میں جو اباحت ہوتی ہے ، فقہائے کرام ؒ نے اس کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں : ایک قسم ’’ اباحت اصلیہ ‘‘ ہے جو تمام مباح چیزوں میں اس عام اصول سے ثابت ہوتی ہے کہ شرعی طور پر اشیا میں اصل اباحت ہے ۔ دوسری قسم ’’اباحت شرعیہ ‘‘ یعنی شرعی اباحت ہے جو کسی مباح چیز سے متعلق اس خاص دلیل سے ثابت ہوتی ہے ، جو اس کے بارے میں شریعت میں وارد ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا جب حلت وحرمت میں تعارض کے وقت حرمت کی جانب کو ترجیح دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس خاص چیز یا صورت سے متعلق اباحت کی دلیل حرمت کی دلیل سے مقدم قرار دی جاتی ہے اور حرمت کی دلیل کو مؤخر سمجھا جاتا ہے ،
چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس حرمت کی دلیل سے اس چیزمیں اصلی اور شرعی دونوں طرح کی اباحتیں یکبارگی منسوخ ہوجاتی ہیں ۔ بجائے اس کے اگر حرمت کی دلیل کو مقدم اور اباحت کی شرعی دلیل کو مؤخر اور راجح قرار دیا جائے گا تو اس طرح سے نسخ کا عمل دوبار ہوگا کہ ایک بار حرمت کی دلیل ’’ اباحت اصلیہ ‘‘ کو منسوخ کر کے حرمت کو ثابت کرے گی جبکہ دوسری بار اباحت کی دلیل ، دلیل حرمت سے ثابت ہونے والی حرمت کو منسوخ کر کے دوبارہ ’’ اباحت ‘‘ کو ثابت کرے گی۔
’’البحر الرائق‘‘ میں علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دلیل حرمت واباحت میں سے دلیل حرمت کو راجح قرار دینے کی اس دوسری وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصول (یعنی حلت وحرمت میں تعارض کے وقت جانب حرمت کو ترجیح دینا) اس صورت سے متعلق ہے جب کسی چیز کے بارے میں شرعی دلائل یعنی قرآن وسنت کی نصوص میں تعارض ہو۔ کیونکہ اس طرح دلائل میں تقدیم وتاخیر کا اعتبار کرنا اور پھر مؤخر دلیل کو راجح قرار دینا صرف اسی صورت میں صادق آتا ہے ۔ رہی وہ صورت جہاں کس چیز سے متعلق صور تِ واقعہ میں اشتباہ ہوجیسے بہت سی حلال وحرام چیزیں آپس میں مخلوط ہوگئی ہوں اور یہ پتا نہ چل رہا ہو کہ کون سی چیز ان میں سے حلال ہے اور کون سی حرام ؟ تو ایسی صور ت میں علی الاطلاق حرمت کی جانب کو راجح قرار دینے کا یہ اصول لاگو نہیں ہوگا۔
مذکورہ اصول کی مثالیں:
علامہ ابن نجیم ؒ کی اس وضاحت کی روشنی میں اس اصول کی زیادہ منطبق مثالیں مچھلی کے علاوہ سمندری جانوروں اورگوہ وغیرہ وہ سب چیزیں ہوں گی، جن کے بارے میں نصوص قرآن اور سنت دونوں طرح کی ہیں، البتہ حضرات احناف رحمہم اللہ نے حرمت پر دلالت کرنے والی نصوص کو ترجیح دیتے ہوئے ان کو مکروہ تحریمی اور ناجائز قرار دیا ہے۔
غلبہ ظن پر عمل کرنے کا اصول
حلت وحرمت کے سلسلے میں کسی چیزیا واقعے سے متعلق اشتباہ کی صورت میں دوسرا اہم اور بنیادی اصول غلبہ ظن پر عمل ہے۔ فقہی کتابوں میں بعض مقامات پر اس اصول کو ’’ظاہر حال‘‘ پر عمل سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ اصول اس لحاظ سے بہت ہی اہم اور بنیادی ہے کہ اس کو عمل میں لانے سے مشتبہ چیز یا صورت حال سے متعلق فیصلہ کرنے میں بہت آسانی ہوجاتی ہے۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز یا صورت کے بارے میں حلال یا حرام ہونے کے لحاظ سے اشتباہ ہو، اگر اس چیز کے ظاہری حالات سے اس کی حلت یا حرمت میں سے کسی ایک جانب کا غالب گمان ہوتا ہو تو مبتلابِہٖ شخص کے لیے اپنے غالب گمان کے مطابق فیصلہ کر کے عمل کرنا جائز ہے۔ یعنی اگر کسی مشتبہ چیز سے متعلق ظاہری حالات کی بنیاد پر کسی کو یہ غالب گمان ہو کہ وہ حلال ہے تو اس کے لیے اس چیز کا استعمال میں لانا جائز ہوگا، اگرچہ دوسری جانب کا معمولی شبہ موجود ہونے کی وجہ سے اس سے احتراز کرنا ہی بہتر ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی چیز کے ظاہر ی احوال سے اس چیز کے حرام ہونے کاغالب گمان ہوتا ہو تو ایسی چیز سے بچنا ضروری ہوگا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*