بنیادی صفحہ / خبریں / ہندوستان میں صحافیوں پر بھی کورونا کا قہر جاری ہے

ہندوستان میں صحافیوں پر بھی کورونا کا قہر جاری ہے

Journalist During Covid19 Reporting

نئی دہلی : پندرہ روز قبل انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک نیوز نیٹ ورک کے سٹوڈیو میں کام کرنے والے کیمرہ آپریٹر نے اپنے ساتھوں کے ساتھ کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جو شہر میں تیزی سے پھیل رہا تھا۔کچھ روز کے بعد 35 برس کے اس کیمرہ آپریٹر کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ انھیں کسی بھی طرح کی کوئی علامات نہیں تھیں۔
جے مہاراشٹرا نامی ٹی وی چینل کے ایڈیٹر پرساد کاتھے نے بتایا ’اس خبر سے سب کو جھٹکا لگا۔ اس نے تو دفتر سے باہر قدم نکالا ہی نہیں تھا۔‘اس کے بعد سے اب تک مراٹھی زبان کے اس ٹی وی چینل میں 15 لوگوں کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آ چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر رپورٹر اور کیمرہ مین ہیں۔کچھ روز قبل اس ٹی وی چینل نے اپنے صحافیوں پر فیلڈ میں جانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں قرنطینہ میں ہیں۔
ممبئی کے اندھیری نامی علاقے میں آٹھ منزلہ عمارت میں قائم اس ٹی وی چینل کا نیوز روم اس وقت سے بند ہے۔ وہاں اب صرف دو افراد ہوتے ہیں جن میں سے ایک الیکٹریشن اوردوسرے پروڈکشن کنٹرول روم کے ٹیکنیشن ہیں۔اب تک اس ٹی وی چینل کے 120 ملازمین میں سے اکثریت کے ٹیسٹ کروائے جا چکے ہیں اور نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
’ایک ایسے لائیو نیوز چینل کو چلانا ایک چیلنج بن چکا ہے جہاں لوگ وائرس سے متاثر ہیں۔ لہذا ہم نے کام کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ چینل چلتا رہے۔‘
اب یہ چینل 18 کے بجائے 6 بلیٹن نشر کر رہا ہے اور باقی وقت میں حالاتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔یہ میڈیا کا واحد ادارہ نہیں ہے، اب تک تقریباً 100 صحافیوں کے کرورنا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آ چکے ہیں۔اکثر اینکر اپنے گھروں میں کیمرے اور پس منظر میں اپنے چینل کی برانڈنگ لگا کر وہیں سے خبریں پڑھ رہے ہیں۔ یہ نشریات براڈ بینڈ اور فور جی موبائل ہاٹ سپاٹ کے ذریعے ٹی وی چینل کے پروڈکشن سینٹر جاتی ہے۔لیکن لوگوں کو اس میں مسائل کا بھی سامنا ہے۔
پرساد کاتھے کہتے ہیں کہ اِس میں کئی مشکلات ہیں۔ ’کبھی کبھار عین بلیٹن کے دوران اینکر کے گھر میں بجلی چلی جاتی ہے۔ کبھی انٹر نیٹ بند ہو جاتا ہے۔ یہ کام آسان نہیں ہے لیکن ہم صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اب تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بلیٹن نشر ہونے سے رہ گیا ہو۔‘انڈیا کی حکومت نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں، کاروبار اور تمام عوامی ذرائع آمد و رفت بند کر دیے گئے ہیں لیکن اکثر صحافی اپنے کام کے لیے متواتر باہر جا رہے ہیں اور کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان صحافیوں میں سے اکثریت کا تعلق ٹی وی چینلوں سے ہے۔
35 کے قریب صحافی ملک کے جنوبی شہر چنائی میں بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔ شمالی شہر کلکتہ میں ایک ا سپورٹس فوٹوگرافر کا انتقال ہوا جس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ کووڈ 19 کا نشانہ بنا تھا۔اطلاعات ہیں کہ پنجاب کے شہر لدھیانہ میں ایک بڑے میڈیا گروپ کے 19 ملازمین کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ چند روز پہلے ہی اس گروپ نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ گھروں سے کام کریں۔
اب تک زیادہ تر کیس ممبئی میں سامنے آئے ہیں جہاں 11 ہزار سے زیادہ لوگوں میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 340 ہے۔ ممبئی انڈیا کی مالی اور انٹرٹینمنٹ کی سرگرمیوں کا گڑھ ہے۔شہرمیں 167 صحافیوں کے ٹیسٹ ہوئے جن میں 53 کے نتائج مثبت آ چکے ہیں۔ ان میں سے تین درجن صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں جبکہ باقی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ بہت سے صحافی اپنے گھروں اور ہوٹلوں میں قرنطینہ میں ہیں۔ اس کے علاوہ 170 کے قریب صحافی اپنے ٹیسٹ ہونے کے منتظر ہیں۔
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے لوگوں کی اکثریت میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں یا معمولی علامات ظاہر ہوئیں۔ممبئی کی ٹی وی جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر ونود جگدیل کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔’ٹی وی پر کام کرنے والے صحافیوں پر بہت دباؤ ہوتا ہے کہ وہ باہر جائیں اور لاک ڈاؤن کی خبر اور فوٹیج بنائیں۔ اِس کے علاوہ کچھ صحافی ضرورت سے زیادہ پرجوش ہوتے ہیں جو باہر جاتے وقت مناسب احتیاطی تدابیر نہیں اختیار کرتے۔‘
کئی صحافی کام پر جانے کے لیے کمپنی کی ٹیکسیاں استعمال کرتے ہیں اور ایسے دفاتر میں کام کرتے ہیں جہاں بہت سے لوگ ایک چھوٹی سے جگہ میں موجود ہوتے ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں کم از کم ایسے تین ڈرائیور بھی شامل ہیں جو صحافیوں کو کام پر لے جاتے تھے۔
اب صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ میڈیا نیٹ ورکس نے اپنے صحافیوں سے گھروں سے کام کرنے کا کہا ہے۔ونود جگدیل کہتے ہیں کہ صحافی خوف زدہ ہیں۔ زیادہ تر نے باہر جانا چھوڑ دیا ہے۔ ان کے افسران بھی اب ان پر یہ دباؤ نہیں ڈال رہے کہ وہ باہر جا کر رپورٹنگ کریں۔رونی رائے کلکتہ کے ایک سپورٹس فوٹوگرافر تھے جنھوں نے چھ برس قبل بی بی سی نیوز کے لیے بھی ایک اسائنمنٹ کیا تھا۔ وہ بھی ان صحافیوں میں شامل تھے جنھیں کورونا وائرس سے کوئی خوف نہیں تھا۔
ان کا آخری اسائنمنٹ مغربی گجرات کے شہر راج کوٹ میں کرکٹ کا ایک میچ تھا۔ وہ ماسک پہنے اور بار بار ہاتھ دھونے جیسے حفاظتی کام باقاعدگی سے کرتے تھے۔ میچ سے واپس آنے کے کئی ہفتے بعد انھیں سخت بخار اور جسم میں درد شروع ہو گیا۔24 اپریل کو وہ سو کر اٹھے اور انھوں نے سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی۔ انھوں نے اپنے ایک ساتھی فوٹوگرافر کو فون پر بتایا کہ ان سے سانس نہیں لی جا رہی۔ انھوں نے کہا ’میرے لیے جلدی سے ایمبولنس منگواؤ ورنہ میں مر جاوں گا۔‘
ایمبولینس تین گھنٹے کے بعد آئی۔ ہسپتال پہنچنے کے ایک گھنٹے بعد ان کی حالت بہت خراب ہو گئی اور انھیں دل کا دورہ پڑا۔ ڈاکٹروں کو ان کا ٹیسٹ کرانے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ رائے ممکنہ طور پر کووڈ 19 کا شکار ہوئے۔ ان کے اہلِخانہ کو ان کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کرنے دی گئی۔کووڈ 19 پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے واضح ہدایات موجود ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔صحافی برکھا دت اس وبا اور لاک ڈاؤن کے اثرات پر انڈیا میں کسی بھی دوسرے صحافی سے زیادہ رپورٹنگ کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے اس صبر آزما کام کے دوران ہر طرح کی احتیاط کر رہی ہیں۔
برکھا دت ایک مہینے سے کم عرصے میں اب تک دلی میں اپنے دفتر سے لے کر چھ مختلف ریاستوں میں چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ سفر کر چکی ہیں۔ ان کا عملہ تین لوگوں پر مشتمل ہے اور ان افراد کے علاوہ گاڑی کا ایک ڈرائیور بھی ہے۔ اس ایک مہینے کے دوران ان میں سے کسی شخص کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔برکھا دت نے مجھے بتایا کہ سائنس کے ساتھ ساتھ حفاظتی انتظامات بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ ’ہم ماسک اور دستانے ہر وقت پہنتے ہیں۔ ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ ہمارا مائیک ایک لمبی چھڑی کے ساتھ لگا ہو تا کہ ہم جس شخص سے انٹرویو کر رہے ہیں اس سے دور کھڑے ہو کر بات کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ہر شوٹ کے بعد تمام لوگ اپنے دستانے اور ماسک ضائع کر دیتے ہیں اور اپنے ہاتھ اور سامان کو اینٹی سیپٹک لوشن سے صاف کرتے ہیں۔جب یہ لوگ اندور شہر میں کووڈ 19 والے ہسپتال گئے تو سب نے حفاظتی لباس پہنا اور کام کے بعد وہیں کسی ہوٹل میں ٹہرنے کے بجائے یہ سب دلی میں اپنے گھروں کو واپس گئے۔ ’ہم ہوٹل کے بستروں پر سونے کے خطرے سے بچنا چاہتے تھے۔‘ان سب احتیاطی تدابیر کے باوجود اِس وبا کی رپورٹنگ کرنا ایک مشکل اور ہمت کا کام ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*