بنیادی صفحہ / انٹرویوز / مدرسے میں بچوں کی پٹائی زیادہ کی جاتی ہے :مفتی عزیر احمد

مدرسے میں بچوں کی پٹائی زیادہ کی جاتی ہے :مفتی عزیر احمد

مدرسہ دار الفلاح ،ممبرا ،تھانے

مدرسہ دار الفلاح ،ممبرا ،تھانے

مدرسہ دار الفلاح ممبرا تھانے کے مدرس مفتی عزیر احمد سے معیشت اکیڈمی اسکول آف جرنلزم کے طلبہ خان امجد رضوان احمد اور خان محمد اسد اکمل نے گفتگو کی۔پیش ہیں اہم اقتباسات
سوال: آپ کس گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی ابتدائی تعلیم کہاں ہوئی؟
جواب:میں حاجی پور ضلع اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا ہوں جبکہ میری ابتدائی تعلیم حاجی پور میں ہی ایک مکتب سے شروع ہوئی۔ عصر بعد ایک ٹیچر جن کا نام رام سرن تھا ان سے انگلش پڑھتا تھا ۔انہوں نے ہی میرا ایڈمیشن جنتا انٹر کالج امباری میں کرایا، یہ 1980ءکی بات ہے۔ وہاں میں نے آٹھویں تک تعلیم حاصل کی، اس وقت آٹھویں کلاس میں بورڈ کا امتحان ہوتاتھا۔
سوال: آخرکیا چیز اسکول کی پڑھائی چھوڑ کر مدرسہ میں داخلہ لینے کا سبب بنی؟
جواب:آٹھویں پاس کرکے میں اپنے نانا سمیر احمد کے ساتھ ان کے گھر چلا گیا۔ وہاں کے بچے مدرسہ میں پڑھتے تھے ان سے میری دوستی ہوگئی اور میرے اندر بھی حفظ قرآن کا شوق پیدا ہوا پھر جب میں گھر آیا تو والد صاحب سے کہا کہ مجھے حفظ قرآن کرنا ہے ۔والد صاحب نے گاؤں کے ایک مدرسہ میں داخلہ کروادیا۔ اب چونکہ میں اسکول سے آیا تھا اور وہاں بچوں کوبہت مارا نہیں جاتا تھالیکن جب مدرسہ میں داخلہ لیا اور بچوں کی پٹائی دیکھی تو خوف محسوس کرنے لگا۔ لیکن ایک سال کسی طرح مکمل کیا اورپھر کہا کہ میں یہاں نہیں پڑھوں گا۔ لہذادوسرے مدرسہ میں پڑھنے کی خواہش ہوئی۔ ایک طالب علم جو بہت سارے مدرسے گھوم کر آیا تھا ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے ریاض العلوم گورینی کی تعریف کی اور کہا کہ وہاں ساری سہولت فراہم کی جائے گی تو میں نے وہاں داخلہ لے لیا۔ بہت محنت سے پڑھا چھٹی ہوتی تب بھی مدرسہ میں رہتا۔عربی چہارم تک پڑھائی کرنے کے بعد جب امتحانات کا وقت آیا تو کچھ ایسے حالات آگئے کہ پڑھائی چھوڑنی پڑی۔اسی دوران شادی بھی ہوگئی اور میںکام کاج کرنے لگا۔
سوال: آپ نے ہومیوپیتھک کورس کہاں سے کیا؟
جواب:جب حالات کچھ ٹھیک ہوئے تو ممبئی آیا اور ہومیوپیتھک کے لیے پرائیویٹ ایڈمیشن لے لیا اور ایک ڈاکٹر کے پاس سیکھنے بھی جانے لگا۔موصوف آجکل بیمار چل رہے ہیں اللہ تعالی انہیں شفا عطا کرے (آمین )اس طرح پرائیویٹ امتحان دے کر اس کورس کو پورا کیا۔
سوال: عربی چہارم تک یعنی عالمیت تک پڑھ کرآپ نے پڑھائی چھوڑ دی تھی پھر دوبارہ آغاز کیسے کیا؟
جواب: ہومیوپیتھک کا کورس کمپلیٹ کرنے کے بعدد دوبارہ عالمیت کی پڑھائی شروع کی اورپھر مکمل کیا۔ چونکہ ہومیوپیتھک کی پڑھائی مکمل ہوچکی تھی تو ایک گھنٹہ ناظم صاحب کی اجازت سے دوا خانہ پر بھی بیٹھتا تھا۔
سوال:ممبرا میں کیسے آنا ہوا؟
جواب:ہماری اہلیہ کے رشتے دار ممبرا میں رہتے تھے انہیں کے ذریعہ یہاں آنا ہوا اور یہ میرے لیے خیر کا ذریعہ بھی بنا۔طبیعت میں خود داری تھی۔ خود ہی محنت اور جفاکشی کی۔
سوال: دارالفلاح میں کب سے پڑھا رہے ہیںاور کون کون سی کتابیں پڑھاتے ہیں؟
جواب: دارالفلاح میں اٹھارہ برس سے پڑھا رہا ہو ںاس وقت عربی چہارم تک پڑھاتا ہوں ۔ ایک فتوے کی کتاب، نورالایضاح،فارسی کے قواعد اور الفیہ یہ چار کتابیں پڑھارہا ہوں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*