بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / ایران-چین باہمی تعاون کا معاہدہ رُکوانے کیلئے اسرائیل کو ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا چاہئے

ایران-چین باہمی تعاون کا معاہدہ رُکوانے کیلئے اسرائیل کو ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا چاہئے

WhatsApp Image 2020-07-21 at 3.47.32 PM
صیہونی اخبار
غاصب صیہونی رژیم، اسرائیل سے تعلق رکھنے والے معروف اخبار "یروشلم پوسٹ” نے اپنے اداریئے کے اندر ایران و چین کے درمیان مجوزہ "25 سالہ باہمی تعاون کے پروگرام” کیجانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چین اور روس ایران پر عائد اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندیوں کے ختم ہونے کےبعد اکتوبر میں ایران کو جنگی ہیلی کاپٹرز، جیٹ طیارے اور ٹینکوں سمیت انواع و اقسام کا اسلحہ بیچنا چاہتے ہیں جبکہ چین تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ ایران و چین سکیورٹی و اقتصادی میدانوں میں 25 سالوں پر محیط، اربوں ڈالرز مالیت کے ایک انتہائی وسیع معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔
صیہونی اخبار نے لکھا کہ ایران "اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے” کے اپنے موقف سے بھی آگے بڑھ چکا ہے جبکہ اس وقت ایران نہ صرف فلسطینی مزاحمتی محاذ اور حزب اللہ کی مدد بلکہ (اسرائیل کی) شمالی سرحدوں(شام سے ملنے والی سرحدوں) کے نزدیک اپنی چوکیاں بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
غاصب صیہونی رژیم اسرائیل سے تعلق رکھنے والے معروف اخبار "یروشلم پوسٹ  (Jerusalem Post) نے اپنے اداریئے کے اندر ایران اور چین کے درمیان مجوزہ "25 سالہ باہمی تعاون کے پروگرام” کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں اسرائیل کو لاحق شدید پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ اس اخبار نے ایران کے ساتھ چین اور روس کے مثبت تعلقات پر ماتم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پینٹاگون کی آخری رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور روس ایران پر عائد اقوام متحدہ کی اسلحے کی پابندیوں کے ختم ہونے کے بعد اکتوبر کے مہینے میں ایران کو جنگی ہیلی کاپٹرز، جیٹ طیارے اور ٹینکوں سمیت انواع و اقسام کا اسلحہ بیچنا چاہتے ہیں۔ یروشلم پوسٹ نے ایران و چین کے قریبی تعلقات پر رونا روتے ہوئے لکھا کہ چین تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ رپورٹس کے مطابق ایران اور چین سکیورٹی و اقتصادی میدانوں میں 25 سالوں پر محیط، اربوں ڈالرز مالیت کے ایک انتہائی وسیع معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔
صیہونی اخبار نے لکھا کہ ایران اور چین کے درمیان یہ معاہدہ تہران اور شنگھائی کے درمیان انتہائی قریبی فوجی تعلقات بھی استوار کر دے گا جس میں مشترکہ فوجی مشقیں، مشترکہ تحقیق اور اطلاعات اور ہتھیاروں کی فراہمی بھی شامل ہو گی۔  اسرائیلی اخبار نے قریب الوقع ایران-چین اقتصادی و فوجی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران و چین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر تاحال دستخط نہیں ہوئے لیکن اسرائیلی کابینہ کو چاہئے کہ وہ ان واقعات کا گہری تشویش کے ساتھ بغور جائزہ لے۔ صیہونی اخبار نے لکھا کہ ایرانی فوج کو ملنے والی ہر نئی سہولت ممکنہ طور پر اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے جبکہ ایران میں چین کی وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری اور ایرانی انفراسٹرکچر و مواصلات کے وسیع منصوبوں کا شروع ہو جانا اس بات کا باعث بنے گا کہ ایرانی حکومت اپنے ساتھ وابستہ مزاحمتی گروہوں پر اور زیادہ خرچ کرنا شروع کر دے۔  صیہونی اخبار یروشلم پوسٹ نے باہمی تعاون کے مجوزہ ایران چین معاہدے کو ناکام بنانے پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اپنی تشویش اور تحفظات چین پر اچھی طرح واضح کردے اور ایران کے ساتھ چین کے ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*