عیدالاٴضحیٰ (عیدِ قرباں / بقرعید) کا پیغام

Online-Bakra
عفان احمد کامل
عفان احمد کامل

مینیجنگ ڈائریکٹر: المنارایجوکیئرارریہ،بہار۔

قرآن و احادیث سے مجموعی طور پر عیدالاٴضحیٰ یاقربانی  سے متعلق  درج ذیل باتوں کی جانکاری ملتی ہے:

قربانی کا عمل  بہت قدیم (پرانا )ہے۔ (حضرت آدم و حوّا کے بیٹے  ہابیل اور قابیل نے بھی قربانی دی تھی ۔۔سورۃ مائدہ:27)

ہر امّت میں قربانی کا عمل رہا ہے(سورۃ الحج: 34)،  چنانچہ دوسرے مذاہب میں بھی ہم کسی نہ  کسی شکل میں آج بھی اسے رائج پاتے ہیں۔

قربانی اﷲمتقیوں(جو اﷲہ سے ڈرتے اور اس کا کہا مانتے ہیں) کی قبول کرتا ہے(سورۃ مائدہ:27)

قربانی میں اﷲکو گوشت  اور نہ ہی خون چاہئے بلکہ صرف ہمارا تقویٰ پہنچتا ہے (الحج: 37)، ہمارے دل کی کیفیت،  ہمارا جذبہ، صرف الّلہ کی رضا کی خاطر کی گئ قربانی۔

قربانی کا ہی عمل تھا جس کے بعد اﷲنے حضرت ابراہیم ؑ کو سلام بھیجا تھا، یعنی ربِّ کائنات نے اپنے پیارے بندے کو سلام بھیجا  (سورۃ الصافات: 109)۔

حج کو فرض   کیا گیا ،جوبھی استطاعت رکھتے ہوں اورحضرت ابراہیم ؑ  کی یاد کو تا قیامت کے لئے زندہ رکھنے کا عمل بھی جاری کر دیا گیا (سورۃ آلِ عمران: 97)

ہر وہ شخص جو وسعت  (حیثیت) رکھتا ہو وہ ضرور قربانی کرے(مسنداحمد:4650)

عید الفطر میں ہم سب پہلے کچھ کھاتے ہیں پھر عید کی نماز کے لئے عید گاہ یا مسجد جاتے ہیں لیکن  عیدالاٴضحیٰ میں ہمیں پہلے نماز پڑھنے جانا ہے اور واپس آنے کے بعد کھانا ہے (مشکوٰۃ: 1440)

عید گاہ  ہر کسی کو جا نا چاہیئے (مرد، عورت ، بچّے سب ) اور ہمیں لے بھی جانا چاہئے، یہ خوشی کے اظہار کا دن بھی ہے۔ (مسند احمد: 2835)

قربانی آپ ﷺ نے حج کے علاوہ   ایک  بھیڑ (مینڈھا) یا دو بھیڑ ہی زیادہ تر دئے، اپنی طرف سے اور پوری امّت  میں ان لوگوں کی طرف سے جن لوگوں نے قربانی نہیں دی(ابو داؤد: 2810/ابن ماجہ: 3121 /مشکوٰۃ: 1461)

نماز سے پہلے اگر قربانی کر لی تو دوبارہ  نماز کے بعد قربانی کرنی ہوگی، نماز سے پہلے والی قربانی کا گوشت تو کھایا جا سکتا ہے لیکن قربانی  قبول نہیں ہوگی(بخاری شریف:985/ مشکوٰۃ: 1435)

قربانی  میں بڑے جانور میں سات  (7) لوگ تک شامل ہو سکتے ہیں(مسلم شریف: 3188)

رسولﷺ نے اپنی بیویوں (امّہات المومنین) کی طرف سےبھی قربانی دی ہے(بخاری شریف:1720)

قربانی کا گوشت:  کھایا جا سکتا ہے،  چند دنوں تک اسٹور بھی کر سکتے ہیں، غرباء مساکین  میں تقسیم بھی کر سکتے ہیں(بخاری شریف: 1720)

اب کچھ باتیں جس کا لحاظ ہمیں کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے:

قربانی ہم جس طرح کا چاہیں دیں لیکن اس میں نمائش (دکھاوا، ریاکاری)  سے پرہیز کریں ورنہ عمل ضائع ہو جائیگا، جب اﷲکی رضا مطلوب ہے تو  نفس کی تسکین نہیں بلکہ دل کا اطمینان چاہئے۔

خود جو کھائیں وہی دوسروں کو بھی کھلانے کی کوشش کرنی چاہیئے، عموماً کئ دفعہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ خود کے لئے چھوٹا جانور اور دوسروں کے لئے بڑا جانور (عموماً ایسی جگی بڑے جانور کی قربانی کو حقیر  سمجھا جاتا ہے، قولاً نہیں بلکہ عملاً)، ہاں زیادہ لوگوں تک تقسیم کرنا ہو تو مشکل ہے کہ اس پر عمل کیا جاپائے لیکن ایک  کوشش جہاں تک ممکن ہو ضرور کرنی چاہیے۔

عموماً ہر جگہ گوشت کے تین حصّے کئے جاتے ہیں یہ کوئ شرعی حکم نہیں ہے بلکہ صرف گوشت کی تقسیم کی غرض سے کیا جاتا ہے، اوراگر گھر ہی میں کھانے والے اتنے لوگ موجود ہوں تو پورا کا پورا   گوشت گھر ہی میں رکھا جا سکتا ہے، کوئ معیوب کی بات نہیں ہے۔

گوشت  تقسیم کرتے وقت سبھوں کو ایک ہی سائز  کا بنایا ہوا پیکیٹ نہ دیں ، بلکہ گھر اور لوگوں کی تعداد کو نظر میں رکھ کر  پیکیٹ دیں ، پیکٹ بڑا  یا   دو بھی دیا جا  سکتا ہے۔

رشتہ داروں میں جن کے یہاں قربانی نہیں ہوئ ہے ان کے یہاں دیں، ضروری نہیں ہے کہ بے وجہ ایک دوسرے کے یہاں گوشت بھیجے جائیں (جب کہ ہر گھر میں کافی گوشت پہلے سے موجود ہے)،   قدر کی جگہ گوشت پہنچائیں نا کہ رسم  کی جگہ۔

کچھ لوگ چھوٹا جانور مہنگا ہو نے کی وجہ سے بہت کم کھا پاتے ہیں، تو ایسے موقع پر جن کے یہاں چھوٹا جانور نہیں ہوا ہو اور عام دنوں میں بھی بہت کم ہی خریدتے ہوں تو ان گھروں میں (بجائے اس کے کہ جن کے یہاں ہو ا ہو) زیادہ سے زیادہ پہنچانے کی کوشش کریں، جتنا بھی ممکن ہو پائے، ایک دو گھر ہی سہی۔

یہ جو رسم چل نکلی ہے بہت سے ناموں کی قربانی کی ( یاد رہے رسولﷺ نےبیشتر ایک یا  دو ہی بھیڑ قربانی میں دی ہے اپنی اور پوری امت کی طرف سے)،  اس رسم کی وجہ سے دن بدن پریشانیاں بڑھ رہی ہیں، جب کوئ بھی عبادت رسم بن جاتی ہے تو پھر اس میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جیسے: ریاکاری/دکھاوا/نمائش،  بوجھ لکنے لگتا ہے، لوگ  عبادت نہیں کرتے بلکہ رسم ڈھوتے ہیں، روح ختم ہو جاتی ہے بس ظاہری  عمل رہ جاتا ہے)۔

جتنی ضرورت ہو (صاحبِ استطاعت، اپنی  اور سماج کی ضرورت)  اور بہ آسانی معاشی بوجھ اٹھایا جا سکے اتنا ہی کیا جا ئے ،   دیکھئے سماج میں اور لوگ بھی رہتے ہیں اگر ہم نے اپنے گھر میں موجود سبھوں کے نام سے، اپنے مرحوموں (جن کا انتقال ہوگیا) کے نام سے ہر سال قربانی دینی شروع  کردی تو دوسروں کے  اپنے بھی تو اپنے ہیں،  دل میں خواہشیں  ضرور مچلیں گی،  کسک جگتی ہوگی  ، دوسری طرف  ہم شان سے کہتے پھرتے ہیں کہ۔۔ ہم نے اتنا حصہ دیا ہے۔۔۔ہم نے اتنا چھوٹے میں اور اتنا بڑے میں دیا ہے۔۔۔۔ہم تو بس چھوٹا ہی جانور کرتے ہیں۔۔ہم نے تو اتنے قیمت  کا دیا ہے۔۔بچّے بھی آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں،  ان کے دوستوں میں غریب اور امیر سب ہوتے ہیں۔۔۔عورتیں بھی  ایسا خوب کرتی ہیں۔۔۔۔کوئ احساسِ برتری کا شکار رہتا ہے تو کوئ احساسِ کمتری کا۔۔۔یہ سب “دین”  بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔ثواب کا یا کسی خیر کا تصوّر  اس طرح سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔

رضا الٰہی ، ثواب کا تعلّق قربانی کے جانور (چھوٹا ، بڑا )، جانور کی قیمت  یا قربانی کے حصّے کی تعداد (نمبر) سے نہیں ہے کہ کسی نے چھوٹا دیا  یا مہنگا دیا   یا   دس حصے دے دئے تو وہ اﷲ کا زیادہ مقرّب ہو گیا  اور کسی نے ایک دیا تو وہ کم ثواب کا مستحق قرار پایا۔۔۔یا کسی نے ایک حصے دئے (حسبِ استطاعت) تو اس گھر کے باقی لوگوں کو ثواب کم ملا۔۔۔

اﷲ ہم سب کی قربانیوں کو قبولیت بخشے۔۔آمین۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر