کم عمر بچوں کے لیے آن لائن کلاس نقصان دہ ہے

Signs It's Time to Buy a New PC - Business News Daily

خان مبشرہ فردوس اورنگ آباد مہارشٹر
کل تک جو تعلیمی ماہرین اساتذہ اور ویل ایجوکیٹیڈ والدین یہ کہا کرتے تھے کہ بچوں کے ہاتھ میں ڈیوائس نہ دیں بچوں کے لیے نقصاندہ ہے ۔۔آج اچانک اس کے نقصان کو بھول کر بچوں کی آن لائن کلاس کے حق میں ہیں ۔
14 سال سے کم عمر بچوں کی یہ کیفیت قابل رشک نہیں قابل رحم ہے ۔بچوں کی تعلیم کے لیے فکر مندبچوں کی ترقی کےلیے ہر مصروفیت پربچوں کو ترجیح دینے والے والدین ان کے مستقبل کے لیے کیا بہتر کررہے اور کیا برا وہ اس بات سے نابلد ہیں ۔تین گھنٹے مستقل ایک پوزیشن میں سکرین کے سامنے بیٹھے یہ معصوم بچے نہ صرف یہ کہ جسمانی تھکن محسوس کررہے ہیں بلکہ دماغی فٹیگ دماغی تھکن کا بھی شکار ہیں ۔پرائیویٹ اسکولز اپنی بقا کے لیے یا فیس کلیکشن کے لیے یہ تو اعلان کرچکے ہیں کہ آن لائن کلاس ہوگی ۔جو انتظامیہ بچوں کی بہی خواہی کا دعوی کرتی ہے وہ اس بات کو نظر انداز کررہی ہے کہ یہ طریقہ کار بچوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔
جو والدین اپنے بچوں کی ترقی کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں کچھ دیر سوچیں کیا ہم بچوں کے حق میں اچھا کام کررہے ہیں ۔۔؟؟ضروری نہیں نصاب مکمل ہو لازم نہیں کہ کلاس روم ہی میں پڑھائی ہو ۔ صحت تباہ ہوجائے یا اخلاق برباد پھر اس تعلیم کا کیا حاصل ہم سبھی انٹرنیٹ کی دنیا اور اس ڈیوائس کے استعمالات سے اچھی طرح واقف ہیں ۔
یہ سیلف لرنگ ہے آپ نے یوز کرنا سکھایا بات ختم اسکے بعد کچے اذہان سیلف لرنگ میں کس راہ پر نکلیں گے آپ کے اندازے سے پرے ہے ۔ہوسکتا ہے تعمیر ہو ہوسکتا ہے شخصیت تباہ ہو ۔تاہم صحت تو بہر صورت تباہ ہوگی ۔اول تو گوگل میٹ اور زوم پر حالت یہ ہے کہ اکثر ٹیچر ہی کا نیٹورک جواب دے دیتا ہے ۔تین گھنٹے تک بچے منتظر ہوتے ہیں ۔ ایسی صورت میں ایجوکیشن ہو تو بچہ کی نگرانی کا مسئلہ نہ صرف یہ بلکہ گوگل میٹ کے آف ہوتے ہی وہ چیٹ بھی ڈلیٹ ہوجاتی ہے جو بچوں نے ٹیچر کی غیر موجودگی میں کی ہے ساتھ ہی کیا یہ بچے جو ان دنوں میں ڈیوائس کے عادی ہوں گے اور ویڈیو کال کے کیا وہ دوبارہ لوٹ پائیں گے ۔۔۔؟؟ ماہرین سے مشورہ کریں سکرین کا عادی شخص عادت نہیں چھوڑ پاتا ۔انتظامیہ کو چاہیے کہ ۔۔۔بچوں کے دماغ کو اس دباؤ سے نکال کر اسکول انتظامیہ والدین کے لیے ویڈیو بنائیں والدین کو ٹاسک دیں کہ آپ کو اپنے بچوں کو گھر میں یہ تجربہ کروانا ہے ۔
آج یہ پروجیکٹ بنوانا ہے ۔۔ یہ ٹیٹوریل آپ سیکھیں اور انہیں سکھائیں والدین کو آن لائن suggestions دیں اپنے کنٹینٹ کو تجرباتی شکل میں ڈھال کر والدین سے کروائیں ۔والدین کو بچوں کی تعلیم و تربیت کے قابل بنا بھی بہی خواہی ہی ہے۔جو لکیر کے فقیر استاذ اس ناگہانی مصیبت میں اپنی تدریس کے زاویے نہ بدل سکیں وہ بھلا کیا آپ کے بچوں کو زندگی کے حالات سے نبردآزما ہونا سکھائیں گے ۔؟زبانی مائیں قران کی آیات یاد کروائیں ۔۔۔اخلاقیات کا درس دیں ۔۔پیغمبروں کے قصہ سنائیں ۔۔ڈرائینگ کروائیں ۔۔ تعلیم تاش کھیلیں ۔۔۔لیکن ڈیوائس کم عمری میں ان کے ہاتھ نہ پکڑوائیں ۔۔ اگر وہ کام میں مدد کرتے ہیں تویہ بھی تعلیم ہے تصور میں ہمارے گھر کے بچے ہیں جنہوں نے لاک ڈاون میں پہلی مرتبہ ڈیوائس کو ہاتھ لگایا دودن کے تماشے کے بعد ہم نے توبہ کرلی ۔۔۔اب آپ کی باری ہے ۔۔ہم نے محسوس کیا سو بتادیا آگے بچہ آپ کامرضی آپ کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر