رشتوں کی حیثیت،حقیقت اوراہمیت کو جانئے :یہ کتنی اہم عبادت ہے!

ااپ

 

ابونصر فاروق: رابطہ:8298104514

رشتہ داری کی اہمیت:
(۱) حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:بدلہ چکانے والا صلہ رحمی کرنے (رشتے نبھانے ) والانہیںہے۔ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اُس سے رشتہ داری توڑی جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔(بخاری)
(۲) ایک آمی نے رسول اللہﷺ سے کہا میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں اُن کے ساتھ نیکی کرتا ہوں، لیکن وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں، میں اُن کے ساتھ درگزر (معاف کرنے)کا رویہ اپناتا ہوں لیکن وہ گنوارپن دکھاتے ہیں۔ نبیﷺنے فرمایا:اگر تو ایساہی ہے جیساتو کہہ رہا ہے تو،تو اُن کے چہرے پر راکھ مل رہا ہے۔اللہ کی طرف سے تیرے لئے ایک مددگار مقرر ہوگا جو اُن کی شرارتوںسے تیری حفاظت کرتا رہے گا۔(مسلم)
(۳) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا جب وہ اُسے مکمل کرچکا تو رشتہ داری اٹھی اور رحمن کی کمر پکڑ لی۔رحمن نے اُس سے پوچھا کیا چاہتی ہے؟ وہ بولی رشتہ داری کو کاٹنے والوں کی شرارت سے میں تیری پناہ چاہتی ہوں۔ رحمن نے کہا، کیا تجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں(اپنی رحمت سے) اُسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اُس سے اپنا تعلق ختم کر لوں گا جو تجھے کاٹے گا۔رشتہ داری نے عرض کیا ہاں (میں اسے پسند کرتی ہوں) اے میر ے رب۔رحمن نے کہا یہ تیر ے لئے ہے۔(بخاری)
(۴) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی اس کو پسند کرتا ہے کہ اُس کا رزق بڑھایا جائے اور اُس کی عمر زیادہ کی جائے تو وہ اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔(مسلم)
اوپر رشتہ داری کے متعلق مسلم اور بخاری کی چار حدیثیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی حدیث میں نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ حسن سلوک نہیںکرنے والے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اصل رشتے داری نبھاناہے۔
دوسری حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا کہ رشتہ داروں کی برائی کے بعد بھی کوئی اگر رشتے داری نبھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کے لئے ایک ایسا مددگار(فرشتہ) مقرر کردیتا ہے جواُس کے برا چاہنے والوں سے اُس کی حفاظت کرتا ہے۔
تیسری حدیث میںبتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب رشتہ داری کو پیدا کیا تو اُس کی فریادپر اُسے یقین دلایا کہ جو تجھ سے رشتہ توڑے گا میں اپنی رحمت کا رشتہ اُس سے توڑ لوں گا۔یعنی جو انسان اپنے رشتہ داروںسے منہ موڑ لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔
چوتھی حدیث میں کہا یا کہ رشتہ داری کے حقوق ادا کرنے سے عمر اور روزی دونوں میں برکت ہوتی ہے۔کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جو ان دونوں چیزوں کا شوق اور چاہنے والا نہ ہو ؟ عمر اور روزی میں برکت کا نسخہ نبیﷺ کی جگہ کسی اور سے سیکھنا کیا ایمان کی علامت ہے ؟
کیا آج کے مسلمانوں نے یہ حدیثیں پڑھی ہیں ؟ نہیں پڑھی ہیں۔اگر انہوں نے پڑھا ہوتا تو کورونا کے دور میں اپنے رشتہ داروں سے بے تعلق اور بیگانے نہیں ہو جاتے۔ان بدنصیبوں کو نہیں معلوم کہ جب کورونا کی آفت میں وہ اللہ کی رحمت کے سب سے زیادہ ضرورت مند تھے، اُنہوں نے اپنے لئے اللہ کی رحمت کے دروازے بند کر لئے اور اپنی بد عقلی سے اپنے آپ کو پوری طرح کورونا کے حوالے کر دیا۔
رشتہ داری نہیں رہی:
(۱) کشتی اُن لوگوں کو لئے چلی جارہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر کھڑا تھا۔نوح نے کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ۔ اُس نے پلٹ کر جواب دیا،میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے بچالے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان آ گئی اور وہ(لڑکا) بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔ حکم ہوا ،اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا،اور اے آسمان رک جا۔ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا۔ کشتی جودی(پہاڑ) پرٹک گئی اور کہہ دیا گیا دور ہوئی ظالموں کی قوم۔نوح نے اپنے رب کو پکارا۔ کہا اے رب میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے۔تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔جواب میں ارشاد ہوا، اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے۔لہذا تو مجھ سے اُس بات کی درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا۔ میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔نوح نے فوراً عرض کیا، اے میرے رب، میں تیری پناہ منگتاہوں اس سے کہ وہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے معاف نہیں فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا۔‘‘(ہود:۴۲/۴۷)
نوح علیہ السلام کا بیٹا چونکہ اللہ کو اور نبی کے دین کو نہیں مانتا تھا، اس لئے نبی کا بیٹا ہونے کے بعد بھی عذاب میں پڑ گیا۔باپ کی دعا بھی بیٹے کے کام نہ آئی۔آج کل مسلمان اس پر فخر کرتے ہیں کہ وہ نبی کے رشتے دار ہیں۔فلا بزرگ کے اعلیٰ خاندان سے رشتے داری رکھتے ہیں۔آفت اور عذاب اُن کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔کیا یہ سب جاہلوں جیسی باتیں نہیں ہیں۔قرآن اور حدیث کے خلاف نہیں ہیں۔جو لوگ ان کو مانتے ہیں، ان کا چرچا کرتے ہیں، ان پر فخر جتاتے ہیں،وہ ایمان والے ہیں یا کافر ؟
(۲) ’’اورلوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا، کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو کہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو… … بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی……بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیاانجام ہوا؟‘‘ (اعراف: ۸۰/۸۴)
لوط علیہ السلام کی بیوی بھی نوح علیہ السلام کے بیٹے کی طرح اپنی قوم کے ساتھ عذاب کا شکار ہو گئی ۔اس لئے کہ اُس کی ہمدردی اور تعلق اپنے شوہر نبی سے نہیں اپنی گمراہ اور نافرمان قوم کے ساتھ تھی۔
معلوم ہوا کہ دین پسند انسان کی رشتہ داری بے دین انسانوں سے نہیں ہوتی ہے۔دین پسند اللہ کا پیارا ہے اور بے دین انسان اللہ کے نزدیک کافر و مشرک ہے۔ایمان اور کفر میں رشتہ داری نہیں ہوتی ہے۔بے دین رشتہ داروںکی برے وقت میں مدد تو کرنی چاہئے کیونکہ نیکی کرنے میں ایمان اور کفر کا فرق کرنے کو نہیں کہا گیا ہے۔ لیکن دنیا داری نبھانے کی خاطراُن سے محبت اور تعلق رکھنا عذا ب کو دعوت دینا ہے۔لوط علیہ السلام کی بیوی کا یہی جرم تھا کہ اُس نے اپنی کافر قوم کا ساتھ دیا تھا۔
قیامت میں بے دین شتہ داروںکا رویہ:
(۱) اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔(۱۰) حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولا دکو۔(۱۱) اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو۔(۱۲) اپنے قریب ترین خاندان کو جو اُسے پناہ دینے والا تھا۔(۱۳) اور زمین پر رہنے والے سب لوگوںکو فدیہ میں دے دے اوریہ تدبیر اسے نجات دلا دے۔(۱۴) ہرگز نہیں، وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی۔(۱۵) جو گوشت اورچمڑے کو چاٹ جائے گی۔(۱۶) پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری۔(۱۷) اورمال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔(المعارج:۱۰تا۱۸)
(۲) آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آوازبلند ہوگی۔(۳۳) اُس روز آدمی اپنے بھائی سے(۳۴) اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے(۳۵) اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹے سے بھاگے گا(۳۶)اُن میں سے ہر شخص پر اُس دن ایسا وقت آ پڑ ے گا کہ اُسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔(عبس:۳۳تا۳۷)
قرآن و احادیث کے اس انتخاب سے معلوم ہوا کہ محتاج، نادار اور معذور رشتہ داروں کی خبر گیری، خیر خواہی،امداد اور اُن سے جڑے رہنا ایسی اعلیٰ عبادت ہے جس کا اجر و انعام دنیا میں بھی شاندار ملتا ہے اور آخرت میں بھی قابل قدر ملے گا۔جو دنیا پرست اس اعلیٰ عبادت سے محروم ہیں،اللہ کے نافرمان ، باغی،غدار،بے وفائی کرنے والے،ایسے لوگ اپنے جگری دوست اور قریب ترین رشتہ داروں کوقیامت میں نہیں پہچانیں گے، اُن سے منہ موڑ لیں گے۔حق تلفی کا جو گناہ اُنہوں نے کیا ہے اُس کے سبب اپنے بدلے میںاُن کو دے فدیے میں دے کر خود عذاب سے بچانا چاہیں گے۔لیکن وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔رشتہ داروں حق تلفی کرنا نبیﷺ کے فرمان کی بھی ان دیکھی کرنا ہے، ا س لئے ایسے بدنصیبوں کو اُن کی شفاعت بھی نصیب نہیں ہوگی۔
دنیا میں دوستی کس طرح کے لوگوں سے کرنی چاہئے اس سلسلے میں نبیﷺ کا فرمان ہے:حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔دوستی قائم کرنے سے پہلے دیکھ لینا چاہئے کہ تم دوستی کس سے کر رہے ہو۔(مسند احمد) یعنی دین پسند لوگوں کی دوستی بے دین لوگوں سے نہیں ہونی چاہئے، ورنہ اندیشہ ہے کہ بے دین دوست دین پسند دوست کو بے دین بنا دیں گے۔
یہ ساری باتیں اُن لوگوں کے لئے فائدہ مندہیں جو آخرت پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں،اور زندگی کا عمل دنیا کے ساتھ آخرت کی بھلائی اور کامیابی کے لئے کرتے ہیں۔جو لوگ آخرت کے متعلق نہ جانتے ہیں نہ ہی اُن کو آخرت کی کوئی فکر ہے،اُن دنیا دار لوگوں کو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی ہے۔قرآن اور فرمان رسولﷺ کے مطابق ایسے لوگ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوکر بھی مسلمان نہیں بنے بلکہ کافر ، مشرک اور منافق کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔اُن کے لئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور غلامی کا عذاب ہے اورآخرت میں جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اُن کا انتظار کر رہی ہے۔صارمؔ عظیم آبادی اس سلسلے میںکہتے ہیں:
رشتوں کو نبھانے کا چلن بھول گئے ہیں
فرض اپنا یہ دنیا میں مگن بھول گئے ہیں
انجام برا زاغ و زغن بھول گئے ہیں
ایمان پر ان کے ہے گرہن بھول گئے ہیں
ضضضضض
موت کا پیغام جس دن جس گھڑی آ جائے گا
چھوڑ کر ہر چیز ناداں ہاتھ خالی جائے گا
بھولنے والا خدا کو ، ہم نشیں شیطان کا
سوچئے انجام کیا ہے ایسے بد انسان کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر