اُردو جرنلزم اور روزگار کے مواقع

bangla-newspaper

مصطفیٰ علی سروری

غیر جانبدار مورخین اور دانشور حضرات اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اوریہ ایک حقیقت بھی ہے کہ جد جہد آزادی کی تحریک میں اردو صحافت نے ہراول دستے کا رول نبھایا ہے۔ لیکن ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا جب ملک کی تاریخ مرتب کی گئی اور نصاب میں جد و جہد آزادی کا باب شامل کیا گیا تو اس میں اردو صحافت کی خدمات کے باب کو بری طرح نظر انداز کردیاگیا۔ اردو زبان کے ساتھ سب سے بڑی سیاست یہ بھی کھیلی گئی کہ پاکستان نے جب اردو کو اپنے ملک کی سرکاری زبان قرار دیا تو ہندوستان میں اردو زبان کو اس طرح سرکاری سرپرستی سے محروم کردیا گیا جیسے یہ کوئی دشمن ملک کی پرائی شئے ہو۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں ایک علاقائی زبان میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کا کامیاب تجربہ کرنے والی جامعہ عثمانیہ سے اردو ذریعہ تعلیم کو یکلخت برخواست کردیا گیا۔ اردو زبان کے ساتھ کئے جانے والے اسی برتاؤ کے سبب آزادی کے بعد ہوش سنبھالنے والی کوئی بھی نسل اردو زبان اور اردو صحافت کے اس تاریخی رول سے بالکل ہی ناواقف ہے جو کہ ملک کو آزادی دلانے کے لئے اردو صحافیوں اور اردو جرنلزم نے ادا کیا تھا۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی کے لئے اگر کسی صحافی نے سب سے پہلے جام شہادت نوش کیا تھا تو وہ انگریزی یا ہندی کا نہیں بلکہ اردو اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ جن کانام مولوی محمد باقر تھا۔ جنہوں نے بہ حیثیت مدیر دہلی اردواخبار کے ذریعے جدوجہد آزادی کی تحریک کو فروغ دیا۔ اور انگریزوں کے مظالم کا شکار ہوکر اپنی جان آفرین پیش کی۔ اور اردو کے پہلے شہید صحافی کہلائے۔ تاریخ سے لا علمی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہم اردو اخبار کے مقابلے اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں میں انگریزی کا کوئی اخبار ہو۔ اور ہم اپنے ذہنوں کو بھی انگریزی یا کسی اور زبان کے اخبار کی خبروں کے اعتبار سے تیار کرتے ہیں۔ اور اردو اخبار اور اردو صحافت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جیسا کہ اس کا مقام ہے۔
اس صورتحال اور پس منظر کے باجود اکیسویں صدی کے موجودہ دور میں اردو صحافت اردو میڈیم طلبا کے لئے بے شمار مواقع رکھتی ہے۔ قبل اس کے کہ میں اردو صحافت کے مواقع پر مزید روشنی ڈالوں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اردو صحافت کی موجودہ صورتحا ل کے متعلق مختصراً بیان کردوں۔ آج ہمارے ملک ہندوستان میں نا مساعد حالات اور ناموافق پالیسیوں کے باوجود اردو صحافت انگریزی اور ہندی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ اردو صحافت میں روزنامے ‘ ہفت روزہ‘ پندرہ روزہ ماہنامے وغیرہ شامل ہیں۔ صرف پرنٹ(ورقی صحافت) کے زمرے میں ہی نہیں بلکہ جب ہم الیکٹرانک میڈیا( برقی صحافت) کے میدان کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہاں پر بھی اردو دیگر کسی بھی ہندوستانی زبان سے پیچھے نہیں ۔ خاص کر اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے اردو کے دامن کو بھی وسیع کردیا۔ آج گوگل سرچ انجن میں اردو ٹائپ کرکے ہم تلاش کریں تو ہمیں اردو زبان میں خبریں ہی نہیں دیگر موضوعات جیسے کھیل کود‘ تفریح‘تاریخ‘نصابی و غیر نصابی بے شمار موضوعات پر معلوماتی مواد ملے گا۔ دنیا کے تقریباً 20ممالک جیسے امریکہ ‘برطانیہ‘جاپان‘جرمنی‘ کویت‘ ہندوستان و پاکستان و دیگر ممالک سے اردو میں ریڈیو نشریات پیش ہورہی ہیں۔ ریڈیو ڈوئجے ویلے کولون ‘بی بی سی لندن وغیرہ چند نام ہیں۔ ہندوستان میں ٹیلی ویژن کے زمرے میں دوردرشن کے اردو چیانل سے لے کر ای ٹی وی اردو اور مقامی سطح پر دکھائے جانے والے اردو کے بے شمار کیب چینل اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو زبان جاننے والوں کے لئے موجود ہ اکیسویں صدی میں مواقع محدود نہیں بلکہ بڑھے ہوئے ہیں۔

اردو میڈیا کا طویل عرصے سے مطالبہ بھی تھا بدلتے ہوئے حالات کے تقاضے بھی تھے جس کے مد نظر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اپنے قیام کے اندرون 6سال اردو میڈیا کی ایک اہم ضرورت ’’ تربیت یافتہ‘‘ افرادی قوت کی فراہمی کا بیڑہ اٹھایا۔ اور یوں سال 2004ء میں ماسٹرس ان کمیونیکیشن اینڈ جرنلزم(ایم سی جے) کورس کاشعبہ ترسیل عامہ و ذرائع ابلاغ کے تحت آغاز عمل میں لایا گیا۔ ابتداء سے ہی جرنلزم کے اس پوسٹ گرائیجویٹ کورس کی ملک بھر میں مانگ رہی۔ اور اس کورس کی کامیابی کا ایک سب سے بڑا اور اہم ثبوت یہ ہے کہ شعبہ جرنلزم سے فارغ التحصیل تمام بیچس کے طلباء کسی نہ کسی میڈیا گھرانے اور ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں میں برسرکار ہیں۔ یہی نہیں آل انڈیا ریڈیو کے یواوانی اردو سیکشن سے لیکر دوردرشن کے اردو پروگراموں اور نیوز سیکشن کا معاملہ ہو کہ ای ٹی وی اردو یا مقامی کیبل چینلس کے ذمہ دار ہر دو تین ماہ مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت (ماس میڈیا اینڈ جرنلزم ) سے رجوع ہوتے ہیں۔ اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ادارے سے کامیاب طلباء کے لئے ہمارے اداروں میں روزگار کے مواقع ہیں۔ براہ کرم انہیں ہمارے ادارے میں کام کے لئے روانہ کریں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ میں داخلہ لینے والے طلبا کے ہجوم کا یہ عالم ہے کہ شعبہ میں جرنلزم کے کورس میں صرف 31نشستیں ہیں۔ اور داخلے کے خواہش مند طلبا کی تعداد اس سے کہیں ذیادہ رہتی ہے۔ ان خواہش مند امیدواروں کا تعلق صرف ریاست آندھرا پردیش سے ہی نہیں ہوتا بلکہ ملک کے بیشتر علاقوں جیسے جموں و کشمیر‘بہار‘یوپی‘کرناٹک اور کیرالا کے طلباء بھی جرنلزم کورس میں داخلے کے لئے آرہے ہیں۔ایم سی جے کے دوسالہ کورس کا ڈھانچہ چار سمسٹر پر مشتمل ہے۔ جس کی کل فیس تقریباً 12ہزار روپے مقرر ہے۔ لیکن طلبا کو اس کورس کے دوران سب سے بڑی سہولت یہ حاصل ہوتی ہے کہ کورس کی فیس ان پر بوجھ نہیں بنتی ۔ اور یونیورسٹی کی جانب سے حاضری کی بنیاد پر ہر طالب علم کو ماہانہ ایک ہزار روپے اسکالر شپ دیتی ہے۔ یوں تعطیلات کو چھوڑ کر دو سال کے دوران فی طالب علم 20ہزار روپے اسکالر شپ کے طور پر مل جاتے ہیں۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران ای ٹی وی اردو نے ایم سی جے کے طلبا ء کے لئے آن کیمپس ریکروٹمنٹ منعقد کیا۔ جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم سی جے کورس کی مارکیٹ میں ذبردست مانگ ہے۔

صرف ٹیلی ویژن ہی نہیں ریڈیو‘ اخبارات ‘رسائل و جرائد انڈین انفارمیشن سرویس‘پبلک ریلیشن آفیسر‘غیر سرکاری تنظمیوں ‘این جی اوز کے علاوہ اشتہارات کے شعبے میں بھی ایم سی جے کامیاب طلبا کے لئے روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ ابھی سال 2012ء میں کل ہند سطح کے اہلیتی امتحان برائے انڈین انفارمیشن سرویس میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے جرنلزم کا کورس مکمل کرنے والے دو طلباء کا انتخاب عمل میں آیا۔ ایسے ہی شعبہ جرنلزم سے فارغ ایک طالب علم کو جموں و کشمیر کے ضلع کارگل میں ریاستی حکومت کے لئے بہ حیثیت انفارمیشن آفیسر کام کرنے کا موقع ملا۔ اردو میڈیم سے جرنلزم کورس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں داخلے کے لئے ہر سال طلباء کا ہجوم بڑھتا ہی جارہا ہے۔کورس میں داخلہ بذریعے اہلیتی امتحان ہوتا ہے۔ ملک بھر میں دہلی‘سری نگر‘پٹنہ کے علاوہ حیدرآباد میں واقع مراکز پر یہ امتحان ہوتا ہے۔جرنلزم کورس میں ترسیل کا تعارف‘حالات حاضرہ‘رپورٹنگ و ایڈیٹنگ‘ترسیلی نظریات‘میڈیا کی تاریخ‘ضابطہ اخلاق‘کمیونیکیشن‘انگریزی اردو میڈیا‘صحافتی تراجم‘اشتہارات‘تعارف اور نظریات‘ٹیلی ویژن نیوز پروڈکشن‘ٹیلی ویژن ایڈیٹنگ‘ریڈیو رپورٹنگ‘ ٹیلی ویژن رپورٹنگ‘تعلقات عامہ‘تعریف و نظریات جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
اردو یونیورسٹی سے جرنلز م کا کورس کرنے والے طلباء کو دوران تعلیم میڈیا گھرانوں میں عملی تربیت کے لئے انٹرن شپ کے لئے بھیجا جاتاہے۔ جس کی بدولت طلبا کو زمانہ طالب علمی میں ہی صحافتی اداروں کے انداز کار سے واقفیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کے لئے ہر مہینے کم از کم چار اکسٹرنل ایکسپرٹ کو جو کہ میڈیا کے مختلف شعبوں میں برسر کار رہتے ہیں طلبا سے تبادلہ خیال کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ جس سے طلبا کو نظریاتی تعلیم کے علاوہ صحافتی شعبے کے عملی چیالنجس سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کورس کے دوران طلبا کو پرنٹ میڈیا کی رپورٹنگ کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ تجرباتی اخبار ( Lab Journal)’’ اظہار‘‘ پر کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں تربیت کے لئے ریڈیو پروگرام بنانے اور ٹیلی ویژن پروگراموں کی تیاری کے لئے عملی تربیت کی خاطر ڈاکیو منٹری کی تیاری کا کام کروایا جاتا ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ ترسیل عامہ و صحافت انٹرنیشنل میڈیا سنٹر سے جڑا ہوا ہے۔ جس میں ایک عصری اسٹوڈیو ‘ملٹی کیمرہ سیٹ اپ سے لے کر آن لائین ایڈیٹنگ جیسی سہولتیں میسر ہیں۔ جس سے طلبا کو کورس کے دوران میں عملی میدان کو سمجھنے اور مشق کرنے کی سہولت ملتی ہے۔اردو یونیورسٹی سے جرنلز م کا کورس مکمل کرنے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ طالب علم صرف اردو میڈیا کا ہی رخ کرے۔ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں طلبا نے اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے اخبارات ‘ٹیلی ویژن چیانلس ‘نیوز ویب سائٹس میں کام کرنا شروع کیا۔ کیونکہ آج قومی میڈیا کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا کہ مسلمان اس ملک میں مسائل سے دوچار ہیں۔ اور ترقی کے سفر میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ جسٹس سچر نے اپنی تحقیقی تجزیاتی رپورٹ میں واضح کردیا کہ ہندوستان کی بہ حیثیت مجموعی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان بھی ترقی کے اس سفر میں شامل رہیں۔ میڈیا کو احساس ہو چلا ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہئے۔ اس مسلمانوں کے مسائل کی بہتر ترجمانی ایک مسلم کمیونیٹی کا فرد ہی کر سکتا ہے۔ اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ سبھی میڈیا گھرانوں ‘اخبارات‘ٹی وی چیانلس اور ویپ پورٹلس پر بھی ہمیں مسلم نام دکھائی دینے لگے ہیں۔ جس اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈیا میں اردو والوں اور مسلمانوں کے لئے جگہ ہے۔ چونکہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت یعنی مسلمانوں کی مادری زبان اردو ہے اور جو اس زبان سے واقف ہوگا وہی اس قوم کی صحیح ترجمانی کرے گا۔ اس پس منظر میں اردو یونیورسٹی کا جرنلز م کورس ارد و طلبا کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ۔ امید ہیکہ شہر نظام آباد اور دوسرے علاقوں کے لوگ عصر حاضر کے چیلنجس سے نمٹنے اور اپنے لئے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر میں اردو اور صحافت کے ان مواقع سے ضرور استفادہ کریں گے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ طلباء اخبارات کا مطالعہ کریں۔ یونیورسٹیوں کے ویب سائٹ دیکھتے رہیں۔ اور درکار سہولتوں سے استفادہ کریں۔

(20/ستمبر 2014 کو شعبہ اردو گری راج گورنمنٹ کالج نظام آباد [تلنگانہ] کے ایک روزہ قومی سمینار بعنوان “اردو ادب تہذیبی قدریں، ماضی حال اور مستقبل” میں یہ مقالہ پیش کیا گیا۔)
***
پروفیسر مصطفیٰ علی سروری
اسوسی ایٹ پروفیسر ، ڈپارٹمنٹ آف ماس کمیونکیشن اور جرنلزم ، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد۔
sarwari829[@]yahoo.com
موبائل : 9848023752

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر