سعودی عرب : پسماندہ ماضی، آسودہ حال اور امید افزا مستقبل

Saudi-Reyal

آصف نواز،نئی دہلی
آج سعودی عرب کی 91ویں یوم تاسیس ہے ۔اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج تیسری سعودی ریاست کی تاسیس کے دن کی سالگرہ ہے جو 23 ستمبر 1932 کو عمل میں آیاتھا۔ آج ہی کے دن جدید سعودی ریاست کے پہلے فرمانروا شاہ عبدالعزیز (1875-1953) کے ایک شاہی فرمان کے ذریعے جزیرہ عرب کے اس حصہ کا نام “مملکت نجد و حجاز” سے بدل کر “مملکت سعودی عرب “رکھ دیا گیا تھا جو انہوںنے اپنے جد امجد (چھٹی پشت) یعنی “پہلی سعودی ریاست” (1744-1818) کے بانی “محمد” (1727-1765) کے والد “سعود” (1640-1736) کے نام پر رکھا تھا۔ پورا شجرۂ نسب کچھ ایسے ہے : عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل بن ترکی بن عبداللہ بن محمد بن سعود۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جزیرہ عرب کے اس پورے حصہ یعنی موجودہ سعودی عرب پر آل سعود کا قبضہ 1932 سے بھی سات سال پہلے ہی ہو گیا تھا، جب آل سعود نے 1925 میں شریف مکہ و شاہ حجازعلی بن حسین بن علی (1879-1935) کی “ہاشمی مملکت حجاز” کوختم کردیا تھا۔ سن 1932 کو تو سعودی تاریخ میں بطور خاص تیسری سعودی ریاست کے استحکام اور ساری علاقائی اکائیوں کو اتحاد کی ایک لڑی میں پیرو دینے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ورنہ تو تیسرے سعودی ریاست کے قیام کا آغاز تو 1902 میں ریاض پر دوبارہ قبضہ کرنے سے ہی شروع ہوگیا تھا جس کے بعد ہی آل سعود کی نجد میں واپسی ہوئی تھی اور پھر کچھ سالوں بعد 1921 میں آل رشید کو بھی شکست دے کر آل سعود نےنجد پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔
جہاں تک “پہلی سعودی ریاست” کی بات ہے تو وہ 1744 سے 1818 کے درمیان قائم رہی اور “دوسری سعودی ریاست” 1824 سے 1891 کے درمیان تھی۔ پہلی، دوسری اور تیسری سعودی ریاست سے مراد یہ ہے کہ 1744 اور 1932/1902 کے درمیان تین مرتبہ مختلف اوقات میں آل سعود کی حکومت بنی، کچھ سال چلی اور پھر ختم ہو گئی۔ پہلی سعودی ریاست کا خاتمہ 1818 میں “عثمانیوں” کے ہاتھوں ہوا جبکہ دوسری سعودی ریاست جنگ “ملیداء ” میں آل رشید کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ختم ہو ئی ۔
آل سعود کی تاریخ کے سلسلے میں مشہور بیانیہ یہی ہے کہ یہ خاندان 1744 سے (وسطی) جزیرۂ عرب کے کسی نہ کسی حصہ پر بطور حکمراں رہا ہے ۔ جبکہ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے اور خود آل سعود کا بھی یہی دعوی ہے کہ وہ پچھلے چھ سو(600) سال سے ریاض کے ایک قصبه ”درعیہ“ سے اس خطے میں حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ چند سال پہلے سابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر (جو فی الحال وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہیں) نے بھی ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے یہی دعوی کیا تھا ۔ اب اگر ہم تاریخی حوالوں کو دیکھیں تو آل سعود کے مورث اعلی کے طورپر پندرہویں صدی عیسوی کی ایک شخصیت “مانع بن ربیعه المریدی” (1400-1463) کا نام ملتا ہے جن کے بارے میں غالب گمان ہے کہ انہوں نے ہی 1446 میں “درعیہ” کی پہلی امارت/ریاست قائم کی تھی۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو 600 سو سالہ حکمرانی کا تاریخی ورثہ رکھنے کا آل سعود کا دعوی سچ سے قریب تر لگتا ہے۔ لیکن چونکہ پندرہویں، سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی کے درمیان یعنی مانع بن ربیعہ (1400-1463) سےلےکر سعود بن محمد (1640-1736) کے درمیان کی نسلوں کے نام تو ملتے ہیں مگر ان کے احوال و کوائف کا کچھ خاص ذکر نہیں ملتا ، سوائے اس بات کے کہ اس مدت میں ان کے یہاں آپسی جنگ و جدال کافی زیادہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تاریخی تفصیلات قلمبند ہو کر دنیا کے سامنے نہ آسکیں۔
یہ بات اہم ہے کہ آل سعود کی جزیرۂ عرب سے حکمرانی کو تین سو سالہ قدیم مانیں یا چھ سو سالہ اور یہ کہ بات سعودی عرب کی تاریخ کی ہو یا آل سعود کی تاریخ کی ، دونوں لازم وملزوم اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں معاون ہیں۔ یہاں ایک اور نقطہ قابل غور ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں خلفاء راشدین (شروع کے صرف تین، کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعض ناگہانی صورتحال کی وجہ سے مسند خلافت کو عراق منتقل کردیا تھا) کو چھوڑ کر کسی بھی مسلم نام نہاد خلافت، ملوکیت، آمریت یا حکومت نے منبع و مبدء اسلام؛ جزیرۂ عرب یا اس کے کسی حصے کو اپنا “پاور سنٹر “یا ” دارالخلافه” نہیں بنایا۔ چنانچہ جب آپ بنو امیہ سے لیکر عثمانیوں تک کی ایک ایک مسلم ریاست، سلطنت، بادشاہت اور حکومت پر نظر ڈالیں گے تو پائیں گے کہ سب نے اس جگہ کو حقیقی معنوں میں وادی “غیر ذی زرع” سمجھ کر نظر انداز کیا کہ کہیں یہ جگہ، اسکے باشندے اور اسکے زائرین کی دیکھ ریکھ اور کفالت کی ذمہ داری کا بوچھ نہ اٹھانا پڑجائے یا اس لیے نظر انداز کیا کہ جزیرۂ عرب نہ تو ان کے لیے سامان تعیش بہم پہونچا سکتا تھا اور نہ وہ خود اس مقام عالی المرتبت میں شراب و شباب کی محفلیں سجا کر دادِ عیش دے سکتے تھے۔اچنانچہ جب ہم جزیرہ عرب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو عہد رسالت اور عہد خلافت کے بعد سب سے نمایا دور آل سعود ہی کا ہی نظر آتا ہے۔ قرآن نے اس خطے کے لیے “بلد امین “کا جو تصور پیش کیا تھا وہ حقیقی معنی میں آل سعود کی عہد حکمرانی میں ابھرکر سامنے آیا۔ سوال یہ ہے کہ اس خطے کو امن کا شہر بنانے کی پیچھے قرآن کی منشا کیا تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن اس جگہ کو دراصل معاشی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہتا تھا جس کی اولین شرط امن و سلامتی ہے ۔ اور یہ مقدس سرزمین امن و آشتی سے مامور ہونا اسی وقت شروع ہوئی جب آل سعود نے زمام اقتدار سنبھالی اور اس خطے کی مختلف علاقائی، قبائلی اور مسلکی اکائیوں کو اتحاد کی لڑی میں پیرو دیا اور یہی اتحاد آج مملکت سعودی عرب کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ 1932 میں قیام مملکت کے بعد ابھی امن و آشتی کے صرف 6 سال ہی گزرے تھے کہ 1938 میں کالا سونا (تیل) کی دریافت نے مملکت میں معاشی سرگرمیوں کی داغ بیل ڈال دی اور دیکھتے ہی دیکھتے صرف چند دہائیوں میں جزیرۂ عرب مسلمانوں کے مذہبی قبلے کے ساتھ ساتھ پوری دینا کے لیے ایک معاشی قبلہ بن کر ابھر گیا ۔
مملکت سعودی عرب کا ترقی کا سفر تقریبا ایک صدی پر محیط ہے اور اس کا احاطہ مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ تاہم کچھ اہم امور پر یہاں گفتگو کی جائے گی۔ ذیل میں سعودی عرب کے خاص اعداد و شمار پر ایک نظر ڈال لینی چاہیئے۔
“ورلڈومیٹر” ریسرچ سنٹر کے اندازہ کے مطابق آج سعودی عرب کی آبادی ساڑھے تین کروڑ افراد پر مشتمل ہے جس میں 30 سے 35 فیصد غیر ملکی شہری بھی ہیں۔ مملکت میں نوجوان نسل کا تناسب دوسرے ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ “سعودی جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس ” کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق 36.7 فیصد سعودی آبادی ایسے نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 15 سے 34 سال کے درمیان ہے۔ جدید سعودی عرب کے قیام سے پہلے اور قیام کے بعد بھی کافی عرصے تک یہاں ایک قبایلی نظام تھا، لیکن صرف ایک جنریشن کی مدت میں سعودی عرب نے اپنے قبائلی نظام کو تبدیل کرکے جدید ریاست کی شکل اختیار کر لی۔ صاسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب میں 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں جو انسانی ترقیاتی اشاریہ (HDI) کے اعداد و شمار تھے ان میں صرف ایک جنریشن کے گزرتے ہی دو گنے سے بھی زیادہ اضافہ درج ہوا ۔ سعودی شہریوں کی اوسط عمر (Life Expectancy) جو 1930 اور 1940 کی دہائی میں 37 سال تھی وہ آج بڑھ کر 75 سال ہوگئی ہے۔ اسی طرح سے مملکت میں شیرخوار بچوں کی شرح اموات (Infant Mortality Rate) ایک جنریشن پہلے دنیا کے غریب ترین ممالک جیسی ہوا کرتی تھی لیکن اب یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہوگئی ہے۔ سعودی عرب میں بچون کی اموات تناسب 5.90 فی ہزار ہے۔ جبکہ امریکہ میں یہی تناسب 5.68 ہے، روس میں 5.14، برطانيه میں 3.59، فرانس میں 2.84 اور چین میں 9.04 ہے۔
اور جہاں تک سعودی عرب میں شرح خواندگی (Literacy)کی بات ہے تو ایک جنریشن پہلے جہاں 95 ناخواندہ تھے وہیں جبکہ آج 95.33 فیصد افراد تعلیم یافتہ اور خواندہ ہیں ۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب پچھلی صدی کی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں سعودی عرب میں تعلیم نسواں (Women Education) کا تصور ہی ناپید تھا اور آج دیکھ لیجیے کہ سعودی عرب کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کی مجموعی تعداد میں 55 فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اسی طرح فی کس آمدنی بھی ساٹھ کی دہائی میں جو صرف 400 امریکی ڈالر کے آس پاس ہوا کرتی تھی، اب 20,000 امریکی ڈالر سے اوپر ہے۔
کسی بھی سماج کی ترقی وہاں کی “معاشی ترقی” سے مربوط ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی خوشحالی کا دارومدار بھی وہاں پر “تیل کی دریافت “کے ساتھ منسلک ہے۔ تیل کی دریافت سے پہلے سعودی عرب کی معیشت بہت محدود تھی اور صرف حج، ٹیکس اور زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مبنی تھی۔ شیخ رستم اپنی کتاب “سعودی عربیہ اینڈ آئیل ڈپلومیسی” میں لکھتے ہیں ہے کہ “زراعت کے جو طریقے سعودی عرب میں اس وقت رائج تھے وہ بھی کافی قدیم اور فرسودہ تھے، غربت و ناخواندگی عام تھی اور بیماریاں آئے دن پھیلتی رہتی تھیں۔”
سعودی حکومت کی سالانہ آمدنی بیس کی دہائی میں تقریبا 5 لاکھ امریکی ڈالر کے برابر تھی جس میں سے پانچواں حصہ حاجیوں سے انکے قابل تجارت سامان پر ڈیوٹی ٹیکس لگا کر وصول کیا جاتا تھا۔ 1929 کے “گریٹ ڈپریشن” کے وقت دنیا نے جب عالمی کساد بازاری کا سامنا کیا تو حج کے لیے جانے والوں کی تعداد بھی ساٹھ فیصد کم ہوگئی جس کا سیدھا اثر سعودی عرب کی معیشت پر پڑا اور وہ اتنا شدید تھا شاہ عبدالعزیز نے بڑے پیمانے پر تعاون حاصل کرنے کے لیے برطانیہ عظمی اور سوویت یونین سے رابطہ کیا۔ دوسری طرف آج کا سعودی عرب دنیا کی 17 ویں سب بڑی معیشت ہے۔ ہر طرح کے قدرتی وسائل، معدنیات، عالمی معیار کا انفراسٹریکچر رکھنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب آج اس مقام پر ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک سے مشترکہ مفاد کی بنیاد پر دوستیاں، تعلقات اور معاملات رکھتا ہے۔ آج سعودی معیشت کے صحیح حجم کا اندازہ ان اعدادوشمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی مشترکہ کل ملکی پیداوار کا 20 فیصد حصہ سعودی عرب اکیلے رکھتا ہےاور سعودی اسٹاک مارکیٹ کی قدر اس “مینا ریجن” (MENA Region)کے سبھی سرمایہ کاری کے بازاروں کی کل سرمایے اور اثاثے کا تقریباً 50 فیصد ہے۔
تیل کی ذریعہ سعودی عرب کی معیشت کو جو ترقی ملی اسی سے یہاں کے رہنے والوں کی قسمت میں تبدیلی رونما ہوئی۔ خوشحالی اور فارغ البالی نے انکے بدویانہ طرز زندگی یکسر بدل دیا۔ ایک جنریشن میں ہی انکے سوچنے اور سمجھنے کا زاویہ تبدیل ہوگیا۔ اپنے بدویانہ قبائلی طرز کے نظام حکومت کو کافی پیچھے چھوڑ کر وہ جلد ہی ایک جدید طرز کی ریاست کے قالب میں ڈھل گئے اور جدید ریاست کے جو بھی معیارات اور ادارے مطلوب ہوتے ہیں وہ سب انہوں نے کھڑے کر ڈالے۔
آج جب ہم معیار زندگی کے لحاظ سے عربوں کا اور بالخصوص سعودی عرب کے لوگوں کا ترقی یافتہ مغرب کے لوگوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، تو ایک ایسی حقیقت سامنے آتی ہے جس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی اور وہ یہ کہ جزیرہ عرب کے لوگ مغرب کے مقابلے میں پرتعیش اور آرامده طرز زندگی سے لطف اندوز ہونے میں کسی طور پر کمتر نہیں ہیں۔ ذرا قیام مملکت سعودی عرب کی شروعاتی دہائیوں 1930 اور 1940 پر ایک نظر ڈالیں تو بہت سے تاریخی شواہد ملیں گے جو اس زمانے کی تنگدستی اور تکالیف و مشکلات سے بھری زندگی کا عکس پیش کریں گے۔ ۔ اس زمانے میں سعودی بادشاہ اور ان کا پورا کنبہ اُنہی کچے اینٹوں کے بنے محلوں میں رہتےتھے جن میں ان کے آباؤ اجداد کئی صدیوں پہلے رہ چکے تھے۔ اس طرح کی زندگی سے آل سعود کو چھٹکارا یوں ہی نہیں مل گیا بلکہ ایک طرف جہاں قدرت نے ان پر مہربانی کی اور تیل کی دولت کے دہانے ان کے لیے کھول دیے ، وہیں دوسری طرف انہوں نے بھی بہت تگ و دو کی اور اس دولت پر اپنے استحقاق کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔
یہاں میں سعودی تاریخ سے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ سعودی عرب کے بانی شاہ ابن سعود اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ 1945 میں مملکت کی سرحدوں کے باہر نکلے جسے مکمّل طور سے خفیہ رکھا گیا اور اس سفر کا مقصد ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر” فرینکلن ڈی روزویلٹ” (1882-1945) سے “نہر سویز” (مصر) میں “یواس‌اس کوئینسی” (سی‌ای-71) نامی پر تعیش سمندری جہاز پر ملاقات کرنی تھی۔ امریکہ اور سعودی عرب کے فرمانرواؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہی ملاقات بنیاد ہے ان مضبوط اور طویل تعلقات کی جو ان دونوں ملکوں کے درمیان پچھلے 75 سالوں سے زائد عرصہ سے چلی رہے ہیں ۔ مہمان نوازی کے دوران، امریکی صدر نے اپنے عرب مہمانوں کو آئس کریم اور ہالی وڈ کی فلموں سے متعارف کروایا۔ شاہ ابن سعود نے پہلی بار اپنی زندگی میں ان دونوں چیزوں کو دیکھا تھا۔
اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آل سعود آج جس مقام پر ہیں وہاں پہنچنے کے لیے انہوں نے جد و جہد کا کتنا طویل سفر طے کیا ہے۔ 75 سال پہلے جو لوگ آئس کریم سے واقف نہیں تھے وہ آج پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مجموعی آئسکریم کنزمپشن میں سے 30 فیصد کنزیوم کرتے ہیں۔ “بزنس مارکیٹ انسائٹھ” کی ایک رپورٹ کے مطابق جی سی سی کی آئس کریم مارکیٹ 2018 میں 543.0 ملین امریکی ڈالر تھی اور اس وقت یہ توقع کی گئی تھی کہ 2019 سے لیکر 2027 تک ہر سال 6.7 فیصد اضافے کے ساتھ 2027 میں 969.1 ملین امریکی ڈالر ہوجائے گی۔
اور جہاں تک ہالی وڈ کے فلم کی بات ہے ، تو گرچہ انٹرٹینمنٹ کے ضمن میں یہ ایک نیا باب ہے، اس کی کوئی صدیوں پرانی تاریخ نہیں ہے لیکن فلم انڈسٹری سے متعلق جو حقائق یا افسانے آج موجود ہیں، ان کے مطابق ، ہالی ووڈ میں بننے والی پہلی فلم “دی اسکوا مین” تھی جسے 1914 میں س”يسيل بلونت ديميل” نے ڈائریکٹ کیا تھا. چنانچہ پہلی ہالی وڈ فلم ریلیز ہونے کے صرف 31 سال بعد ہی سعودی شاہ ابن سعود نے امریکی صدر سے ملاقات کی تھی۔
اس پورے واقعے سے دو اہم نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
1) ان عربوں کے بارے میں غیر ضروری اور غیر منطقی طور سے یہ تصور نہیں بنا لینا چاہیے کہ یہ جاہل، بیوقوف، غیرمہذب، اجڈ اور بد اخلاق ہوتے ہیں۔ آپ ایسا کبھی نہیں سوچ سکتے۔ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے توخود کی جہالت کا ثبوت دیتا ہے۔ جبکہ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ یہ عرب بہت ہوشیار ، تیز ذہن اور جلد سیکھ جانے والے لوگ ہیں۔ جیسے ہی تیل اور گیس کے ذخائر سے ان کا رشتہ بنا اور اس کے عوض انہیں دنیا کی توجہ ملنی شروع ہوئی، انہیں پیسہ کمانے کا سلیقہ آگیا اور مختصر عرصے میں اتنا پیسہ کمایا کہ ان طرز فکر و عمل ہی تبدیل ہو گیا۔ انہوں نے اپنی بدویانہ طرز زندگی اور پرانے سماجی ڈھانچے کو ختم کر کے اس کی جگہ عالیشان طرز معاشرت اپنالیا جس میں انہوں نے اپنوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خوب خیال رکھا۔آج یہبات دعوی سے کہی جا سکتی ہے کہ ان عربوں کے پاس آج دنیا کا سب سے بہترین انفراسٹرکچر اور سب سے عمدہ ڈویلپمنٹ ماڈل ہے،اور ساتھ ہی دنیا کی نصف آبادی اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے انہی عربوں پر منحصر ہے۔
2) اور دوسرا نتیجہ ایک مقولے میں مضمر ہے اور وہ مقولہ ایک 30 سالہ مشہور امریکی بینکر “ہینڈرتھ اسمتھ” کا ہے جنہوں نےاپنی شہرہ آفاق کتاب “دی ویلتھ ریفرینس گائیڈ: این امریکن کلاسک” کی وجہ سے بینکنگ انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر اپنی پہچان بنائی ہے وہ لکھتے ہیں کہ:
“Money earned is proof of value provided. Money earned is proof of worth recognized”
(اگر آپ نے پیسہ کمایا تو اسکا مطلب ہے کہ آپ نے اس پیسے کے بدلے میں کوئی قابل قدر چیز یا خدمت سامنے والے کو دی ہوگی۔ اسی طرح اگر آپ نے پیسہ کمایا تو اس کا مطلب ہے کہ اس پیسے کے بدلے میں سامنے والے کو آپ نے جو چیز یا خدمت دی وہ اس کی نظر میں قابل قدر اور قیمتی ہے) ۔
سعودی عرب میں آج جو خوشحالی ہے اور اس خوشحالی کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں، اور جو عزت و احترام انہوں نے دنیا بھر میں کمایا ہے، ان سب کو دیکھ کریہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پیسہ ہو تو کچھ بھی حاصل جاسکتا ہے اور اگر خوب سارا پیسہ ہو تو سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب پیسہ آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ سب کچھ لے کر آتا ہے، حتی کہ شہرت بھی لے کر آتا ہے، آداب بھی لیکر آتا ہے، اخلاق بھی لیکر آتا ہے اور پرانی تہذیب وثقافت کو سنوارنے کے ساتھ نئی تہذیب وثقافت بھی لے کر آتا ہے۔
سعودی عرب کے ماضی اور حال پر سیر حاصل گفتگو کے بعد اس کے مستقبل پر ایک مختلف زاویے سے بات کرتے ہیں۔
سعودی عرب پچھلے کئی دہائیوں سے مختلف محاذوں اور تنظیموں میں جیسے کہ مسلم دنیا، عرب دنیا، تیل کی دنیا اور خلیجی ممالک کی تنظیم جی سی سی وغیرہ میں قیادت و سیادت کے منصب پر جلوہ افروز ہوکر رہنمائی و سرپرستی کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اور بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ توانائی کے میدان میں سعودی عرب نے جو مقام و دولت حاصل کیا ہے یہ سب سیادت و قیادت اِسی کی مرہونِ منت ہے۔ اور اس سے آگے بڑھ کر کچھ لوگ ایسے خیالات کا اظہار بھی کرنے لگے ہیں کہ چونکہ دنیا میں ٹکنالوجی اب حفری ایندھن (Fossil Fuels) سے صاف توانائی (Clean Energy) اور قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اس لیے آنے والے کچھ سالوں میں سعودی عرب اپنا وہ مقام و مرتبہ برقرار نہیں رکھ پائے گا جو اسے ابھی حاصل ہے۔
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ عرض ہے کہ سعودی قیادت خود اتنی دوررس ہے کہ وہ مستقبل کی پلاننگ اور اس کا لائحہ عمل برسوں پہلے شروع کر دیتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایسا کچھ ہوتا ہوا مستقبل قریب میں دکھ نہیں رہا ہے۔۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی خدشہ ہے بھی تو سعودی عرب نے ضرور اس کے مقابلے کے لیے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل تیار کر رکھا ہو گا بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہو رہے ہونگے۔ یہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر ہم سوچ سکتے ہیں کہ کیا وژن2030 اسی ضمن کی کوئی پلاننگ تو نہیں ہے؟
میں سعودی عرب کو یہ مقام و مرتبہ صرف اس لیے نہیں حاصل ہے کہ یہ عرب اور مسلم دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس ضمن میں یہاں چار ایسے عوامل پر بات کرنا ضروری ہے جو ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں سعودی عرب کی سیادت و قیادت پر کوئی آنچ نہیں آنے والی ہے۔
1) سعودی عرب کا ایک اہم کردار مسلم دنیا کی رہبری اور رہنمائی ہے۔ حرم مکی اور حرم مدنی دونوں اسلام کے اہم مراکز ہیں اور سعودی عرب میں واقع ہے۔ پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلم آبادی ہے جو ہر روز کم سے کم پانچ بار کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ اس سیاق میں سعودی عرب کا رول نہ صرف ان مقدس مقامات کی حفاظت کرنا ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنانابھی ہے کہ یہ مقامات خوشحالی اور خیر و برکت کا مرکز بنیں رہیں، نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے۔ دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ یا اس سے کچھ زیادہ مسلم آبادی ہے، اس لیے ان سے کافی امیدیں باندھی جاسکتی ہیں کہ وہ انسانیت کی خیر و بھلائی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ اور یہیں پر سعودی عرب کو ایک الگ کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اس لیے کہ دنیا کے کسی بھی مسلم ملک کے پاس وہ کچھ نہیں ہے جو اللہ نے سعودی عرب کو دے رکھا ہے۔ اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب میں ہے، اسلام کے پیغمبر کی جائے پیدائش سعودی عرب میں ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ مقامات بھی سعودی عرب میں ہیں جہاں مسلمان ہر سال اکٹھے ہو کر اپنے فریضہ حج کی ادائیگی کرتے ہیں۔ پچھلے نصف صدی سے سعودی عرب نے عازمین حرمین شریفین کے لیے جو سہولیات بہم پہنچائی ہیں اس کی نظیر کسی اور مسلم سلطنت یا حکومت کے دور میں مشکل ہے کہ ملے۔ جب تک سعودی عرب حرمین شریفین کی خدمت کرتا رہے گا، مسلم دنیا کو متحد رکھے گا، اس وقت تک مسلم دنیا کی قیادت کے ساتھ ان کی دیکھ ریکھ کا ذمہ بھی سعودی عرب کے پاس ہے گا اور دنیا کے اسٹیج پر اسکی سیادت کو قبول کیا جاتا رہے گا۔
2) بیسویں اور ابھی تک کی اکیسویں صدی عیسوی میں سعودی عرب کا جو ترقیاتی سفر رہا ہے وہ بڑی حد تک توانائی پر مبنی معیشت سے مربوط رہا ہے، اور توانائی کی مارکیٹ ہی وہ رسی ہے جو دنیا کے سبھی ملکوں کو آپس میں میل جول کےبندھن میں باندھے رکھتی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آنے والے سالوں میں زمین سے نکلنے والا تیل دنیا میں توانائی کی ضرورت کی تکمیل میں ایک اہم اور بڑا کردار ادا کرتا رہے گا۔ مگر اس وقت دینا اور خاص طور سے توانائی کی دنیا، اور اس سے متعلق ٹکنالوجی تغیر پذیر ہے۔ تو آپ کو کیا لگتا ہے سعودی عرب اس بدلتے وقت کے ساتھ خود کو نہیں تبدیل کرے گا؟ سعودی عرب کے مزاج میں ٹھہراؤ اور ثبات نہیں ہے۔ ہمیشہ اس نے ہر زمانے کے ساتھ اپنے آپ کو چلنا سکھایا ہے۔ سعودی عرب کی پالیسیوں میں اگر کسی چیز کو مستقل ثبات حاصل ہے تو وہ تغیر کو ہے، نئے حالات کو اپنانے کے ہنر کو ہے۔
یہ بات کسی حدتک صحیح ہے کہ حفری ایندھن (Fossil Fuels) کا استعمال آج جتنا ہو رہا ہے اس سے کہیں زیادہ چند سالوں پہلے ہوتا تھا اور اس حقیقت کو بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ اب سے دس یا بیس سال بعد اسکا استعمال آج کے مقابلے میں اور کم ہو جائے گا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب اس توانائی کی دریافت، پیداوار اور اسکے صحیح جگہ اور صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے سلسلے میں دنیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ شراکت دار ہے۔ اس لیے اس طرح کی توانائی کے دور کے خاتمے کا اثر صرف اکیلے سعودی عرب پر نہیں پڑے گا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح سعودی عرب کو کافی سستی حفری ایندھن سے نوازا ہے اسی طرح سے کافی سستی شمسی توانائی سے بھی نوازا ہے۔ وہ اس طور سے کہ سعودی عرب میں سورج کی شعائیں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ پڑتی ہیں اور بہت شدید ہوتی ہیں۔ یہ خاص امتیاز متبادل توانائی فراہم کرنے والوں کی دوڑ میں آنے والے دنوں میں سعودی عرب کو سب سے آگے کر کے اس میدان میں بھی قیادت کے منصب پر فائز دیگا۔ ویسے ابھی ایسا لگتا نہیں ہے کہ دنیا مستقبل قریب میں تیل اور گیس کے استعمال سے رک جائے گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب نے توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ بلکہ ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب نے بہت پہلے سے اس پر کرنا شروع کر دیا ہے اور جب صاف اور متبادل توانائی کادور آئے گا تو وہاں بھی سعودی عرب پہلی صف میں ہوگا۔ اور ابھی حال ہی میں سعودی عرب نے ہائیڈروجن کی پیداوار بڑھانے کے لئے ایک بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ اور ہائیڈروجن سےجو توانائی حاصل ہوگی اس میں کاربن ہوگا ہی نہیں جو ماحولیاتی آلودگی کی روکنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
3) تیسری اہم چیز جس کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب مستقبل قریب میں اپنے قایدانہ کردار سے سبکدوش نہیں ہوگا وہ اسکا اسٹریٹیجک محل وقوع ہے۔
4) چوتھی چیز یہ ہے کہ سعودی عرب نے خود محسوس کیا ہے کہ ان کی معیشت کا طویل مدت تک توانائی پر مکمل انحصار ملک کی معاشی مستقبل کے لیے اچھا نہیں ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر کچھ سالوں سے بالخصوص اپریل 2016 سے معیشت کو مختلف الجہات اور مختلف الاشکال بنا نے اور ذرائع آمدنی کی مختلف سمت تلاش کرنے کے ضمن میں ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وژن2030 کے تحت بہت سے ایسے پروگرام شروع کیے گئے ہیں جس سے آنےوالے دس سالوں میں سعودی معیشت میں توانائی کے علاوہ دوسرے ذرائع آمدنی بھی شامل ہو جائیں گے اور کچھ حد تک تیل پر سے انحصار کم ہوگا ۔ نیوم شہر کا منصوبہ اس جہت کا سنگ میل ثابت ہوگا۔

~ آصف نواز نئی دہلی میں مقیم ریسرچ اسکالرہیں وہ سینئر فار ویسٹ ایشین سٹڈیز،؛ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر