حیدرآباد: شعبئہ تعلیمِ نسواں ‘ مانو میں ریسرچ اسکالرز میٹ کا اہتمام

manuu

حیدرآباد

شعبئہ تعلیمِ نسواں ‘ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں 17 جنوری2022 ءکو ” ریسرچ اسکالرز میٹ “ کا ا نعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس پروگرام میںشعبہ کے سابق اور موجودہ ریسرچ اسکالرز نے حصہ لیا‘ جبکہ ایم۔ اے کے طلبہ نے آن لائن شرکت کی۔

ابتداءمیں شعبہ تعلیمِ نسواں کی صدر ڈاکٹر آمنہ تحسین نے اس پروگرام کی غرض وغایت بیان کی ۔

انھوں نے اپنے خطاب میں اردو زبان میں خواتین کے مسائل پرریسرچ اور معاشرہ میں صنفی مساوات کے فروغ کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر آمنہ تحسین نے بتایا کہ مانو میں شعبہ تعلیمِ نسواں 2004 ءمیں قائم کیا گیا اور اس کے قیام کے بعد ہی سے مضمون” مطالعاتِ نسواں“ میں‘ ایم ۔اے اور تحقیقی پروگرامس جےسے ایم ۔فل اور پی۔ ایچ ۔ڈی‘ کی تعلیم فراہم کی گئی۔

خواتین سے متعلق کئی ایک مسائل پر تحقیق کی گئی۔شعبہ کے تحت مختلف توسیعی پروگرامس بھی منعقد کیے گئے ۔جس کے نتیجے میں بے شمار پوشیدہ حقائق اور معاشرہ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع ملا وہیں صنفی مسائل پر معاشرہ کی ذہن سازی بھی کسی حد تک کی جاسکی۔

انھوں نے مانو کے قیام کے پچیس برسوں میں اردو ذریعے تعلیم کے نتیجے میںہونے والی تعلیمی ترقی اور تحقیق کے فوائد کی وضاحت بھی کی ۔ا نھوں نے طلبہ کو مانو کی سلور جوبلی تقاریب میں جوش وخروش سے حصہّ لینے کی خواہش کی۔

اس موقع پر ریسرچ اسکالرز نے بھی مخاطب کیا اوراپنے تجربات کے ساتھ ساتھ ان کی شعور بیداری نیز شخصیت سازی میں ” مطالعاتِ نسواں“ کے اہم رول پر روشنی ڈالی۔

پروگرام میں شریک شعبہ کے اساتذہ پروفیسر شاہدہ ‘ ڈاکٹر شبانہ کیسر‘ ڈاکٹر قمر پروین نے اسکالرز کو مخاطب کیا اور معیاری تحقیق کے لیئے مفید مشوروں سے نوازا۔ پروگرام کی ابتداءعائشہ جبین کی قرائِ ت کلامِ پاک سے ہوئی جبکہ اسرار علی نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبانہ کیسرنے انجام دیے۔ پروگرام کے شرکاءنے کو وڈ پروٹوکال کی سختی سے پابندی کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر