بجٹ 2022: جانئے کیا ہیں بڑے فیصلے اور وعدے

budget new
Budget-2022-Parliament-house-I

نئی دہلی

مودی حکومت کا دسواں بجٹ آج پیش کردیا گیا۔وزیر خزانہ سیتا رمن کا یہ چوتھا بجٹ تھا۔ جس نے کہیں خوشی اور کہیں غم کی روایت کو برقرار رکھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ امید ہے ‘سبکا پریاس’کے ساتھ ہم مضبوط ترقی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ وبائی مرض نے ہر عمر کے لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ معیاری ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے، ایک نیشنل ٹیلی مینٹل ہیلتھ پروگرام شروع کیا جائے گا۔

کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور  نے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بالکل واضح ہے کہ جہاں تک ڈیجیٹل کرنسی کا تعلق ہے، حکومت اس سمت میں جا رہی تھی۔ میری بہترین معلومات کے مطابق، ایک معقول تجویز، مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس پر تنقید کریں گے۔ لیکن ہم بجٹ میں عام شہریوں کے لیے مواد کی کمی کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ہمیں خوفناک مہنگائی کا سامنا ہے اور متوسط طبقے کے لیے ٹیکس میں کوئی ریلیف نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا بجٹ ہے جو ‘اچھے دن’ کے سراب کو اور بھی دور دھکیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب ہندوستان 100 پر ہے، ہمیں ‘اچھے دن’ آنے کے لیے مزید 25 سال انتظار کرنا پڑے گا۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تحقیق اور ترقی کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے۔ آر اینڈ ڈی بجٹ کا 25 فیصد اسٹارٹ اپس اور پرائیویٹ اداروں کے لیے محفوظ رکھنے کی تجویز ایک بہترین اقدام ہے۔

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ یہ بہت اچھا بجٹ ہے۔ یہ ایک بہت ہی جامع بجٹ ہے جس میں غریبوں، دیہی اور سرحدی علاقوں اور شمال مشرق میں رہنے والے لوگوں سمیت سماج کے ہر طبقے کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں : مودی حکومت کا دسواں بجٹ پیش

وزیرٹرانسپورٹ نتن گڈکری۔ نے کہا کہ زراعت، دیہی علاقوں، تمام شعبوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی گئی اور اس کے بعد بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی گئی۔ میری وزارت میں ‘پروت مالا’ پروجیکٹ کا تعارف پہاڑی علاقوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ ملازمتیں پیدا کریں گے۔ اس بہترین بجٹ کے لیے وزیر خزانہ کا شکر گزار ہوں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں عام لوگوں کے لیے صفر ہے، جو بے روزگاری اور مہنگائی سے پس رہے ہیں۔

ایک نظر ڈالتے ہیں بجٹ کے اہم نکات پر۔

ڈیجیٹل کرنسی اس سال سے

آر بی آئی اس سال بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی جاری کرے گا۔ اس سے معیشت کو بڑا فروغ ملے گا۔ کریپٹو کرنسی سے ہونے والی آمدنی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کے ٹیکس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ایسی کسی بھی جائیداد کی منتقلی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔ کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔

سرمایہ کاری کے لیے 7.55 لاکھ کروڑ

سرمایہ کاری بڑی صنعتوں اور ایم ایس ایم ای دونوں کو روزگار بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ وبائی امراض کے اثرات سے نکلنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ نجی سرمایہ کاروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے لیے مرکزی بجٹ میں 5.54 لاکھ کروڑ روپے سے 7.55 لاکھ کروڑ روپے کا پروویژن بڑھا دیا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خودمختار گرین بانڈز جاری کیے جائیں گے۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ایسے منصوبوں میں استعمال کی جائے گی، جس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لیے صنعت کو ترقی دی جائے گی۔ اس سے برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ گیمنگ اور اینیمیشن معیشت کا حصہ بنیں گے: اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اور کامکس یعنی اے وی جی سی سیکٹر میں روزگار کے بے پناہ مواقع ہیں۔ ایسی صورت حال میں اے وی جی سی پروموشن ٹاسک فورس اس سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ ایسے راستے تلاش کریں گے جن کے ذریعے ہم اپنی ملکی صلاحیت کے ذریعے اپنی مارکیٹ اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

روزگار اور غریبوں کے لیے اعلان

ایکسپریس وے پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان کے تحت بنائے جائیں گے۔ نیشنل ہائی وے نیٹ ورک کو 25 ہزار کلومیٹر تک بڑھایا جائے گا۔ اس مشن کے لیے 20 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کوشش ہوگی کہ 60 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں۔ غریبوں کے لیے 80 لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ اس کا بجٹ 48000 کروڑ روپے ہے۔ ای پاسپورٹ 2022-23 میں جاری کیے جائیں گے جن میں چپ ہوگی۔ بیرون ملک جانے والے آرام سے رہیں گے۔ اے ٹی ایم اب پوسٹ آفس میں بھی دستیاب ہوں گے۔ پی ایم ای ودیا پروگرام کا دائرہ بڑھا: وبا کے دوران اسکول بند ہونے کی وجہ سے گاؤں کے بچے دو سال تک تعلیم سے محروم رہے۔ اب ایسے بچوں کے لیے ایک کلاس ون ٹی وی چینل پروگرام پی ایم ای ودیا کے تحت چینلز کی تعداد 12 سے بڑھا کر 200 کر دی جائے گی۔ یہ چینلز علاقائی زبانوں میں ہوں گے۔ پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد لی جائے گی۔ ڈیجیٹل یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔

ریلویز میں 400 نئی جنریشن وندے ماترم ٹرینیں

اگلے 3 سالوں کے دوران 400 نئی جنریشن وندے بھارت ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ اس مدت کے دوران 100 پردھان منتری گتی شکتی کارگو ٹرمینل بھی تیار کیا جائے گا۔ میٹرو سسٹم کی ترقی کے لیے اختراعی راستے اپنائے جائیں گے۔

ٹیکس دہندگان دو سال کے اندر اپ ڈیٹ کی گئی انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرسکتے ہیں

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان اضافی ٹیکس کی ادائیگی پر ایک اپڈیٹ کی گئی ریٹرن داخل کرسکتے ہیں۔ اس اپ ڈیٹ کی گئی ریٹرن کو متعلقہ اندازے کے سال کے ختم ہونے سے لے کر اگلے دو سال کے اندر داخل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس ادا کرنے کے لئے اپنی آمدنی کا بالکل صحیح اندازہ کرنے میں ہوئی کسی غلطی یا چوک کو دور کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اس طرف بھی دھیان دلایا کہ موجودہ وقت میں اگر انکم ٹیکس کے محکمہ کو بھی پتہ چلتا ہے کہ کسی ٹیکس دہندہ نے اپنی آمدنی کو اپنے ریٹرن میں نہیں دکھایا ہےتو ایسی صورتحال میں اس پورے معاملے کو نمٹانے کے لئے ایک لمبے عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ حالانکہ اس نئی تجویز کے تحت اب ٹیکس دہندگان پر بھروسہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کی سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔

معذور افراد کے لئے ٹیکس میں راحت

موجودہ قانون کے تحت کسی معذور افراد کے لئے بیمہ اسکیم لینے والے والدین یا سرپرست کو ٹیکس کٹوتی کی اجازت تبھی دی جاتی ہے جب متعلقہ صارف کی موت ہونے پر اس معذور افراد کو یکمشت ادائیگی یا سالانہ عطیہ دستیاب ہوجاتی ہے۔ چونکہ معذور افراد کو یہاں تک کہ اپنے والدین /سرپرست کی زندگی کے دوران ہی یکمشت رقم یا سالانہ عطیہ کی جانے والی ادائیگی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ لہذا ا س طرح کے حالات کو دھیان میں رکھتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے اعلان کیا کہ حکومت کی نئی تجویز کے تحت معذور افراد کو اپنے والدین /سرپرستوں کی زندگی کے بارے میں بھی سالانہ وظیفہ یا ایکمشت رقم کی ادایئگی کی جاسکتی ہے۔حالانکہ ایسا تبھی ہوگا جب متعلقہ صارف کی عمر 60 برس ہوجائے گی۔

ریاست ا ور مرکزی حکومت کے ملازمین کے درمیان مساوات

مرکزی وزیر نے کہاکہ ریاستی سرکاروں کےملازمین کو ملنے والے سماجی سیکورٹی کے فوائد کو بڑھانے اور انہیں مرکزی سرکاری کے ملازمین کے مطابق بنانے کے لئے بجٹ میں ریاستی سرکاروں کے ملازمین کے این پی ایس کھاتے میں آجر کے تعاون کو 10 فی صد سے بڑھا کر 14 فی صد کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔

ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس لگانے کے لئے اسکیم

ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کا لین دین کافی بڑھ جانے کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے اعلان کیا کہ کسی بھی ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے کی منتقلی پر کسی بھی آمدنی پر 30 فی صد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت حصول کی لاگت کے علاوہ اس طرح کی آمدنی کو کمپیوٹنگ کرتے ہوئے کسی بھی خرچ یا بھتے پر کسی بھی ٹیکس کٹوتی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نےمزید کہا کہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے کی منتقلی پر ہونے والے نقصان کا ازالہ کسی دوسری آمدنی سے نہیں کیا جائے گا۔ وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ لین دین کی تفصیلات کو درج کرنے کے لئے حکومت ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے کی منتقلی کی ادائیگی پر کٹوتی ٹی ڈی ایس کی بھی گنجائش رکھے گی۔ حالانکہ اس کے لئے ایک مونٹری حد طے کی گئی ہے اور اس سے زیادہ رقم ہونے پر ہی وسیلے پر ٹیکس کٹوتی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے کو تحفہ کی شکل میں ٹیکس لگانے کی تجویز ہے ۔ یہ ٹیکس تحفہ دینے والوں کو دینا ہوگا۔

مقدمہ بازی کا بندوبست

محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ عام طرح کے معاملوں پر ایک جیسے معاملوں پر اپیل داخل کرنے میں کافی وقت اور وسائل خرچ ہوجاتے ہیں۔ لہذا حکومت کی مضبوط مقدمہ بازی کے بندوبست کی پالیسی کو آگے بڑھانے اور ٹیکس دہندگان اور محکمہ کے درمیان بار بار ہونے والی مقدمہ بازی کو کم کرنے کے لئے اس حکومت کے ایک پرویزن(شق) کے تحت ٹیکس دہندہ کا کوئی قانونی معاملہ یا ٹھیک اس قانونی معاملے جیسا ہی ہوتا ہے جو کسی معاملے میں دائرے اختیار والے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں کی گئی اپیل کے تحت زیر التوا ہیں، لہذا محکمہ کے ذریعہ اس ٹیکس دہندہ کو آگے اپیل کرنے کے لئے اس وقت تک کے لئے ٹال دیا جائے گا جب تک اس قانونی معاملے پر متعلقہ دائرہ اختیار والے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ اپنا کوئی فیصلہ نہیں سنا دیتا ہے۔

صحت بجٹ میں ٹیکنالوجی کا مرکزی مقام

:وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے عام بجٹ میں ٹیکنالوجی نے صحت کے شعبے میں ایک مرکزی مقام حاصل کیا ہے۔ دو نئی ڈیجیٹل اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ملک بھر میں صحت کی رسائی اور حفظان صحت سہولتوں کی توسیع میں اہم کردار نبھا رہی ہے۔ آج ہوئے اعلانات میں کووڈ-19 وبا کی جھلک نظر آتی ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اُن لوگوں کے تئیں ہمدردی کاا ظہار کیا ہے جنہوں نے عالمی وبا کے سبب صحت اور اقتصادی سطح پر برے حالات کاسامنا کیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پچھلے دو برسوں میں صحت بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے اصلاحات کے سبب ملک آج مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہے۔ اپنی بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکہ کاری مہم کی رفتار اور کووریج نے وبا سے لڑنے میں کافی مدد کی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا ‘‘مجھے پورا اعتماد ہے کہ سب کے پریاس سے ہم مضبوط شرح ترقی کے اپنے اس سفر کو جاری رکھیں گے’’۔ محترمہ نرملا سیتارمن نے اس بات کو اُجاگر کیا کہ پچھلے برس کے بجٹ میں کیے گئے اقدامات نے کافی اچھی پیش رفت کی ہے جس کے لئے اس بجٹ میں بھی موزوں اور مناسب رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنا، ٹیکہ کاری پروگرام کا تیزی کے ساتھ نفاذ اور وبا کی موجودہ لہر کے تئیں ملک کے تیز ردعمل اس کے واضح شواہد ہیں۔

آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن

قومی ڈیجیٹل صحت ایکو سسٹم کیلئے ایک نئے کھلے پلیٹ فارم کا آغاز کیاجائیگا۔ اس میں وسیع طور سے صحت فراہم کرنے والوں اور صحت سہولتوں کے ڈیجیٹل اندراج، منفرد صحت شناخت اور مشترکہ فریم ورک شامل ہوں گے اور یہ صحت سہولتوں تک آفاقی رسائی فراہم کریگا۔ قومی ٹیلی ذہنی صحت پروگرام مرکزی وزیر خزانہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وبا نے سبھی عمر کے لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل پیدا کیے ہیں۔ معیاری ذہنی صحت کونسلنگ اور حفظان صحت خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کیلئے آج ‘‘قومی ٹیلی ذہنی صحت پروگرام’’ کا اعلان کیا گیا۔ اس میں 23 ٹیلی–ذہنی صحت مہارت کے مراکز کا ایک نیٹ ورک شامل ہوگاجس میں نیم ہنس نوڈل مرکز کے طور پر کام کریگا۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، بنگلور (آئی آئی آئی ٹی بی) اس کے لئے ٹیکنالوجی تعاون فراہم کریگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر