عام بجٹ: پی ایل آئی اسکیم کے تحت سولر ماڈیولز کے لیے19,500 کروڑروپئے مختص

budget on solar modules

نئی دہلی

آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 23-2022 پیش کرتے ہوئے خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیرنرملا سیتا رمن نے اس وژن پر زور دیا اور اسے پیشرفت کرنے کے لیے ملک کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیا۔

توانائی کی منتقلی اور آب وہوا سے متعلق اقدامات آب وہوا کی تبدیلی کے خطرات، ہندوستان اور دیگر ممالک کو متاثر کرنے والے منفی خارجی شدید ترین خطرات ہیں۔ یہ بات مرکزی وزیر نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کم کاربن ترقیاتی حکمت عملی کا اعادہ کیا جس کا اعلان وزیر اعظم نے، پائیدار ترقی کے تئیں ہماری حکومت کے مستحکم عزم کی ایک اہم عکاس کے طور پر کیا تھا۔ یہ حکمت عملی وسیع تر روزگار کے مواقع وا کرتی ہے اور بجٹ اس سلسلے میں بہت سی کم مدتی اور طویل مدتی اقدامات تجویز کرتا ہے۔

شمسی توانائی وزیر موصوف نے اعلیٰ کارکردگی والے ماڈیولس کے بنانے والے پیداوار سے منسلک ترغیبات کے ضمن میں 19500 کروڑ روپئے کی اضافی رقم مختص کی ہے۔ اس سے سال 2030 تک 280 گیگا واٹ کی تنصیب شدہ شمسی صلاحیت کا بامقصد ہدف حاصل کرنے کے لیے ضروری اندرون ملک مینوفیکچرنگ کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ مرغولاتی معیشت مرغولاتی معیشت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’مرغولاتی معیشت کی منتقلی توقع ہے کہ پیداوار میں اضافے میں مدد کرے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ نئے کاروباروں اور کاموں کے لیے وسیع مواقع بھی وضع کرے گی‘‘۔ انھوں نے بیان کیا کہ اب توجہ، بنیادی ڈھانچے، ریورس لاجسٹکس، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور غیر رسمی شعبے کے ساتھ اسے مربوط کرنے کے اہم ضروری معاملات پر مرکوز کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا ’’اس کی معاونت فعال سرکاری پالیسیوں کے ذریعے کی جائے گی جو کہ ضابطوں کا احاطہ کرتے ہیں، نیز اس کی معاونت توسیع شدہ پروڈیوسر کی ذمے داریوں کے خاکے اور جدت کاری کی سہولیات کے ذریعے بھی کی جائے گی‘‘۔ کاربن نیوٹرل معیشت میں منتقلی مرکزی وزیر کے ذریعے حرارتی بجلی کے پلانٹوں میں پانچ سے سات فیصد بایو ماس پیلٹس کو ایک ساتھ ضائع کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے جس کے نتیجے میں سالانہ 38 ایم ایم ٹی، سی او 2 کی بچت ہوسکتی ہے۔

سیتا رمن نے مزید کہا ’’اس سے کسانوں کو فاضل آمدنی ہوگی اور مقامی لوگوں کو کام کے مواقع حاصل ہوں گے نیز یہ زرعی کھیتوں میں پرال جلانے کو ختم کرنے میں مدد دے گی۔ بڑی تجارتی عمارتوں میں توانائی خدمت کی کمپنی (ای ایس سی او) کے کاروباری ماڈل کے قیام کے ذریعے توانائی کی کارکردگی اور بچت کے اقدامات سے، توانائی کے آڈٹس، کارکردگی کے کنٹریکٹس اور عام ناپ تول اور تصدیق کرنے کے ضابطوں کے لیے صلاحیت سازی اور آگاہی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ صنعت کے لیے ،کوئلہ کی گیسی فکیشن اور کوئلے کو کیمیکلوں میں تبدیل کرنے کے لیے چار پائلٹ پروجیکٹوں کی بھی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ تکنیکی اور مالیاتی استحکام حاصل کیا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر