ڈیجیٹل زراعت ہی ہمارا مستقبل ہے: مودی

modi-2
digital agriculture

حیدرآباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے زراعت کے شعبہ کے تمام چیلنجس سے ملک کو باہر نکالنے کیلئے سائنسدانوں اور عوام کی مشترکہ مساعی پر زور دیا اور کہا کہ ڈیجیٹل زراعت ہی ہمارا مستقبل ہے۔

انہوں نے آج حیدرآباد کے نواحی علاقہ پٹن چیرو میں اکریساٹ کی 50 ویں یوم تاسیس تقریب کے موقع پر ایک لوگو اور یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موسمی تبدیلیو ں کے مسائل اور ملک میں زراعت پر اس کے اثرات کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں سے ملک میں چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں موسمی تبدیلیوں کے مسائل کو اہمیت دی گئی ہے۔انہوں نے موسمی تحفظ کے اقدامات کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس بجٹ سے 80 فیصد چھوٹے کسانوں کو مدد ملے گی۔کیونکہ اس بجٹ میں نیچرل فارمنگ اور ڈیجیٹل اگریکلچر کو اہمیت دی گئی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل اگریکلچرل ملک کا مستقبل ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عصری ٹکنالوجیز کے استعمال میں اہم رول ادا کریں اور انوکھی حکمت عملی اختیار کریں۔تاکہ کسانوں کے صرفہ میں کمی ہوسکے اور ہائی ٹیک زرعی خدمات کے ذریعہ پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے اگری انفرافنڈ سے ملک میں 35ملین ٹن کی گنجائش والے کولڈ اسٹوریجس کی تیاری میں مدد ملی ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ ملک میں موجودہ طورپر 170 خشک سالی کے امکانی اضلاع ہیں انہوں نے کہا کہ بنیادی چیزوں پر توجہ دیتے ہوئے مستقبل کی سمت مارچ کی ضرورت ہے۔تاکہ ان علاقوں میں زراعت کے چیلنجس سے ابھر سکیں۔انہوں نے آئیل فیلڈ کی کاشت بالخصوص آئیل پام کی توسیع کیلئے درکار تمام ممکنہ مدد بھی کسانوں اور ریاستوں کو یقین دہانی کروائی۔

انہوں نے کہا کہ اکریساٹ جیسے بین الاقوامی ادارے کو بائیو فیول کی ریسرچ اور پیداوار میں اضافہ کیلئے زرعی یونیورسٹیوں کے ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اکریساٹ کے پاس زراعت کو آسان اور پائیدار بنانے میں دوسرے ممالک کی مدد کرنے میں 5 دہائیوں کا تجربہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج، میں امید کرتا ہوں کہ اکریساٹ ہندوستان کے زرعی شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی مہارت فراہم کرتے رہیں گے۔مودی نے کہا کہ ہندوستان نے ماحولیات کے لیے طرز زندگی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے اور پرو پلانیٹ پیپل موؤمنٹ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

یہ ایک ایسی تحریک ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے اور ہر فرد کو آب و ہوا سے جوڑتی ہے۔ انہوں نے اکریساٹ میں اہتمام کردہ خصوصی نمائش کا مشاہدہ کیا۔اکریساٹ کے ڈائریکٹر جنرل جاکویلین ڈی آروس نے وزیراعظم مودی کی تہنیت پیش کی۔

سائنسدانوں نے وزیراعظم کو اکریساٹ میں جاری تحقیق کے کاموں میں ملی کامیابیوں سے واقف کروایا۔اس موقع پر وزیراعظم نے تور دال، دھان، مونگ پھلی اور دیگر اجناس کے تخم اور اس کے معیار سے متعلق معلومات حاصل کیں۔وزیراعظم مودی کے ہمراہ مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور گورنر تملی سائی سندرا راجن بھی موجود تھے۔ یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا غذائی سلامتی کا پروگرام چلا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تغذیہ کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ہندوستان میں 15ایگرو موسمی زون ہے۔یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور زراعت میں انہیں کافی پرانا تجربہ ہے۔اس تجربہ کو دستیاب کروانے کی ضرورت ہے جس کیلئے اکریساٹ کو اہم رول ادا کرنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر