مالی سال21-2022: غیر باسمتی چاول کی برآمدات میں 109 فیصد اضافہ

basmato rice

ڈی جی سی آئی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے 2019-20 میں 2015 ملین امریکی ڈالر کے غیر باسمتی چاول برآمد کیے تھے، جن کی برآمدات 2021-2020 میں بڑھ کر 4799 ملین امریکی ڈالر اور 2022-2021 میں 6115 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔

مالی سال2022-2021میں 27فیصد کی نمو درج کراتے ہوئے، غیر باسمتی چاول کی برآمد تمام زرعی اجناس میں سب سے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا وسیلہ رہی ، جو کہ امریکی ڈالر ملین 6115 ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر ایم انگاموتھو، چیئرمین، ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اپیڈا) نے کہا ’’اپنے غیر ملکی مشنوں کے ساتھ مل کر، ہم نے لاجسٹکس کی ترقی کے ساتھ ساتھ معیاری مصنوعات کی پیداوار پر توجہ مرکوز کی ہے، جس سے ہندوستان کے چاول کی برآمدات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے، ۔

مغربی افریقی ملک بینن ہندوستان سے غیر باسمتی چاول کے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ ہندوستان سے چاول درآمد کرنے والے دیگر ممالک نیپال، بنگلہ دیش، چین، کوٹ ڈی آئیوری، ٹوگو، سینیگال، گنی، ویت نام، جبوتی، مڈغاسکر، کیمرون صومالیہ، ملائیشیا، لائبیریا ، متحدہ عرب امارات وغیرہ ہیں۔ 2021-2020 میں، ہندوستان نے غیر باسمتی چاول نو ممالک – تیمور لیسٹی، پورٹو ریکو، برازیل، پاپوا نیو گنی، زمبابوے، برونڈی، ایسواتینی، میانمار اور نکاراگوا کو برآمد کئے ، جہاں یا تو یہ چاول پہلی بار برآمد کئے گئے تھے یا اس سے پہلے جو برآمدات کی گئی تھی ان کی کھیپ حجم میں چھوٹی تھی۔

بندرگاہ پر سامان اتارنے لادنے کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے پر ہندوستان کے زور، کلیدی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ویلیو چین کی ترقی کے ساتھ ساتھ چاول کی برآمدات کے لیے ممالک یا منڈیوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں چاول کی برآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

کووڈ-19 وبائی امراض سے لاجسٹک چیلنجوں کے باوجود، ہندوستان نے افریقی، ایشیائی اور یورپی یونین کی منڈیوں میں چاول کی برآمدات کو بڑھانے کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے، اس طرح چاول کی عالمی تجارت میں اس کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ عالمی سطح پر چاول کی زبردست مانگ نے چاول کی برآمدات میں ہندوستان کی ترقی میں بھی مدد کی۔

چاول پیدا کرنے والی بڑی ریاستیں مغربی بنگال، اتر پردیش، پنجاب، تامل ناڈو، آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، اوڈیشہ، آسام اور ہریانہ ہیں۔ 2022-2021 کے دوسرے پیشگی تخمینوں کے مطابق، 2022-2021 کے دوران چاول کی کل پیداوار کا تخمینہ 127.93 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ گزشتہ پانچ سالوں کی 116.44 ملین ٹن کی اوسط پیداوار سے 11.49 ملین ٹن زیادہ ہے۔

تاہم، 2022-2021 کے دوسرے پیشگی تخمینہ کے مطابق، ملک میں غذائی اجناس کی کل پیداوار کا تخمینہ 316.06 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ 2021-2020 کے دوران غذائی اجناس کی پیداوار سے 5.32 ملین ٹن زیادہ ہے۔

مزید برآں، 2022-2021 کے دوران پیداوار پچھلے پانچ سالوں (2017 – 2016 سے 2021-2020) کی غذائی اناج کی اوسط پیداوار سے 25.35 ملین ٹن زیادہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کے بعد ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے۔

ریکارڈ برآمدات، چاول پیدا کرنے والوں کو اپنے ذخیرے کو کم کرنے کے قابل بنائے گی اور اس سے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ ہندوستانی چاول کی بڑھتی ہوئی مانگ سے ان کی وصولیوں میں بہتری آنے کا امکان ہے۔

زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ملک کی زرعی اور ڈبہ بند خوراک کی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کے ثبوت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر