indian politics
مشرف شمسی
بہار میں نتیش کمار نے جب سے بی جے پی سے اپنا اتحاد ختم کیا ہے اور راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ اپنی حکومت بنائی ہے تبھی سے حزب اختلاف کے خیمے میں جوش و ولولہ دیکھا جا رہا ہے ۔نتیش کمار کا  بی جے پی سے الگ ہونے سے پہلے مہاراشٹر میں بی جے پی نے آپریشن لوٹس کے ذریعے شیوسینا،کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس کی سرکار  کو گرا دیا  تھا ۔مہاراشٹر کی ٹھاکرے سرکار گرنے سے پورے ملک کے حزب اختلاف میں مایوسی چھا گئی تھی اور یہ لگنے لگا تھا کہ2024 میں لوک سبھا کا چناؤ یک طرفہ ہوگا۔پھر جس طرح سے کانگریس کے اعلی رہنماؤں کو  ای ڈی نے گھنٹوں اپنے یہاں بلاکر تفشیس کی  اس سے پورے ملک کے حزب اختلاف میں ایک سندیش گیا کہ جب مودی سرکار سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو بنا کسی بات کہ بدلے کی سیاست کے تحت پریشان کر سکتے ھیں  تو اس ملک کی کسی بھی رہنماء کو پریشان کر جیل بھیجا جا سکتا ہے ۔ای ڈی کو جس طرح کی طاقت دی گئی ہے کہ ای ڈی بنا کسی بات  کے بھی کسی کو بھی گرفتار کر سکتی ہے اور گرفتاری سے پہلے کوئی بھی کیس بنا سکتی ہے ۔جس شخص کے خلاف کیس بنایا جائے گا وہ ایف آئی آر کی کاپی بھی مانگنے کا حقدار نہیں ہوگا۔ای ڈی جو بھی الزام لگائے گی اس الزام کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے کا کام ملزم کا ہوگا ۔ای ڈی جس شخص کے خلاف ایف آئی آر کریگی اُسے ضمانت بھی عدالت نہیں دے سکتی ہے ۔حکومت کے ذریعے ای ڈی کو دی گئی طاقت کو سپریم کورٹ نے بھی ہری جھنڈی دیکھا دیا ہے۔اب اس ای ڈی کی طاقت کا کہاں استعمال ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے حزب اختلاف کو اچھی طرح سے معلوم ہے ۔پھر جس طرح سے شیوسینا کے ایم ایل اے کو ای ڈی کا کو خوف دیکھا کر توڑا گیا بلکہ جس طرح سے شیوسینا کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اس سے بھی حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بے چین کر دیا ہے۔ابھی شیو سینا کو توڑ کر بی جے پی مہاراشٹر کی حکومت میں داخل ہوئی ہی تھی کہ  پٹنہ میں بی جے پی کے ایک پارٹی پروگرام میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے صاف کہا کہ اب ملک میں علاقائی جماعتوں کا وجود ختم ہو جائیگا۔اس بات کا  حزب اختلاف کی جماعتوں نے زبردست نوٹس لیا ۔حالانکہ حزب اختلاف کے اتحاد کی کوشش بہت پہلے سے کی جا رہی تھی ۔لیکن مذکورہ واقعہ نے حزب اختلاف کو یہ باور کرا دیا  کہ اگر 2024 میں مودی سرکار راستہ مضبوطی سے روکا نہیں گیا تو انکا اس ملک کی سیاست سے  وجود ہی ختم ہو جائیگا۔ساتھ ہی  اُنھیں جیل بھی جانا پڑےگا ۔حزب اختلاف کو معلوم ہے کہ مودی سرکار جس طرح سے پیسے اور طاقت کا استعمال چناؤ جیتنے کے لئے کرتی ہے تو حزب اختلاف الگ الگ ہو کر کبھی بھی اس بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے۔حزب اختلاف کو معلوم ہے کہ ملک کی عام عوام منہگائی اور ہے روزگاری سے پریشان ہیں لیکن منتشر حزب اختلاف کی وجہ سے مودی سرکار کے خلاف ووٹ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔لیکن نتیش کی حزب اختلاف کے خیمے میں آنے سے اب حزب  اختلاف زور آزمائی کے لئے تیار نظر آ رہی ہے ۔لیکن صرف حزب اختلاف کے اتحاد سے بی جے پی سے دو دو ہاتھ نہیں کیے جا سکتے ہیں ۔کیونکہ بی جے پی کی حمایت میں نوّے فیصدی میڈیا کھڑی ہے ۔ایسے میں اپنی آواز گھر گھر تک پہنچانے کے لئے اب حزب اختلاف کو گلی اور محلوں میں جانا ہوگا اور عوام کو بتانا ہوگا کس طرح میڈیا مودی سرکار کے حق میں صبح شام ہندو مسلم کرتی رہتی ہے تاکہ عوام کا دھیان منہگائی،بے روزگاری اور کارپوریٹ لوٹ پر نہیں جا پائے۔حزب اختلاف خاص کر کانگریس نے بھارت جورو یاترا عوام کو بتانے اور جوڑنے کے لئے شروع کر دیا ہے اور اسی طرح کا آندولن آنے والے دنوں میں جگہ جگہ دیکھنے کو مل جائے گی ۔۔حزب اختلاف کو جانچ ایجنسیوں کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو پوری طرح سرکار کے اشارے پر کام کرتی نظر آتی ہیں ۔حزب اختلاف اب زمینی لڑائی کے لیے تیار ہو رہی ہے اس میں کتنی کامیابی ملےگی یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن بھارت کی سیاست سے سیاستدان کے غلط کام میں تم بھی چپ ہم بھی چپ کی سیاست ختم ہوتی نظر آ رہی ہے ۔یہ ملک کے عوام کے لئے ایک نیک شگون ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر