بنیادی صفحہ / خبریں / اسلامی مالیات / شریعہ برانڈنگ اور مارکیٹنگ

شریعہ برانڈنگ اور مارکیٹنگ

saif1

سیف عالم صدیقی

فائنانس ایگزیکیوٹو, کے جی این انڈسٹریز لمیٹیڈ ممبئی

برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی دنیا میں جلد ہی نئے رنگ وروپ کے ساتھ ایک فیکلٹی قدم رکھنے والی ہے – جو سرسبزو شاداب اور ہریالی سے بھرپور ہوگی؛ ماحولیاتی ہریالی نہیں، بلکہ وہ ہریالی جس میں اسلامی روح کی آویزش ہوگی۔ ‘اسلامک برانڈنگ’ نسبتا ایک نیا تصور ہے اور تعلیم کا یہ نیا میدان اپنی ابتداء سے ہی عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اسلامی برانڈنگ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے “وہ برانڈنگ جو شریعہ اقدار سے موافق ہو، تاکہ مسلم صارفین کو اپیل کرے، جس کا دائرہ برانڈ کی شناخت، برتاو اور مراسلات کے تمام پہلووں میں بنیادی شریعہ دوستی سے مکمل شریعہ موافقت تک پھیلی ہو”۔ عالمی اسلامی منڈی کسی بھی ملک، مسلم یا غیر مسلم؛ کے لئے شاندار مواقع پیش کرتی ہے، لیکن سبھی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔

اعداد وشمار سے ایک واضح تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ دنیا کی آبادی کا 23 فیصدی حصہ مسلم دنیا پر مشتمل ہے۔ تجرباتی طور پر 112 ملکوں میں 1.9 بلین کے بازار حلال غذا کے مشتاق ہیں۔ یہ اعداد دیکھ کر کہ اس 1.9 بلین کا 43 فیصد حصہ 25 کی عمر سے کم کا ہے، بازاریوں کے منھ میں پانی بھر آتا ہے۔ یہ تعداد دنیا کی مجموعی آبادی کے 10 فیصد کے مساوی ہے، اس میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2030 تک مسلم آبادی کے 26 فیصد بڑھ کر تقریبا 2.2 بلین ہوجانے کا امکان ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس عالمی جی ڈی پی کا 7.7 فیصد ہے جو 2016 کے اواخر تک 8.7 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

حلال منڈی تن تنہا 2.1 ٹریلین امریکی ڈالر (بشمول غذا ومشروب 67%، دواسازی 22%، پرسنل کیئر اور فیشن 10%) سالانہ کی حیرت انگیز مالیت حاصل کررہی ہے اور یہ مسلمانوں کی عالمی آبادی میں اضافے کے ساتھ سالانہ 500 بلین امریکی ڈالر کی شرح سے اضافہ درج کررہی ہے۔ خدمات کے حوالے سے غور کریں تو دنیا بھر کے اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے اثاثہ جات کے آئندہ سال تک 1 ٹریلین اور سال 2016 تک 1.8 ٹریلین امریکی ڈالر پہنچنے کی توقع کی جارہی ہے۔ 1.9 بلین کی مسلم صارفین منڈی یقینی طور پر اگلا اہم ترین (اور بہت حد تک خالی) عالمی میدان ہے۔ جیسا کہ چین و ہندوستان حالیہ برسوں میں عالمی بازاریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہیں، اسی طرح ایک خاموش لیکن شاندار کاروباری موقع آج عالمی مسلم صارفین منڈی کی صورت میں دستیاب ہے جو بہت حد تک خالی پڑی ہے۔

ایسا برانڈ جو شریعہ مبادیات سے ہم آہنگ یا ان کے موافق ہوتا ہے وہ طبعی طور پر کئی ایسے اقدار کا بھی حامل ہوتا ہے جنہیں عالمی تجارتیں آج بہت اہم محسوس کررہی ہیں۔ ایمانداری، عزت، لحاظ، اخلاص،صلح و آشتی، صداقت، خالصیت، تحمل، نظم و ضبط، شفافیت، شرافت، میل جول اور وقار جیسے اقدار شریعہ مبادیات کا مغز ہیں جو پوری دنیا کے مسلمان صارفین میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں مسلم صارفین نے ایک پرکشش مارکیٹ اکائی کے طور پر اپنی اہمیت میں بہت اضافہ کیا ہے۔

اسلامی برانڈ نگ کیوں؟

1.9 بلین افراد پر مشتمل مسلمان صارفین کی منڈی جو شاید ہی کبھی استعمال کی گئی ہے، بازاریوں کے لئے شاندار امکانات کی حامل ہے- لیکن اسی صورت میں جب ان کے اقدار کو مکمل طور پر سمجھا جائے۔ بازار کاری نقطہ نظر کے مطابق یہ ہمیشہ بہتر مانا جاتا ہے کہ صارفین کو وہ تمام چیزیں دی جائیں جو وہ چاہتے ہوں اور مسلمان وہ اہم ترین بازاری اکائی ہیں جن کا اب تک نہ مطالعہ کیا گیا ہے؛ نہ سمجھا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی بازاریوں نے اس انعام کے حجم پر حوصلہ افزائی کرنا شروع کیا ہے اور اس کے حصول کی اہمیت سے آشنائی ظاہر کی ہے، لیکن اصل چیلنج اسے طویل مدت تک مہارت، چابک دستی اور نفع بخشی سے چلانا ہے۔ مغربی برانڈ میں مارکیٹنگ اور برانڈنگ کی مہارت پائی جاتی ہے لیکن ان میں اکثر اوقات مسلم بازاروں میں کامیابی کے ساتھ نفوذ کرنے کے لئے درکار ثقافتی بیداری اور سماجی معلومات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ انہیں مقامی مارکیٹ ریسرچ اداروں اور منظوری ایجنسیوں کے ساتھ مل کر خوب محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم ممالک کی کمپنیاں برانڈنگ مواقع کی کثرت رکھتی ہیں، جن کا دائرہ مصنوعات سے شروع ہوکر کمپنیوں و اداروں اور یہاں تک کہ قومی شناخت تک وسیع ہے، اور ان کا فائدہ اس بات میں مضمر ہے کہ انہیں مسلمان صارفین کے مطالبات سے بہترین واقفیت ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ اس کام کو اچھی طرح انجام دینے کے لئے مطلوبہ برانڈنگ و مارکیٹنگ معلومات اور مہارت ان کے پاس نہیں ہے اور ایگزیکیوٹو تعلیم ان کے لئے کلیدی ترجیح کا مقام رکھتی ہے۔  

میں جب “اسلامک برانڈنگ اور مارکیٹنگ” کی اصطلاح استعمال کرتا ہوں تو میری مراد محض ان مصنوعات سے نہیں ہوتی جو مسلم ممالک میں تیار کی جاتی ہیں، چہ جائیکہ وہ بھی اس قسم کی تعریف میں شامل ہوں گی، لیکن اس کا اطلاق ان تمام پر ہوتا ہے جو مسلم منڈیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ہدف رکھتی ہوں۔ ممالک، مصنوعات اور خدمات کی برانڈنگ و مارکیٹنگ سے متعلق کسی قسم کی سرگرمی کا تذکرہ کرتے وقت مسلم صارفین مراد لئے گئے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ وہ مسلم اکثریتی یا مسلم اقلیتی ممالک میں قیام پذیر ہوں یا نہ ہوں یا مسلم ملکیت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔ سبز (گرین) برانڈنگ محض مسلم زیر ملکیت کاروباروں کی برانڈنگ ومارکیٹنگ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے پاس مسلم ملکیتیں تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی وہ مسلمان صارفین تک پہنچ رہی ہیں۔ اس لئے اس عنوان کے تحت وہ غیر مسلم برانڈ بھی آجائیں گے جو کسی بھی مسلم اکثریتی یا اقلیتی مارکیٹ میں اپنے برانڈ اور مارکیٹ شیئر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ متعدد برانڈ جو اس وقت مسلم دنیا کے صارفین کی ضرورت پوری کررہے ہیں، غیر مسلموں سے متعلق ہیں، ان میں سے بھی اکثر کا تعلق مغربی کمپنیوں سے ہے۔

اکثریت کے ساتھ مسلم آبادی کی مختلف النوعیت اور دنیا بھر کے تقریبا 57 ممالک میں نمایاں اقلیتی حیثیت کے باوجود، اسلام ان کی معمول کی زندگی کو باہم مربوط رکھتا ہے اور ان کی تصرفاتی عادتوں پر ایمان کی مرکزیت کے ذریعہ اثر انداز ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ان کی زندگی میں اسلام کی اہمیت کے حوالے سے خود بھی بہت سادہ ہے۔ دوسری جانب اس آبادی کو اپیل کرنے کے لئے برانڈوں کو مذہبی اقدار سے ہم آہنگ کردینے میں یہ چیز بہت مددگار ہے۔ چونکہ مسلم دنیا اقتصادی طور پر بہترین ادوار سے گذر رہی ہے، اس لئے اقدار دوست برانڈوں کے تئیں تشنگی میں اچانک زبردست اضافہ ہوا ہے۔

 میرا ماننا یہ ہے کہ ان چیلنجوں پر دونوں اطراف سے قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ مغربی برانڈ پہلے ہی تھوڑی بہت قوت سے آگے بڑھ رہے ہیں اور دیو پیکر کثیر قومی کمپنیاں بلاشبہ مارکیٹ شیئر حاصل کرتی رہیں گی اگر وہ اسلامی اقدار کی تفہیم کرلیں۔ کامیابی کی کچھ ابتدائی جھلکیاں اس صورت میں منظر عام پر آنے لگی ہیں کہ مسلم دنیا میں قائم شدہ برانڈ بہت تیزی سے بین الاقوامی مارکیٹنگ میں تجربہ اخذ کررہے ہیں۔ میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی تردد نہیں کہ برانڈ ڈیولپمنٹ کی اگلی لہر اور کامیابی عالمی اسلامی منڈی سے ہی نمودار ہوگی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی