بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / اقلیتی معاشی اجلاس / ’’ترکی ہندوستان میں سرمایہ کاری کرے،یہاں تجارتی مواقع زیادہ ہیں‘‘

’’ترکی ہندوستان میں سرمایہ کاری کرے،یہاں تجارتی مواقع زیادہ ہیں‘‘

وزیر اعظم نریند ر مودی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا ہند ترکی بزنس سمٹ میں خیر مقدم کرتے ہوئے (تصویر:پی آئی بی )

وزیر اعظم نریند ر مودی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا ہند ترکی بزنس سمٹ میں خیر مقدم کرتے ہوئے (تصویر:پی آئی بی )

نمائندہ خصوصی معیشت ڈاٹ اِن
نئی دہلی (معیشت نیوز) نئی دہلی میں منعقدہ ہند ترکی تجارتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جہاں خوشی کا اظہار کیا وہیں کہا کہ ’’میں اس بات سے خوش ہوں کہ مجھے آج کے سرکردہ کاروباری افراد کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں صدر اردوغان اور یہاں موجود ترکی کے اپنے سبھی دوستوں کا پرجوش خیرمقدم کرتا ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی ہے کہ صدر اردوغان کے ہمراہ کاروباری افراد کا ایک بڑا وفد ہندوستان آیا ہے۔ میں کئی ہندوستانی کاروباری سربراہوں کی شرکت کو دیکھ کر بہت زیادہ خوشی محسوس کررہا ہوں‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہندوستان اور ترکی کے درمیان زبردست تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ہم دنیا میں موجودہ معاشی نظام پر ایک مشترکہ نظریہ بھی رکھتے ہیں۔ اب اقتصادی تعاون پر باہمی تعلقات کا ایک اہم ستون بن رہا ہے ۔ ہماری باہمی تجارت میں پچھلے کئی برسوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ سال طیب اردوغان کے ہندوستان کے دورے کے بعد سے باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ باہمی تجارت جو 2008 میں 2.8 ارب ڈالر تھی، 2016 میں بڑھ کر 6.4 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ یہ ایک حوصلہ کن بات ہے کہ اصل مضمرات کے مقابلے موجودہ اقتصادی اور کاروباری تعلقات اپنی نویت کے لحاظ سے کافی نہیں ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان اور ترکی کا شمار دنیا کی 20 سب سے بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں معیشتوں نے دنیا کی نشیب وفراز والی معاشی صورتحال میں بھی زبردست استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہماری معیشتیں مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور اسی وجہ سے ہم اپنے معاشی امکانات کے بارے میں پرامید ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ایک دوسرے کے لئے زبردست خیرسگالی کا جذبہ پایا جاتا ہے کیونکہ ہم زیادہ مضبوط سیاسی تعلقات بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لئے زیادہ سرگرم کوشش کی جائیں۔ ہماری ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہم کو اس مالا مال وراثت پر کھڑا ہونا ہے۔ باہمی مصروفیات کو بڑھانے کے لئے بہت زبردست گنجائش اور موقع ہے۔ یہ مختلف پروجیکٹوں پر تعاون اور تجارت ایف ڈی آئی کی آمد اور ٹیکنالوجی تعلقات کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اس تناظر میں ہم نے ہندوستان میں ترکی کی کمپنیوں کی شرکت میں کچھ اضافہ دیکھا ہے اور یہ گزشتہ سال میں بلو چپ ہندوستانی کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور ایف ڈی آئی روٹ کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ البتہ اس طرح کا تعاون چھوٹی اور درمیانی صنعتوں میں بڑھ سکتا ہے۔ آج کی معلومات پر مبنی عالمی معیشت مسلسل نئے شعبے کھول رہی ہے۔ ہم کو اپنی معاشی اور کاروباری بات چیت میں اس عنصر کو شامل کرنا چاہیے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری دونوں ملکوں کی حکومتیں دوستانہ ماحول میں کاروبار فراہم کرنے کے تئیں عہد بستہ ہیں۔ البتہ میں آپ کی طرح یہ کاروباری سربراہ ہیں جنہوں نے دونوں ملکوں کو باہمی فائدے کے لئے قومی مقصد کو حقیقت میں تبدیل کیا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہندوستان کی سیاست کا نظام اپنے کھلے پن، زندہ دلی، تغیر پذیر اور شرکت کرنے والی جمہوریت کے لئے مشہور ہے۔ سیاسی اور انتظامی عمل میں استحکام اور قانون کا راج ہمارے نظام کی اصل روح ہے اور یہ کسی بھی سنجیدہ طویل مدتی معاشی مصروفیت کے اہم پہلو ہیں۔ تین سال پہلے اسی مہینے میں ہی میری حکومت اقتدار میں آئی تھی۔ تب سے ہم نے معاشی اور انتظامی عمل میں اصلاح کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ ہم نے میک ان انڈیا ، اسٹارٹ اپ انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے بہت سے پروگرام شروع کئے ہیں۔ ہندوستانی معیشت کی بحالی میں ان کا نتیجہ پہلے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ آج ہندوستانی معیشت کا شمار دنیا میں سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت میں ہوتا ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے علاوہ ہماری توجہ اپنے نظام میں تساہلی اور کمیوں کو دور کرنے پر ہے۔ ہم ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس لئے ہماری توجہ اس پر ہے کہ کام کرنے کو آسان بنایا جائے تاکہ کاروبار کیا جاسکے۔ اس میں پالیسیوں و عمل اور طریقہ کار میں اصلاحات شامل ہیں۔ اس میں گھریلو اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور کام کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ ہم نے کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ہمارا عالمی درجہ بندی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ البتہ یہ ایک جاری عمل ہے۔ اس لئے اسے جاری رکھنا ہے۔ دراصل مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کو ایک بہتر مقام دلایا جائے تاکہ عوام اپنے خواب اور صلاحیت کو بروئے کار لاسکیں۔ ہم اپنے نوجوانوں کے لئے روزگار، خود روزگار کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔ حالیہ جی ایس ٹی قانون میری حکومت کا اس طرح کا ایک اور قدم ہے۔ یہ کافی پرانی مانگ تھی کہ ملک میں ایک یکساں اور کارگر کاروباری ماحول تیار کیا جائے۔
میں جانتا ہوں کہ ترکی کی تعمیراتی کمپنیوں نے کامیابی کے ساتھ دوسرے ملکوں میں تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے بہت سے پروجیکٹوں کو انجام دیا ہے۔ ہمارے بنیادی ڈھانچے کی ضرورتیں کافی زیادہ ہیں جس میں سماجی کے ساتھ ساتھ صنعتی بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ ہم اسے مضبوط بنانے کے خواہشمند ہیں اور اسے تیزی سے نمٹادینا چاہتے ہیں۔ ترکی کی کمپنیاں اس کام میں آسانی سے شرکت کرسکتی ہیں۔ میں آپ کو کچھ مثالیں دیتا ہوں۔ ہم نے 2022 تک 50 ملین مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم نے تعمیراتی سیکٹر میں اپنی ایف ڈی آئی پالیسی کو ریفائن کیا ہے۔
ہم 50 شہروں میں میٹرو ریل پروجیکٹس کا منصوبہ بنارہے ہیں اور مختلف قومی کاری ڈورس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا منصوبہ بھی بنارہے ہیں۔ ہمارا اگلے کچھ برسوں میں 175 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کا نشانہ ہے۔بجلی تیار کرنے کے علاوہ ہمارے لئے ٹرانسمیشن، اسٹوریج اور بجلی کی تقسیم یکساں طور پر اہم ہے۔ ہم ریلویز کی جدید کاری اور اپنی شاہراہوں کو چوڑا کررہے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ہم نے ان دو سیکٹروں کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم مختص کی ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے معاشی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نئی بندرگاہیں بنارہے ہیں اور ایک اہم منصوبہ جیسے ساگر مالا کا نام دیا گیا ہے، کے ذریعے پرانی بندرگاہوں کو جدید کرررہے ہیں۔ اسی طرح موجودہ ہوائی اڈوں کو جدید بنانے کی طرف ہماری توجہ مرکوز ہے۔ ہم اقتصادی اور سیاحت کے اعتبار سے اہم مقامات پر رابطہ بڑھانے کے لئے علاقائی ہوائی اڈوں کو جدید طرز کا بنا رہے ہیں‘‘۔
ترکی کی تعریف کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ’’ترکی کی سیاحت کا سیکٹر عالمی سطح پر جانا جاتا ہے۔ ہندوستانی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد میں جو ترکی جاتے ہیں، پچھلے کئی سالوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ترکی ہندوستانی فلموں اور ٹیلی ویژن صنعت کی شوٹنگ کے لئے ایک مقبول مقام بن گیا ہے۔ ہم کو دو رخی سیاحت کی یقیناً حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہندوستان اور ترکی دونوں کو توانائی کی کمی کا سامنا ہے اور ہماری توانائی کی ضرورتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس لئے ہائیڈرو کاربن سیکٹر دونوں ملکوں کے لئے دلچسپی کا ایک مشترکہ شعبہ ہے۔ شمسی اور بادی توانائی بھی دونوں کے لئے اہمیت رکھتی ہے۔ اس لئے توانائی کا سیکٹر ہمارے باہمی تعلقات کے لئے ایک اہم ستون ہے۔ کانکنی اور ڈبہ بند خوراک ایسے دیگر شعبے ہیں جہاں زیادہ تعاون کی گنجائش ہے۔ ہم ٹیکسٹائل اور آٹو کے سیکٹروں میں بھی اپنی طاقت کو یکجا کرسکتے ہیں۔ ترکی ایک مضبوط مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے اور ہندوستان ایک کم لاگت والا مینوفیکچرنگ مرکز ہے۔ لاگت کے پہلو کے علاوہ ہمارے پاس ہنرمند اور نیم ہنر مند افرادی قوت ہونے کے علاوہ مضبوط آر اینڈ ڈی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔مجھے یہ کہتےہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اقتصادی اور تکنیکی تعاون سے متعلق ہند ترکی مشترکہ کمیٹی کا میکانزم بخوبی کام کررہا ہے۔ اپنی اگلی میٹنگ میں کمیٹی ان اقدامات کا جائزہ لے سکتی ہے جو دو رخی تجارتی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے کئے جائیں گے۔ اسی طرح میں دونوں ملکوں کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ سرگرمی کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑیں۔ ہماراعمل یہ ہے کہ حکومت اور بی۔2 بی دونوں سطح پر کام کرنا چاہئے۔ میں صدر اردگان وفد کے ارکان اور ہند۔ ترکی کاروباری چیمبرس کے ممبروں کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے آج کے فورم میں شرکت کی۔ ہندوستان اورترکی کی کاروباری برادری کے لئے ملکر کام اور انہیں ایک ساتھ لانے کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے‘‘۔
انہوں باہمی حصہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’آئے ہم اپنے اپنے عوام کی بھلائی کے لئے اپنی معاشی سرگرمیوں کی سطح کو بڑھانے کے لئے مل کر کام کریں۔ ہندوستان کی طرف سے میں کھلے دل سے آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان پہلے کی نسبت آج زیادہ پرکشش منزل ہے۔ اسے اور بہتر بنانے کے لئے میں ذاتی تعاون اور نگرانی کا آپ کو یقین دلاتا ہوں‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*