بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / پارلیمانی انتخابات میں ممبرا کی عوام کوحاشیے پر لاکھڑا کرنے کا الزام

پارلیمانی انتخابات میں ممبرا کی عوام کوحاشیے پر لاکھڑا کرنے کا الزام

مہاراشٹر کے ضلع تھانے میں واقع مسلم اکثریتی علاقہ ممبرا کوسہ کا بیرونی منظر

مہاراشٹر کے ضلع تھانے میں واقع مسلم اکثریتی علاقہ ممبرا کوسہ کا بیرونی منظر

شیو سینا بی جے پی کے ساتھ این سی پی کانگریس نے بھی اپنی کوئی بڑی ریلی نہیں کی،نہ ہی ووٹروں کو بیدار کرنے کی کوئی مہم چلائی ہے
ممبرا(معیشت نیوز) مسلم اکثریتی علاقہ ممبرا کوسہ میں پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کوئی گہما گہمی نہیں ہے۔ماضی کی طرح نہ ہی کوئی پوسٹرو بینر دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی گھوم گھوم کر ووٹوں کے لئے اپیل کرنے والے لوگوں کی کوئی ٹولی دکھائی دے رہی ہے ۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ نئی نسل کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کے علاقے سے کون پارلیمانی انتخابات میں امیدوار ہے۔گریجویشن کرچکی خان شفقت کہتی ہیں ’’میں رشید کمپائونڈ میں رہتی ہوں جہاں اکثر سیاسی گہما گہمی رہتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار ہم دوستوں میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس علاقے سے کون کون سے پارلیمانی امیدوار ہیں اور کس کس پارٹی کے لوگ انتخاب لڑ رہے ہیں‘‘۔پارلیمانی انتخابات میں ٹورچ کی نشانی سے کھڑے ہوئے آزاد امیدار وسیم سید کا کہنا ہے کہ’’جب میں نے یہ دیکھا کہ ممبرا و کوسہ کی مسلم آبادی کو بالکل حاشیے پر لاکھڑا کیا گیا ہے اور شیو سینا بی جے پی اس لئے یہاں تشہیری مہم نہیں چلا رہی کہ اسے معلوم ہے کہ یہاں سے اسے ووٹ نہیں ملیںگےجبکہ این سی پی کانگریس اس لئے مہم میں شریک نہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ایسے میں ضروری ہوگیا تھا کہ میں سماجوادی پارٹی چھوڑوں اور آزاد امیدوار کے طور پر ہی کم از کم انتخاب میں شریک رہوں کہ ایک جمہوری فضا قائم رہے۔‘‘وسیم سید کہتے ہیں ’’ میں نے سماجوادی پارٹی میں رہتے ہوئے اس بات کی کوشش کی تھی کہ انتخاب سماجوادی پارٹی کے بینر تلے لڑوں لیکن پارٹی کے دیگر ذمہ داران کی کیا سیٹنگ تھی کہ وہ مجھے انتخابی عمل میں شامل ہونے سے ہی روک رہے تھے لہذا جب میں نےمحسوس کیا کہ یہ عمل نہ صرف ممبرا و کوسہ کی عوام کے لئے نقصاندہ ہے بلکہ جمہوری طرز عمل کو ہی ختم کرنے والا ہے تو میں نے پارٹی سے علحدگی اختیار کر لی‘‘۔ وسیم سید کہتے ہیں ’’ممبرا کوسہ کی عوام کو سیاسی طور پر یرغمال بنالیا گیا ہے۔ایک وقت تھا جب کارپوریشن میں یہاں سماجوادی پارٹی کے سب سے زیادہ کارپوریٹر کامیابی حاصل کرتے تھے جبکہ اسمبلی میں کبھی کانگریس تو کبھی شیو سیناکی نمائندگی ہوا کرتی تھی شیو سینا بی جے پی کے لوگ بھی کچھ علاقوں میں اپنا پرچم لہرایا کرتے تھے یعنی ایک مقابلہ جاتی فضا قائم تھی لیکن معلوم نہیںاچانک ایسا کیا ہوا کہ تمام سیٹیں این سی پی کے کھاتے میں جانے لگیں ،اس وقت موقع یہ ہے کہ ہم عوام کو بتائیں کہ ہمارا جمہوری حق کیا ہے‘‘۔البتہ این سی پی کے کارپوریٹر شاکر شیخ کہتے ہیں ’’یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ پارٹیاں تشہیری مہم نہیں چلا رہی ہیں ۔میں نے اپنے وارڈ میں اپنی طرف سے تشہیری مہم چلا رکھی ہے ریلیوں کا انعقاد بھی کیا ہے ۔بڑی ریلیاں بھی ہوئی ہیں جبکہ ووٹروں سے بالمشافہ ملاقات کا سلسلہ بھی جاری ہے‘‘۔واضح رہے کہ این سی پی کانگریس اگھاڑی کی طرف سے جہاں بابا جی پاٹل امیدوار ہیں وہیں شیو سینا بی جے پی اگھاڑی سے شری کانت ایکناتھ شندے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*