بنیادی صفحہ / حلال صنعت / جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ : پتنجلی تو ایک مثال ہے حرام کمپنیوں کو حلال سرٹیفکیٹ دینا کاروبار ہے

جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ : پتنجلی تو ایک مثال ہے حرام کمپنیوں کو حلال سرٹیفکیٹ دینا کاروبار ہے

جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ کی ویب سائٹ کا عکس

جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ کی ویب سائٹ کا عکس

ہم نے جن کمپنیوں کو لائق خاطر نہیں سمجھا اسے ان لوگوں نے حلال سرٹیفکیٹ دے دیا؛ گلزار اعظمی،پوری مسلم دنیا میں حلال سرٹیفکیشن تنظیموں کو دھچکا لگا ہے؛ حلال بورڈ

نئی دہلی ،ممبئی :(معیشت نیوز) جمعیۃ علماء ہند حلال ٹرسٹ کی جانب سے گائے کا پیشاب بیچنے اور اپنے پروڈکٹ کے لئے حلال ضابطوں کا اہتمام نہ کرنے والی کمپنی پتنجلی کو حلال سرٹیفکیٹ دئے جانے کا معاملہ ملی حلقوں میںسنگین ہوتا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر حمایت و مخالفت میں جہاں بحث جاری ہے وہیں دھیرے دھیرے وہ معاملے بھی روشنی میں آرہے ہیں جس پر پردہ پوشی کی گئی ہے۔حلال سرٹیفکیشن سے وابستہ ایک شخص جن کے پاس جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ کی جانب سے کی گئی بےضابطگیوں کی لسٹ ہے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر کہتے ہیں ’’بنگلور کی ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو حلال ٹرسٹ نےایسا ہی ایک حلال سرٹیفکیٹ ایشو کردیا تھا جبکہ وہ کمپنی ایسی چیزوں کا استعمال کرتی تھی جوکہ حرام ہے۔میرے پاس تو پوری فہرست ہے لیکن تعلقات کی وجہ سے میں خاموش رہا ہوں‘‘۔جمعیۃ علماء ہند حلال کمیٹی جس کا نیا نام اب جمعیۃ علماء ہند حلال فائونڈیشن ہے کے ذمہ دار گلزار اعظمی معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ نے جو حرکت کی ہے وہ انتہائی نامناسب ہے۔پتنجلی والے سب سے پہلے ہمارے پاس آئے تھے اور مسلسل ایک ماہ تک سرٹیفکیٹ کے لئے سفارش کرتے رہے لیکن چونکہ ہمیں ان کے معاملات کا علم تھا لہذا ہم نے بار بار انکار کردیا اور پھر وہ لوگ محمود مدنی کی جمعیۃ علماء ہندحلال ٹرسٹ کے پاس چلے گئے۔ مولانا محمود مدنی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے قربت زبان زد عام ہے لہذا اس سلسلے میں مزید کیا بات کہی جا سکتی ہے۔‘‘گلزار اعظمی کہتے ہیں ’’جمعیۃ علماء ہند حلال فائونڈیشن کا یہ اصول ہے کہ وہ اگر کہیں ذرا سا بھی حرام کا شبہ ہو تو انہیں سرٹیفکیٹ نہیں دیتا ،یہ لوگ جب تک ہمارے ساتھ تھے تو بہتر ہی کررہے تھے لیکن جب سے الگ ہوئے ہیں ہر جگہ فساد پھیلارکھا ہے ذرا سا پائنچہ اٹھائے تو ان کی اصلیت ظاہر ہوجاتی ہے‘‘۔اس سوال کے جواب میں کہ آخر جو لوگ اچھا کام کررہے اس کی تشہیر اور جو لوگ خراب کام کررہے ہیں ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہےگلزار اعظمی کہتے ہیں ’’معیشت میڈیا نے ہمیشہ اچھے لوگوں کی پذیرائی کی ہے جبکہ فسادیوں کو بے نقاب کرنے کا کام کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو بے نقاب کریں تاکہ حلال سرٹیفکیشن کے نظام کو صاف ستھرا بنایا جاسکے۔‘‘ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے نیشنل سکریٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی کہتے ہیں’’وہاٹس ایپ گروپ پر ہم نے نیاز احمد فاروقی صاحب سے پتنجلی کی وہ لسٹ دریافت کی تھی جسے حلال سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک انہوں نے کسی طرح کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔‘‘

آل انڈیا حلال بورڈ کے جنرل سکریٹری دانش ریاض کا کہنا ہے کہ ’’ان شاء اللہ اگر حالات معمول پر آگئے تو ستمبر 2020کو ملیشیا میں ورلڈ حلال کانفرنس کا انعقاد ہونے والا ہے جس میں پوری دنیا کی حلال باڈی کے شرکاء تشریف لائیں گے ۔میں کوشش کروں گا کہ اس سے قبل وہ تمام دستاویزات یکجا کرلوں جو ان کی حرکات کو طشت از بام کرسکیں اور پھر اسے ورلڈ حلال کانفرنس کے دوران پیش کروں تاکہ لوگوں کو حقیقت کا علم ہو سکے،یقیناً اس واقعہ سے پوری دنیا میں حلال سرٹیفکیشن تنظیموں کو دھچکا لگا ہے ‘‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سکریٹری جمعیت علماء ہند حلال ٹرسٹ نیاز احمد فاروقی کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ایک پوسٹ میں لکھتے ہیں ’’وہ(پتنجلی والے) قانونی طور پر ایفی ڈیویٹ کے ذریعہ پابند ہیں کہ وہ ہمارے حلال اسٹینڈرڈ کے مطابق کوئی حرام بشمول گایے کے پیشاب کا ہرگز استعمال نہیں کریںگے اور نہ اپنی فیکٹری میں داخل کریں گے‘‘۔
حالانکہ یو ٹیوب پر ایسے ویڈیوز کی بھرمار ہے جہاں بابا رام دیوگائے کے پیشاب کے فوائد بتا رہے ہیں اور اپنی کمپنی پتنجلی کی تشہیر کررہے ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*