بنیادی صفحہ / بازار / سوشل میڈیا / ہمارا میڈیا ہائوس

ہمارا میڈیا ہائوس

میڈیا

نہال صغیر
ہندوستان میں مسلمانوں کی بے چارگی کا عالم یہ ہے کہ وہ جب بھی زیادہ ستائے جاتے ہیں تو انہیں کچھ باتیں یاد آتی ہیں کہ ہم نے یہ نہیں کیا ہم نے وہ نہیں کیا ۔ جیسے دہلی فساد کے بعد اور کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں جب تبلیغی جماعت کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کی آڑ میں پوری قوم اور اسلام کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا تو مسلمانوں کے درمیان ایک بار پھر اپنے میڈیا ہائوس کے قیام کی خواہش نے زور پکڑا ۔ اس سلسلے میں کئی مضامین نظروں کے سامنے سےگزرے مگر ان میں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں یا مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا ۔جیسے ان مضامین میں کیرالہ میں گذشتہ پانچ چھ برسوں سے قائم ’میڈیا ون‘ نام کے چینل کا کہیں تذکرہ ہی نہیں تھا ۔ یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ مکمل اندھیرا نہیں ہے اس کالی اندھیری سیاہ راتوں میں چند جگنو بھی ہیں جو اس اندھیرے سے لڑنے کا عزم لے کر میدان میں آئے ہیں  انہی میں کیرالہ کا ’میڈیا ون‘ نام کا چینل بھی ہے ۔ اس چینل کو جماعت اسلامی کے بہی خواہوں اور مسلمانوں کی بے چارگی کا احساس رکھنے والے افراد نے کھڑا کیا ہے جو کہ ملیالم میں ہے ۔ معلوم ہوا کہ ان کا ارادہ انگریزی اور ہندی کا بھی ہے ۔ مذکورہ چینل کو شروع کرنے کیلئے جماعت سے وابستہ افراد نے اپنی کئی ماہ کی تنخواہیں چندہ کے طور پر دے دی تھی اور مزید رقم شیئر کے ذریعہ اکٹھا کئے گئے تھے ۔ اس چینل کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ دہلی فساد کی حقیقی رپورٹنگ کے سبب اس پر اڑتالیس گھنٹے کی پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تھی مگر کیرالہ کے عوام کی پرزور مخالفت نے حکومت کے ناپاک عزائم کوروک دیا ۔ ہم میڈیا ہائوس کے قیام میں پیسوں کی ضرورت اور اس کو کامیابی کے ساتھ چلانے کیلئے بنیادی لیاقت سے پہلے اس بات کو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ قوم میں اس طرح کے افراد موجود رہے ہیں جنہوں نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے ۔مگر قوم میں میڈیا کے تعلق سے کوئی سنجیدگی نہیں ہونے کے سبب ان افراد کے عزائم زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ہم یہاں چند مثالیں پیش کرتے ہیں جس سے یہ صاف ہوجائے گا کہ کسی اخبار یا الیکٹرانک میڈیا کو چلانے میں کتنی دشواریاں آتی ہیں اور اسے کس طرح دو ر کیا جاسکتا ہے ۔تقریبا تین دہائی قبل تک مرحوم سید شہاب الدین ایک میگزین اردو اور انگریزی میں نکالا کرتے تھے جس کا نام مسلم انڈیا تھا ۔ میں نے اس سے بہتر تحقیقی رسالہ مسلمانوں کے درمیان نہیں دیکھا ، ہو سکتا ہے کہ یہ میری کم علمی کے سبب ہو ۔ مگر کیا ہوا ؟وہ رسالہ مالی دشواریوں کے سبب بند ہوگیا ۔ آج ہم میں سے کتنے ہیں  جنہیں یہ یاد ہے کہ کبھی ایسا بھی رسالہ شائع ہوا کرتا تھا ۔وہ ایک مضبوط دستاویز کی صورت میں بھی استعمال ہوا کرتا تھا ۔ سید شہاب الدین مرحوم اور ان ٹیم کی اس کو بہتر اور مسلمانوں کیلئے مفید بنانے میں کافی محنت کرتے تھے ۔
اس کے بعد ایک اور مثال دہلی اقلیتی کمیشن کے موجودہ چیئر مین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی جو ایک عرصہ تک ملی گزٹ شائع کرتے رہے ۔ اس رسالہ میں نے کئی ایسی خبریں دیکھیں جو کہیں اور نظر نہیں آتی تھی ۔ملی گزٹ اپنے نام کی طرح مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کیلئے وقف تھا ۔مگر بہر حال ظفرالاسلام خان کو بھی مالی دشواریوں کے سبب اسے بند کرنا پڑا ۔میڈیا میں ایک اور مسلم نوجوان نے اپنے کیرئر کو ختم کرلیا ۔ اس کا نام افروز عالم ساحل ہے ، وہ دہلی میں رہتا ہے اور اس نے آر ٹی آئی کے ذریعہ معلومات اکٹھا کرنے کا بھی ایک ریکارڈ بنایا تھا ۔ یہ وہی نوجوان ہے جو بٹلہ ہائوس میں انکائونٹر کے نام پر مسلم نوجوانوں کے قتل کو برسر عام لاتا رہا ۔ اس کیلئے اسے پولس انتظامیہ کی جانب سے درپردہ چیلنجز کا بھی سامنا کرناپڑا ۔آج وہ ’بیونڈ دی ہیڈ لائن ‘کے نام سے ایک نیوز پورٹل تک محدود ہوگیا ہے۔مایوسی پھیلانا میرا کام نہیں مگر مذکورہ بالا چند مثالیں اس لئے پیش کی ہیں تاکہ آپ یہ سمجھ سکیں کہ میڈیا میں مشکلات کے باوجود قوم کے خیر خواہوں نے قربانیاں دے کر آپ کی لڑائی لڑی ہے ۔ میدان بالکل خالی نہیں ہے آج بھی ایسے افراد ہیں جو ڈٹے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ اوپر میڈیا ون کا نام آیا ۔جن لوگوں کا نام اوپر پیش کیا گیا انہوں نے اپنی جیب کے پیسوں سے میڈیا ادارے کو چلایا ہر چند کے اس کوشش میں وہ لہولہان ہوئے ۔ ملی گزٹ کے تعلق سے شاید کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ معاملہ ہو کہ اس کے ایک صحافی کو عرصہ تک کسی رپورٹ کے سلسلے میں دہلی پولس کی جانب سے پریشان کیاگیا ان پرمقدمہ کیا گیا ممکن ہے کہ ان پر اب بھی مقدمہ ہو ۔ جو لوگ میڈیا کے تعلق سے سرگرمی دکھا رہے ہیں یا کچھ کرنا چاہ رہے ہیں ان کیلئے عرض ہے کہ میڈیا کو قائم کرنا اور پھر اس کو برقرار رکھنا دو الگ الگ کام ہیں ۔ الیکٹرانک میڈیا شاید چند کروڑ میں برائے نام کھڑا ہوجائے مگر اس کو چلانے کیلئے اربوں روپئے کی ضرورت ہے ۔ یہ ضرورت صرف اشتہارات سے پورے نہیں ہوسکتے اور جیسا کہ ہم میں سے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا پر صرف اشتہار دینے والے ادارے ہی اثر انداز ہوتے ہیں ، یہ پوری طرح سے غلط ہے ۔ میڈیا پر خفیہ ایجنسیاں بھی اثر انداز ہوتی ہیں اور وہ خبروں کو اپنے طو پر شائع کرنے یا اسے مسترد کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ اس لئے میڈیا کے میدان میں تو وہی آئے جسے سمندر کے کنارے پہنچ کر کشتی جلانے کا شوق ہو تاکہ فتح اس کا مقدر بنے ۔
جن ناموں کا تذکرہ کیا گیا اس کےعلاوہ بھی کئی اہم شخصیات نے ٹی وی چینل شروع کئے ۔ وہ روایتی نیوز چینل کی طرح نہیں تھے مگر ان کی کوششیں بہر حال قابل قدر تھیں ۔ اس سلسلے میں ہم ڈاکٹر ذاکر نائک کے پیس ٹی وی کو پیش کرسکتے ہیں ۔ ذاکر نائک کا مذکورہ چینل بلاشبہ خبریا چینل نہیں تھا مگر اس نے مسلمانوں کی شبیہ کو بہتر انداز میں پیش کرنے ،اسلام کا دفاع کرنے، اسلام اور مسلمانوں کیخلاف پروپگنڈہ کا ٹھیک ٹھیک جواب دینے کی بھرپور کوشش کی ۔ مگر ذاکر نائک کی ایک غلطی کے سبب غیر تو کیا اپنوں نے ہی وہ طوفان بدتمیزی برپا کی کہ الامان و الحفیظ ۔قوم کی مخالفت کے بعد ہی ذاکر نائک کو بنگلہ دیش ریسٹورنٹ حملہ کے ایک قاتل سے تعلقات کا شوشہ چھوڑ کر اسے بند کردیا گیا اور ذاکر نائک کے پورے اسلام کی تبلیغ کے مشن کو نقصان پہنچا ۔ اس کے بعد ذاکر نائک کے ہی نقش قدم پر چلتے ہوئے زید پٹیل نے آئی پلس ٹی وی شروع کیا ۔ یہ چینل بھی خبریا چینل نہیں تھا مگر اس میں حالات حاضرہ کا پروگرام شامل تھا ۔ جس میں مسلم مسائل کو بہتر انداز میں پیش کیا جاتا تھا ۔ مگر ذاکر نائک کیخلاف حکومت کے کریک ڈائون کے بعد آئی پلس ٹی وی میں پہنچ کر خفیہ ایجنسیز والے طرح طرح کے سوالات کرتے تھے جس سے خوف اور دہشت کا ماحول بنے ۔ اس کا اثر اس کے مالی وسائل پر پڑا جس کی وجہ سے مذکورہ چینل بھی بند ہوگیا اور اب وہ یوٹیوب پر مختلف پروگرام پیش کرتے ہیں ۔ ممبئی میں پندرہ برس قبل الکتاب کے نام سے بھی ایک چینل شروع ہوا وہ بھی تقریبا آئی پلس یا پیس ٹی وی کی طرز پر تھا ۔ اسے دہلی کے کسی مسلمان بلڈر نے سپورٹ کیا تھا لیکن کوئی مضبوط منصوبہ بندی کے بغیر یہ چینل بھی ایک سال میں ہی بند ہوگیا ۔اس طرح کی کہانیاں اور بھی ہوں گی ۔ ان سب کے بند ہونے کی دو خاص وجوہات ہیں منصوبہ بندی اور رقم کی کمی نیز حالات کے سامنے سپر ڈال دینا۔ گذشتہ کالم میں ہم نے دوئم کشتی جلانے کی بات کی تھی ۔ اسے بھی آپ منصوبہ بندی اور رقم کی فراہمی سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں ۔ جب آپ کسی نیوز چینل کو کھڑا کرنے کی بات کرتے ہیں تو یقین جانئے آپ ایک گہرے سمندر میں اترنے کی بات کررہے ہیں جہاں قائم رہنے کیلئے تیراکی کی مہارت ضروری ہے ۔نیوز چینل کے سمندر کی تیراکی جذبات سے عاری بے پناہ حوصلوں اور ہمت کے ساتھ اربوں روپیوں کے وسائل کا حصول ہے ۔ چینل کی دنیا میں صرف اشتہارات دینے والی کمپنیاں ہی متاثر کن رول ادا نہیں کرتیں بلکہ حکومت بھی آپ کو ڈرانے اور ڈراکر اپنے مطابق خبریں پیش کرنے کیلئے مجبور کرتی ہے ۔ اسی لئے لکھا گیا کہ یہاں کشتیاں جلا کر آئیے یعنی آپ کو جہاں بڑی رقم کی ضرورت ہے وہیں خواہ حالات جیسے بھی ہوں اس سے پیوستہ رہنے کی ضرورت ہے ۔آپ کے سامنے این ڈی ٹی وی کی مثال ہے جسے حکومت دبائو میں لینے اور اسے بھی گودی میڈیا کاطرز اختیار کرنے کیلئے مجبور کرتی ہے اس کے لئے حکومت کے پاس بہت سے ذرائع ہوتے ہیں ۔ یہ کام کانگریس کی حکومت میں بھی ہوتا تھا مگر چونکہ وہ لوگ پڑھے لکھے تھے اس لئے تہذیب کے دائرے میں کرتے تھے ۔ مگر موجودہ حکومت میں یہی کام بھونڈے پن سے کیا جارہا ہے ۔ میڈیا میں سرگرم ایک شخص نے بتایا کہ کوئی میڈیا ہائوس کھڑا کرنے کیلئے اس کے پیچھے کسی مضبوط تنظیم کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ عام لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ چند اخبارات یا ٹی وی چینل کو چھوڑ کر سب کی کسی نہ کسی سے وابستگی ہے ۔ لیکن جو لوگ مسلمانوں کے میڈیا ہائوس کا خواب لے کر سامنے آرہے ہیں ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے ۔ منفی پہلو یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں یا مسلم تنظیموں کا میڈیا کے تئیں جھکائو ہی نہیں ہے ۔ وہ اس کی شرارت سے نالاں تو ہیں مگر اپنا میڈیا ہائوس قائم کرنے کی جانب ان کا ذہن ہی نہیں ۔ ایک بار جمعیۃ العلماءمہاراشٹر کے حافظ ندیم صدیقی نے کہا کہ ہم نے اس جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف فتوے آگئے ۔ حالانکہ جمعیۃ العلماء ہند نے کئی دہائی قبل مسلمانوں کے اخبار کیلئے کوشش کی تھی مگر اس کا کیا ہوا معلوم نہیں ۔میڈیا ہائوس قائم کرنا اتنا آسان نہیں کہ چند لوگ کھڑے ہوئے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے کام کرلیا ۔ یہ کام ناممکن تو نہیں ہے مگر آسان بھی نہیں ہےاس کی منزل پرخار راستوں سے ہو کر ملتی ہے ۔بین الاقوامی طور پر دیکھیں تو الجزیرۃ چینل سب سے معروف ہے مگر اس کو کتنی بڑی قیمت چکانی پڑی ہے ۔ اس کے دفتر پر خلیج کی جنگ کے موقع پر بمباری کی گئی ۔اس کے نہ جانے کتنے صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آج بھی مصر کی جیلوں میں آل سعود کی شہ پر الجزیرۃ کے کئی صحافی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب امریکہ نے قطری حکومت سے الجزیرۃ کو بند کردینے کیلئے کہا تھا مگر اس نے بہت خوبصورتی کے ساتھ امریکہ کو لاجواب کردیا تھا کہ ’’کمال ہے آپ ہی تو جمہوریت اور اظہار رائےکی آزادی کی باتیں کرتے ہیں‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*