بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / ریلوے کی نجکاری: مرکزی حکومت اپنے دوستوں کو ملک کی جائیداد فروخت کررہی ہے۔

ریلوے کی نجکاری: مرکزی حکومت اپنے دوستوں کو ملک کی جائیداد فروخت کررہی ہے۔

عبد المجید صاحب

عبد المجید 

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)کے قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے اپنے اخباری اعلامیہ میں مرکزی حکومت کے حالیہ اقدا م جس میں نجی کمپنیوں سے مسافر ٹرینوں کی آپر یٹنگ کیلئے ریکویسٹ فار کوالیفکیشن طلب کیا گیا ہے اس کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے نریندر مودی حکومت پر الزام لگا یا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ملک کی جائیداد فروخت کررہی ہے۔ عبدالمجید نے مزید کہا ہے کہ آزادی کے بعد کی تاریخ میں ہندوستان ایک ایسی مرکزی حکومت کا مشاہدہ کررہا ہے جو معاشی مینجمنٹ میں بری طرح ناکام ہے۔ نااہل وزیر اعظم کی سربراہی میں انتہائی نا اہل کابینہ میں نااہل وزیر خزانہ نے ملک کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ افراط زر بہت بڑھ گئی ہے اور جی ڈی پی نیچے چلی گئی ہے۔ معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کے پاس کوئی وژن یا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک معاشی سرگرمی ہورہی ہے وہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں باقاعدہ اضافہ کرنے کی سرگرمی ہے۔ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس میں نرمی کردی ہے جو صرف کارپوریٹ کواپنا بینک بیلنس بڑھانے میں مدد فراہم کرتی ہے اور سرکاری خزانے میں ٹیکسوں کی آمدنی کم کرتی ہے۔ کوویڈ19کی وجہ سے ہندوستانی معیشت پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ وبائی مرض پھیلنے سے پہلے ہی ہندوستانی معیشت زوال کا شکار تھی۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبد المجید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس وژن اور منصوبہ بندی کی کمی ہے اسی لئے مالی خسارے کے ازالے کیلئے وہ پبلک سیکٹر کو فروخت کررہی ہے۔ اس فروخت کے عمل کی فہرست میں تازہ ترین ریلوے ہے۔ مرکزی حکومت نے 151جدید ٹرینوں کے تعارف کے ذریعے109روٹس پر اپ اور ڈاؤن چلنے والی مسافر ٹرینوں کی آپریٹنگ کیلئے نجی کمپنیوں سے ریکویسٹ فار کوالیفکیشن طلب کی ہے۔یہ پبلک سیکٹر کی نجکاری کا تازہ ترین اقدام ہے۔ حکومت پہلے ہی یہ اعلان کرچکی ہے کہ اسٹریٹجک سیکڑسکے علاوہ تمام پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس(پی ایس یو) کو فروخت کردیا جائے گا۔ جب آزادی ملی تو ہندوستان ایک ایسا زرعی ملک تھا جو بڑے مالی خسارے کا سامنا کررہا تھا اور جواہر لال نہر و کی سربراہی میں آزاد ہندوستان کی پہلی حکومت نے اس صورتحال کا بخوبی جائزہ لیا اور پایا کہ مالی بحران کے مسئلے کو حل کرنے اور معیشت اور ملک کی ترقی کیلئے صنعت فروغی ہنگامی حل ہے۔ پانچ سالہ منصوبہ بنائے گئے اور اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ پانچ سالہ منصوبے کی نگرانی کیلئے ایک پلاننگ کمیشن تشکیل دی گئی۔ اس پانچ سالہ منصوبے اور تقریبا تمام علاقوں میں پی ایس یو کے قیام سے ملک کی ترقی میں مدد ملی تھی۔ مودی حکومت نے پانچ سالہ منصوبے کو بند کردیا اور پلاننگ کمیشن کو بھی ختم کردیا تھا۔ سرکاری خزانے میں کمی ہورہی اور حکومت پی ایس یو فروخت کرکے اس کا حل نکالنے کا سوچ رہی ہے۔ بی جے پی کا خزانے کا صندوق پی ایم کیئر فنڈسمیت مختلف ذرائع سے جمع کی گئی رقم سے بھر رہا ہے۔ ملک فاشسٹ حکمرانی کے تحت سوشلسٹ، وفاقی، فلاحی ریاست کے تصور سے آمرانہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھ رہاہے۔ پسماندہ طبقات کی فلاح وبہبودی کیلئے اس کے خلاف سخت جدوجہد کرنا ضروری ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوامی املاک اور کارپوریٹس کے ہاتھ ملک کی خودمختاری حوالے کرنے سے باز رہے اور تمام غیر بی جے پی پارٹیوں سے اپیل کیا ہے کہ وہ فاشسٹ حکومت کے تباہ کن اقداما ت کے خلاف آگے آئیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*