بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / نیشنل میڈیا علماء کی منتظر

نیشنل میڈیا علماء کی منتظر

نقی احمد ندوی

نقی احمد ندوی

نقی احمد ندوی

اس دور پر آشوب میں جہاں صحافت امیروں اور حکومتوں کے معمولی داد و دہش اور گرانٹ پر بک جاتی ہے، وہیں ایسے بہادر اور ایماندار صحافیوں کی اشد ضرورت ہے جو اپنی جان کی بازی لگا کر حق کو حق کہنے کی ہمت اورجرأت رکھتے ہوں۔ صحافت نہ صرف معلومات کی فراہمی، رائے عامہ ہموار کرنے اور لوگوں کے لییسامانِ تفریح پیدا کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ وہ کسی بھی قوم کی ترقی اور رہنمائی میں ایک کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ فارغینِ مدارس جرنلزم اور صحافت کے میدان میں اپنی گرانقدر خدمات کے ذریعہ ملک و ملت کی ترقی میں ایک بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں۔
آج کے دور میں صحافت اختصاص کا نام ہے، آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ صحافت کے کس میدان میں آپ جانا چاہتے ہیں۔ مثلاً سیاست، معاشیات، سیروتفریح، فنونِ لطیفہ وغیرہ۔ اختصاص کے بغیر اس میدان میں کسی بڑی کامیابی کی امید رکھنا وقت اور انرجی کا ضیاع ہے۔ جرنلزم میں گریجویشن یا ڈپلوما کرنے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کے اندر ایک صحافی بننے کی قدرتی صلاحیتیں اور ذہنی و طبعی میلانات موجود بھی ہیں یا نہیں۔ کسی موضوع پر ریسرچ اور تحقیق کرنے اور اس کے آخری انجام تک پہنچنے کی آپ کے اندر صلاحیت پائی جاتی ہے یا نہیں، اگر آپ کے اندر اس کے لیے مطلوبہ محنت، مشقت اور صبر کا مادہ موجود ہے تو پھر اس میدان میں طبع آزمائی بہتر ہے۔ باضابطہ صحافت کو کیریئر بنانے سے پہلے مختلف موضوعات پر مضامین لکھنا اور انھیں مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع کرانا کامیابی کی علامت ہے۔ شعبۂ صحافت میں کامیابی تسلسل ، صبر اور جاسوسی کی صلاحیت کا مطالبہ کرتی ہے۔ کسی بھی حادثہ، واقعہ یا معاملہ کی تہ تک جانا، اس کے حقائق دریافت کرنا اور ان سے نتائج اخذ کرکے ایک بہترین، سلیس اور پرکشش انداز میں تحریر کرنے کی صلاحیت ہی دراصل صحافت کہلاتی ہے، لہٰذا ان خوبیوں اور خصائص کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جہاں تک جرنلزم کے میدان میں تعلیمی اہلیت کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ جرنلزم کے کورس آپ کو تکنیکی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جرنلزم میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کرنے یا ڈپلوما کرنے سے کوئی صحافی نہیں بن جاتا، بلکہس کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کو پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ صحافی بننے کے لیے صحافت میں ڈگری یا ڈپلوما ضروری نہیں بغیر کسی ڈگری یا ڈپلوما کے کالم نگار، بلوگر اور تجزیہ نگار بن سکتے ہیں مگر اس کو باقاعدہ ایک کیریئر کے طور پر اختیار کرنے اور اسے ذریعہ معاش بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے کسی مؤقر ادارے سے کوئی کورس کررکھا ہو، تاکہ کم ازکم اخبارات و جرائد اور میڈیا کے ایڈیٹرس تک رسائی میں سہو لت اورآسانی ہو ورنہ عام طور پر ایسے لوگوں کا انتخاب نہیں کیا جاتا جن کے پاس کوئی متعلقہ سرٹیفکٹ نہ ہو۔
جرنلزم میں داخلہ بارہویں کلاس (انٹرمیڈیٹ) کرنے کے بعد یا کسی بھی سبجیکٹ میں گریجویشن کے بعد لیا جاسکتا ہے۔ عام طورپر یونیورسٹیز اور کالجز یا جرنلزم کے تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے انٹرنس اکزام پاس کرنا پڑتا ہے جو کورسز اس وقت ہمارے ملک میں عام طور پر رائج ہیں۔ ان میں مشہور حسب ذیل ہیں: بی اے ان جرنلزم، بی اے ان جرنلزم اینڈ کمیونیکشن ، بیچلر ان ماس میڈیا اینڈ ماس کمیونیکشن، علاوہ ازیں بہت سارے کالجز اور اداروں میں ڈپلوما اور ایڈوانس ڈپلوما کے کورسز بھی موجود ہیں۔ یونیورسٹیز اور کالجز میں انڈین انسٹی آف ماس کمیونیکیشن (IIMC) ، امیٹی اسکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اگنو اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی وغیرہ مشہور ہیں۔
جرنلزم اور ماس کمیونیکشن میں ڈگری یا ڈپلوما حاصل کرنے کے بعد مواقع کے بہت سے دروازے کھلتے ہیںاور ایک بہترین ذریعہ معاش کا راستہ صاف ہوجاتا ہے۔ رپورٹر، اسپیشل رپورٹر، فیچر رائٹر، پروف ریڈر، ایڈیٹر، کالم نگار، تنقید نگار، ٹرانسلیٹر، کارٹونسٹ وغیرہ کی نوکریاں بہ آسانی مل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے بعض اداروں او رکارپوریٹ میں بھی بہت سارے مواقع بھی ہوتے ہیں۔
اس وقت جہاں ایماندار، حق گو، بے باک اوربے لوث صحافیوں کی شدید قلت ہے وہیں اسلام اور مسلمانوں کی تصویر مسخ کرنے کی سازش جاری ہے۔ خاص طور پر انگریزی صحافت کے اندر اسلام کے خلاف جو زہر اگلا جاتا ہے وہ کسی پر مخفی نہیں۔
دینی اور اسلامی بیک گراؤنڈ نہ ہونے کے باعث انگریزی میڈیا کے صحافی اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف اس جنگ میں بہت کمزور اور ناتواں ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا جتنی قوت و طاقت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، وہ ہمیشہ سے مفقود نظر آتی ہے۔ اگر مدرسہ کے فارغین انگریزی، ہندی اور اردو صحافت میں زیادہ سے زیادہ اپناکیریئر بنانے کی کوشش کرتے تو ان کے اس اقدام سے دین و ملت کی اس شدید ضرورت کی تکمیل ہوتی اور ساتھ ہی ان کے لیے ایک بہترین ذریعہ معاش بھی ثابت ہوتا۔ اگر ذمہ دارانِ مدارس اور دینی تعلیم گاہوں کے سربراہان اپنے مدارس میں دوسری عصری تعلیم گاہوں جیسے اگنو وغیرہ کے برانچ کھول کر جرنلزم کے کورسیز کا آغاز کریں تو یہ بہت ہی مفید اور مثبت قدم ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ فارغین مدارس بھی ایک اچھی منصوبہ بندی کے تحت اس شعبہ میں اگر پیش رفت کریں تو بہت ہی مثبت اور دور رس نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جب کہ نیشنل میڈیا مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی میں آخری حد تک پہونچ چکا ہے ، کیا ہمارے علماء کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ اب انگریزی نہیں تو کم از کم ہندی نیشنل میڈیا میں آنے کے لیے مدارس کے بچوں کو تیار کریں ِ ، اگر علماء میدان میں نہیں آیںگے تو قوم کو بیچنے والے نام نہاد مولوی مولانا ٹی وی چینلوں پر اسی طرح امت کو بیچتے رہیں گے ، صرف مضامین ومقالات پڑھنے کا وقت نکل چکا ہے اور اب ایکشن لینے کی ضرورت ہے

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*