فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے 

Jews

Jews

عمر فراھی ‌

وہ ایک مغرب نواز مسلمان تھا۔ کہہ رہا تھا کہ مسلمان جاہل ہے نااہل ہے اور شکست خوردہ ذہنیت کا مالک ہے۔ ایک سے زائد شادیوں کی بات کرتا ہے۔ کثرت سے بچے پیدا کرتا ہے پان کھاتا ہے اور گندگی کرتا ہے ۔ ہر معاملے میں اسے اپنے خلاف اہل مغرب، یہود و نصارٰی اور آرایس ایس کی سازش نظر آتی ہے جبکہ دنیا میں سب کچھ قدرت کےطئے شدہ منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ جو بھی علم و ہنر میں مہارت حاصل کرکے جدوجہد کرے گا وہ آگے بڑھے گا۔ پھر اس نے علامہ کا شعر پڑھا ؎ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی/ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

لوگوں کی واہ واہی اور تالیوں کے استقبال سے وہ بہت خوش ہو رہا تھا ۔ وہ یہ بھول گیا کہ اقبال نے اسی ترقی یافتہ مغرب کے بارے میں یہ بھی تو کہا ہے ؎ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی/ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا ۔اب اس کا اعتراف خود اہل مغرب کو بھی ہے ۔

27 جون کے دی اکنامسٹ کے صفحہ اول پر چھپی کچھ تصویروں پر میں ایک مضمون لکھ رہا تھا تو دیکھا کہ اسی صفحہ پر ایک گھڑی کی تصویر بھی ہے۔ گھڑی کی سوئی بتارہی تھی کہ بارہ بجنے میں صرف ایک منٹ باقی ہے۔ مصنف کہنا چاہ رہا ہے کہ دنیا کو تباہ ہونے یا بارہ بجنے میں صرف ایک منٹ کا وقفہ رہ گیا ہے۔ یہ ایک منٹ کتنے سال کا ہو سکتا ہے یہ بھی ایک تحقیق کا موضوع ہے۔ اس میگزین کے صفحے کی دوسری تصویریں ظاہر کرتی ہیں کہ جس مغربی ترقی پر ہمیں ناز ہے اس کی ترقی نے دنیا کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرکے تباہی کے خوفناک دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔

اتفاق سے میں اس مغرب زدہ ترقی پسند مسلمان کی محفل میں اچانک پہنچ گیا۔ میں نے کہا بھائی  ماشاءاللہ سر سید اور ان کے ساتھی بہت پہلے ہی قوم کے پنچانوے فیصد لوگوں کو مدرسوں سےجدید مکتب کی طرف منتقل کر چکے ہیں۔ لیکن سو سالہ اس تحریک سے مسلمانوں میں جو تبدیلی کا فرق دیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ پہلے انپڑھ کو جاہل سمجھا جاتا تھا اب کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ پڑھے لکھے جاہلوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پہلے جو بھی علم تھاوہ انسانوں میں تہذیب و تمدن اور اخلاق کے معیار کو بلند کرتا تھا اب مغربی نصاب نے انسانوں میں ریاکاری تکبر اور مسابقت کا زہر بھر دیا ہے۔ سرسید اور ابوالکلام کو اگر پتہ ہوتا کہ جس نصاب کی انہوں نے وکالت کی ہے اس تعلیم سے نئی نسل میں سرسید اور ابوالکلام کبھی نہیں پیدا ہوں گے تو یقیناً وہ اسی وقت توبہ کرلیتے مگر ہر کوئی اقبال کی طرح پروفیسر نہیں ہوسکتا جنھوں نے ایک بار کہا تھا کہ اقبال ہمیشہ دیر سے ہی آتا ہے اور ؎ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے/ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

یہ حقیقت ہے کہ جن ماؤں نے سرسید ابوالکلام اور اقبال کو پیدا کیا تھا اور بغیر کسی یونیورسٹی اور کالج کی تعلیم سے ان شخصیات کے اندر ترقی کی یہ سوچ پیدا ہوئی تھی ان ماؤں نے کبھی کسی کالج اور یونیورسٹی کا منھ تک نہیں دیکھا تھا۔ جس مولوی سے سر سید نے استفادہ کیا تھا اور جو مولوی شبلی اور حمیدالدین فراہی کا بھی استاد تھا اس کا نام مولوی فاروق چریاکوٹی ہے۔ اس مولوی کی تعلیم بھی کسی کالج اور یونیورسٹی سے نہیں ہوئی تھی۔ خود سر سید کی جدوجہد سے جو ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی کا وجود عمل میں آیا یا شبلی اور فراہی اور ابوالکلام نے دینی اور سیاسی ادارے قائم کئے بعد میں ان اداروں سے ایک بھی سرسید شبلی آزاد حالی اور فراہی کے قد کی شخصیتیں نہیں پیدا ہوئیں ۔ آپ پوچھیں کہ وجہ

وجہ یہ ہے کہ تہذیب و تمدن اور اخلاق کی نشوونما حکومت کے ماتحت اداروں سے نہیں سیاسی نظام سے ہوتی ہے اور شخصیتوں کی شناخت اخلاق سے ہوتی ہے تعلیم سے نہیں۔ بدقسمتی سے جدید لادینی سیاسی نظام میں اخلاق اور خالق کا تصور بھی تو نہیں ہے۔ نتیجتا جدید تعلیم یافتہ افراد نے ہی کرہ ارض کو بارود کے ڈھیر پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔

میں نے کہا لیکن آپ کس بات پر مسلمانوں کو جاہل کہہ رہے ہیں اور مسلمان کیسی سازش کی بات کر رہا ہے ؟

اس نے کہا اب یہی دیکھو نہ ہر جگہ کرونا سے لوگ مر رہے ہیں اسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈ خالی نہیں ہے اور شمسان گھاٹ میں جلانے کیلئے لاشیں قطار میں رکھی ہوئی ہیں اور مسلمان کہتا ہے کہ کرونا ورونا کچھ نہیں ہے یہ سب میڈیا اور سیاستدانوں کا پروپگنڈہ ہے اور یہ لوگ بل گٹس اور امبانی جیسے سرمایہ داروں کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں۔ بھلا بتائیں سرکار دیس کا اتنا بڑا نقصان کرکے عوام کے ساتھ کھیلواڑ کیوں کرے گی؟

میں نے کہا ہاں بھائی تمہاری بات سو فیصد درست ہے اب یہی دیکھو نہ لداخ میں بھارت چین کی سرحد پر صرف ایک جھڑپ ہوئی جس میں بیس بھارتی فوجی مرے تو چالیس چین کے فوجی بھی تو مرے اور اس جھڑپ سے چین کو بھارت کی طاقت کا بھی اندازہ ہو گیا ہے۔ چینی فوجی جس طرح ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں وہ دوبارہ کبھی گھس پیٹھ کی سوچیں گے بھی نہیں۔ پھر بھی سرکار مخالف میڈیا زبردست طریقے سے پرو پگنڈہ کر رہا ہے کہ چین کی فوجوں نے کئی کلو میٹر اندر آکر گلوان گھاٹی پر قبضہ کر لیاہے ۔

وہ ترقی پسند مسلمان میری بات سن کر حیرت سے دیکھنے لگا اور کہتا ہے کہ بھائی کیسی بات کر رہے ہیں آپ۔ چین نے حقیقت میں گلوان گھائی پر قبضہ کر لیا ہے۔ میں نے کہا بھائی آپ کو کون یہ جھوٹی خبر دے رہا ہے۔ کیا آپ کو وزیراعظم کی باتوں کا یقین نہیں ہے۔ آخر آپ سرکار اور سرکاری میڈیا کی بات کیوں نہیں مانتے۔ کہنے لگا بھائی یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ میں نے کہا پھر یہ لوگ کرونا کے بارے میں سچ کیسے بول سکتے ہیں ؟

میں نے کہا چلو چھوڑو اسے۔ یہ بتاؤ2001 میں امریکہ میی  9/11 کے حادثے کے بارے میں کچھ پتہ ہے آپ کو ۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا اس میں کس کا ہاتھ تھا۔ اس نے جھٹ سے کہا یہ یہودیوں کی سازش تھی۔ میں نے کہا زبردستی بے چارے یہودیوں کو کیوں بدنام کررہے ہو۔ کیا یہودی کن فیکون کی طاقت رکھتا ہے۔ کبھی غور سے سوچیں کہ ایک سو دس منزلہ وہ عمارت جو دس لاکھ ملین مربع فٹ زمین پر پھیلی ہوئی تھی صرف چالیس منٹ میں ایک ساتھ زمین  بوس کیسے ہو سکتی ہیں؟ جبکہ ایسی دوسری دو عمارتیں بھی اسی وقفے میں زمین بوس ہو گئیں ۔ میں نے تو آج تک اس حادثے سے پہلے اور بعد میں بھی صرف دس ہزار مربع فٹ کی عمارت کو بھی اتنے کم وقفے میں موم کی طرح پگھلتے نہیں دیکھا۔ میں نے کہا سارا مغربی میڈیا اور سرکاری ادارہ تو بن لادن کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہہ رہا ہے جو کبھی اقبال نے کہا تھا ؎ میں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا

پھر وہ بول پڑا بھائی آپ تو عجیب مخلوق لگ رہے ہیں۔ سب الٹی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کہا بھائی میں سب وہی بات کر رہا ہوں جو آپ کی سوچ ہے اور خود مغرب کے ترقی پسند لوگ اور ان کا میڈیا کہہ رہا ہے۔ سوائے چند صہیونی مخالف قلمکاروں کو چھوڑ کر یوروپ کے تمام سرکاری ادارے جس میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے اعتراف کرچکے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی طیاروں کے ٹکرانے سے ہوئی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ جن یہودیوں کی سازش کی بات کر رہے ہیں ممکن ہے اس سازش میں ان کے اس مسیحا کی مدد شامل ہو جس کا وہ انتظار کر رہے ہیں یا پھر بن لادن کے خدا نے بن لادن کی مدد کی ہو۔ خیر آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ لادن تو دہشت گرد تھا خدا اس کی مدد کیسے کرسکتا ہے !

بے چارہ ترقی پسند مسلمان تلملا کر کہنے لگا کہ میں تو اس میں امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہی مانتا ہوں۔ میں نے کہا میں بھی آپ سے یہی کہلوانا چاہتا تھا کہ آپ سازشی نظریے کا اعتراف کر لیں اور آپ نے اعتراف کر لیا کہ مغرب اور یہود و نصارٰی سازشیں کرتے ہیں۔ اب یہ بھی مان لیں کہ یہودیوں کی سازش کو سب سے پہلے قرآن نے بے نقاب کیا۔ مگر جب ہم نے انہیں دوست بنا لیا تو یہودیوں کی سازش کو دوبارہ ہٹلر نے اپنی کتاب میری جدوجہد میں انکشاف کیا۔ اس کے بعد اہل ایمان میں اقبال کی شخصیت تھی جس نے مغرب کی ترقی میں اپنی فلاح کا خواب دیکھنے والے مسلمانوں کی قیادت سے مخاطب ہوکر کہا ؎ تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں/ فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر