بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / اقلیتی معاشی اجلاس / عظمیٰ ناہید بزنس وومن آف دی ایئر 2021سے سرفراز،سیکڑوں خواتین کو خودکفیل بنانے پراعزاز

عظمیٰ ناہید بزنس وومن آف دی ایئر 2021سے سرفراز،سیکڑوں خواتین کو خودکفیل بنانے پراعزاز

اقراء انٹرنیشنل وومنس الائنس )Iqra International Women's Alliance   (IIWAکی سربراہ عظمیٰ ناہید صاحبہ مغربی بنگال فیڈریشن آف یونائیٹڈ نیشن ایسو سی ایشن کی رکن ،مشہور سماجی خدمت گار ،کارپوریٹ ٹرینرسائرہ شاہ حلیم سےایوارڈ حاصل کرتے ہوئے : تصویرمعیشت

اقراء انٹرنیشنل وومنس الائنس )Iqra International Women’s Alliance (IIWAکی سربراہ عظمیٰ ناہید صاحبہ مغربی بنگال فیڈریشن آف یونائیٹڈ نیشن ایسو سی ایشن کی رکن ،مشہور سماجی خدمت گار ،کارپوریٹ ٹرینرسائرہ شاہ حلیم سےایوارڈ حاصل کرتے ہوئے : تصویرمعیشت

معیشت میڈیا کی جانب سے کولکاتہ کے کلا مندر میں سیکڑوں تاجروں کے مابین خطاب سے نوازہ گیا

کولکاتہ: اقراء انٹرنیشنل وومنس الائنس )Iqra International Women’s Alliance (IIWAکی سربراہ عظمیٰ ناہید صاحبہ کو معیشت میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے کولکاتہ کے کلا مندر میںمنعقدہ نواں کل ہند تجارتی و معاشی اجلاس میں سیکڑوں تاجروں کے مابین بزنس وومن آف دی ایئر 2021کے ایوارڈسے سرفرازکیا گیا۔عظمیٰ ناہید ملک میں مسلم خواتین کی معاشی بہتری کے لئے کوشاں ہیں اور سیکڑوں خاندان کو برسر روزگار کرچکی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعت کو فروغ دے کر انہوں نے گھریلو تجارت میں انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔اپنی این جی او شروع کرنے کی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ایک صبح جب میں کہیں سے آرہی تھی تو ایک خاتون کو سڑک کنارے بے یار و مددگار اپنے پانچ بچوں کے ساتھ کسمپرسی کے عالم میں دیکھا۔ میں جب اس کے پاس گئی تو اس نے رات بھر کی داستان سنائی کہ کس طرح اس کے شوہر نے رات کو اس کو گھر سے نکال دیا اور رات بھر وہ آوارہ کتوں سے اپنے بچوں کو بچاتی رہی ہے۔میرا دل اس واقعہ کو سن کر پسیج گیا اور میں نے اسی روز سے عورتوں کو خود مختار کرنے کا خواب دیکھنے لگی۔
مغربی بنگال فیڈریشن آف یونائیٹڈ نیشن ایسو سی ایشن کی رکن ،مشہور سماجی خدمت گار ،کارپوریٹ ٹرینرسائرہ شاہ حلیم سے ایوارڈ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’غریب باہنرخواتین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیا بنائیں اور اسے کہاں بیچیں اگر ان کے اس مسئلے کو حل کردیا جائے تو میں سمجھتی ہوں کہ انہیں امپاور کرنا آسان ہوجائے گا۔‘‘لیکن انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ ’’لوگ عموماً اسے صدقہ جاریہ کے طور پر کسی غریب کی مدد کرکے آگے بڑھانا چاہتے ہیں جب کہ میں پوری عزت و احترام سے ان کے ہنر کو پروان چڑھاتے ہوئے اس کی جائز قیمت کے ساتھ ان کا حق دلوانا چاہتی ہوں‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*