پروفیسر خالد حامدی نہیں رہے

maulana_khalid

                                                                                                                                                         آواز دی وائس،نئی دہلی

ہندوستان کے معروف معروف عالم دین واسکالر، متعدد کتابوں کے مصنف اورماہنامہ ’اللہ کی پکار‘ کے مدیر پروفیسر خالد حامدی کا انتقال آج 19 جنوری 2019 کو ابوالفضل، اوکھلا کے ایک مقامی اسپتال میں ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق آج صبح جب وہ کسی کام سے باہر جا رہے تھے، پارکنگ میں گر گئے اور چند گھنٹوں کے اندر اندر ایک مقامی ہسپتال میں دم توڑ گئے جہاں انھیں فوری طور پر لے جایا گیا تھا۔

ان کی پیدائش  1956 میں ریاست اترپردیش کے ضلع رام پور میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام مولانا سید حامد علی تھا۔ جو ایک مشہور مصنف اور جماعت اسلامی ہند کے اہم  رہنما تھے۔

پروفیسر خالد حامدی فلاحی اوکھلا اور جامعہ کے حلقے میں ایک جانا پہچانا چہرہ تھے۔ وہ کچھ دن قبل ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی سے ریٹائر ہوئے تھے، وہ اس شعبے کے سربراہ بھی رہے تھے۔

پروفیسر حامدی کی تعلیم جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ سے ہوئی ،جہاں سے انھوں نے عالمیت اور فضیلت کی، اس کے بعد وہ جامعہ آگئے اور یہاں سے 1979 میں بی اے اور 1981 میں ایم اے کیا۔ وہ جامعہ میں گولڈ میڈلسٹ تھے۔

awazthevoice

پروفیسر خالد حامدی کا تعارفی خاکہ

ان کی پی ایچ ڈی علم حدیث کے فروغ میں ہندوستان کے کردار کے موضوع پر چھ جلدوں میں ہے۔

انہوں نے 1993 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 1981 میں ہی وہ جامعہ سے بطور لیکچرر وابستہ ہوگئے۔ وہ ایک مشہور مصنف اور خطیب بھی تھے۔ انہوں نے تقریباً 20 کتابیں لکھیں اور ہر ہفتہ اور اتوار کو اپنی ابوالفضل رہائش گاہ پر درس قرآن دیا کرتے تھے۔

وہ سنہ 1997 سے ماہنامہ’’ اللہ کی پکار‘‘ شائع کرتے رہے جس میں وہ مختلف سماجی،سیاسی و مذہبی موضوعات پر اپنے خیالات و افکار کا بے لاگ انداز میں اظہار کرتے تھے۔ جس کو اردو داں حلقے میں بہت پسند کیا جاتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر