حجاب تنازع کشمیر پہنچ گیا

Hijab-dispute-reaches-Kashm

سری نگر:(ایجنسی)

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شمالی ضلع بارہمولہ میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے ایک اسکول انتظامیہ کی طرف سے اپنے عملے کو اسکول اوقات کے دوران حجاب پہننے سے روکنے کی ہدایات جاری کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ہماری لڑکیاں اپنے ’ لباس پہننے کے انتخاب‘ کے حق سے دستبردار نہیں ہوسکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ڈگر پریوار اسکول بارہمولہ کے اس سرکیولر جس میں حجاب پر حکمنامہ جاری کیا گیا ہے، کی مذمت کرتی ہوں موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے یہ باتیں بدھ کے روز ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ٹوئٹ میں کہیں۔

 

 

 

انہوں نے ٹوئٹر ہینڈل پر ڈگر پریوار اسکول بارہمولہ کی طرف سے جاری سرکیولر کو بھی پوسٹ کیا ہے۔ یہ اسکول جسمانی طور معذور طلبا کے لئے مخصوص ہے اور اس اسکول میں 70 طلبا زیر تعلیم ہیں۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’میں حجاب کے بارے میں حکم جاری کرنے والے اس خط کی مذمت کرتی ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جموں و کشمیر میں بھلے ہی بی جی پی کی حکومت ہو، لیکن یہ ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح نہیں ہے جہاں وہ اقلیتی فرقے کے گھروں کو بلڈوز کرتے ہیں اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی اجازت نہیں دیتے ہیں‘۔ ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’ہماری لڑکیاں اپنے انتخاب کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گی‘۔

 

 

 

بتادیں کہ مذکورہ اسکول کے پرنسپل نے پیر کے روز جاری ایک سرکیولر میں عملے کو اسکول اوقات کے دوران حجاب پہننے سے گریز کرنے کی ہدایت دی، تاکہ طلبا آرام محسوس

کرسکیں، اساتذہ اور عملے کے ساتھ اچھی طرح بات چیت کرسکیں‘۔ منگل کے روز ایک دفاعی عہدیدار نے کہا کہ اس سرکیولر میں کچھ غلط نہیں ہے۔

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر