یواین آئی اردو سروس کے تابوت میں آخری کیل

bangla-newspaper
عامر سلیم خان
یواین آئی نیوز ایجنسی مالی بحران کاشکار ہوچکی ہے۔ موجودہ سرکار کے دوران پہلے ’ پرسار بھارتی‘ نے ایجنسی کا6کروڑ سالانہ فنڈ روک دیا اور اب اردو اخبارات کے حوالے سے ایجنسی کو تقریباً ڈھائی کروڑ سالانہ سبسڈی دینےوالے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے بھی حالیہ یکم اپریل سے فنڈ بند کردیا ہے۔ تو اس طرح اردو اخبارت کے نام سے ملنے والی سبسڈی بند کرکے ایجنسی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ اردو والوں کیلئے یہ ایک بڑی تکلیف دہ خبر ہے۔ کچھ سال پیچھے جائیں تو یواین آئی کی سالانہ آمدنی 30 کروڑ کے آس پاس ہوا کرتی تھی لیکن فی الحال جو جانکاری ہے اس کی مجموعی آمدنی محض 8کروڑ روپئے رہ گئی ہے، جبکہ ایجنسی کا سالانہ صرفہ 12 کروڑ کے قریب ہے۔ ظاہر ہے ایسے میں ایجنسی کا مستقبل بہت تاریک ہے اور اگر قبل ازوقت پیشین گوئی کی جائے تو کچھ مہینوں کے بعد ایجنسی کا حشر برا ہونےوالا ہے۔ اس وقت یواین آئی کی اردو سروس مزید مالی بحران کا شکار ہے۔ جس ایجنسی کو اردو اور اردو اخبارات کی ترویج وارتقاءکیلئے شروع کیا گیاتھا وہ ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
ایسی خبریں گردش میں ہیں کہ سرکاریواین آئی کو اس لئے عتاب کا شکار بنارہی ہے کیونکہ اسے سنگھ پریوارسے جڑی اردو نیوز ایجنسی کو ’پاروفل‘ بنانا ہے ۔ ہم جان بوجھ کر اس ایجنسی کا نام نہیں لکھ رہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ یواین آئی اردو سروس کے 62سالہ دور میں اس کے پاس جو بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اس تک پہنچنے کیلئے سنگھ پریوارکی اس ایجنسی کو برسوں درکار ہوں گے۔ دوسری بات یواین آئی اردو سروس کی خبریں معتبریت کے لحاظ سے آج مفلوک الحالی کے دور میں بھی کسی بھی دیگر اردو نیوزایجنسی سے بہتر ہیں۔ اگر دوسری ایجنسی کو سرکار نوازنا چاہتی ہے توکوئی بری بات نہیں کیونکہ اس سے اردو کاپھیلاؤ ہوگااور ہمارے ’ کثرت میں وحدت‘ کے اصول کے پس منظرمیں بہت ساری ایجنسیاں ایک گلدستہ کی شکل اختیار کریں گی جو ایک اچھا قدم مانا جائے گا، مگر یواین آئی اردو سروس کا خاتمہ کرکے کسی اور ایجنسی کو بڑھاوا دینا کسی بھی حال میں بہتر نہیں ہوگا۔ سرکار سرکار ہوتی ہے وہ اگر چاہ لے تو بہت ساری ایجنسیاں پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہیں اوریہ سبھی کچھ پہلے سے موجود ایجنسیوں کو بھی زندہ رکھتے ہوئے کیا جاسکتا ہے۔
مگر ہم یواین آئی کی پوری ایجنسی یا صرف’ اردو سروس‘ کی بات کریں تو اس کے موجودہ مالی بحران کیلئے محض سرکارکو ذمہ دار گرداننا ٹھیک نہیں ہوگا۔ یواین آئی انتظامیہ کا بھی اپنی ایجنسی کی بربادی میں بڑا ہاتھ ہے۔ انتظامیہ نے ہمیشہ اردو سروس کو ’حاشیہ‘ پر رکھاہے اور اس کاحق خود کھاتے رہے ہیں۔ اردو کونسل جو فنڈ اردو اخبارات کے حوالے سے یواین آئی کو دیتا تھا اس میں انتظامیہ نے یہ توجیہ پیش کرتے ہوئے ’ بندربانٹ‘ کی کہ ’یواین آئی ایک فیملی ہے ‘اور جب اس کے اکاؤنٹ میں پیسہ آتا ہے تو پوری فیملی یعنی ہندی اور انگریزی کو بھی ملے گا۔ بندر بانٹ کے نتیجے میں اردو سروس زوال پذیر ہوتی گئی۔ اس کے اہلکاروں کو ہمیشہ سیکنڈدرجہ دیاگیا اور ان کا پیسہ پوری ایجنسی کے اہلکاروں کو بانٹاجاتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں پوری ایجنسی کے کم وبیش چار سو اہلکاروں کی تنخواہیں6سال سے بقایا ہیں وہیں اردو سروس میں کام کرنےوالے صحافیوں اور اہلکاروں کااوربھی برا حال ہے۔اردو کونسل کا پیسہ ان کے نام آتارہالیکن انہیں نہ دے کر تمام اہلکاروں کو دیا جاتارہا جبکہ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ایجنسی انتظامیہ اردوسروس کو کبھی ہضم ہی نہیں کرپائی۔
یواین آئی ایجنسی یا خصو صاً اردوسروس کے ساتھ مالی بحران کا معاملہ سال 2008سے شروع ہوا۔ اس وقت آنجہانی ارجن سنگھ متعلقہ وزیر تعلیم تھے۔ اردو سروس کے کچھ ذمہ داروں اور بعض محبان اردو نے اردو سروس کو نئی زندگی عطا کرنے کیلئے ارجن سنگھ سے فریادلگائی۔ اس میں اس وقت کے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمید اللہ بھٹ، اردو سروس سربراہ سینئر صحافی شیخ منظور احمداورآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے موجودہ صدر نوید حامد سمیت کچھ دیگرکی کوششوں سے ارجن سنگھ کی اردو نوازی کے نتیجے میں ایک میٹنگ انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں ہوئی تھی جس میں ملک بھر سے اردو اخبارات کے کم وبیش 100مدیران جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر مسٹر ارجن سنگھ نے یکمشت25لاکھ دیئے، لیکن اردوسروس کے اہلکاراس ملائی سے دور رہے۔ کچھ اورپیچھے جائیں تواردو سروس کے ساتھ ناانصافی سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔ جب 1992 میں یواین آئی نیوز ایجنسی میں اردو سروس کا قیام عمل میں آیا توسرکار نے اردو سروس شروع کرنے کےلئے 25 لاکھ روپے دیئے تھے، لیکن اسے دیوالی بونس کے طور پر ایجنسی کے ورکرز میں بندر بانٹ کیا گیا،اس میں سے اردو والوں کو ایک پائی بھی نہیں دی گئی ، اردو والوں کو محروم کرنے کیلئے توجیہ پیش کی گئی کہ اردو والوں کا ابھی ایک سال مکمل نہیں ہوا ہے اس لئے وہ اس کے حقدار نہیں۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی طرف سے اردو اخبارات کو جو سبسڈی ملتی تھی، وہ اس طرح تھی کہ اگر ایک اخبار کا سبسکرپشن10ہزار روپئے ہے تو اس کا50فیصد یعنی 5ہزار اردو کونسل دیتا تھا، ایسے میں اتنی بڑی رقم تقریباً 15/20 اردوسروس کے اہلکاروں کیلئے بہت کافی تھی، لیکن انہیں درکنار کرتے ہوئے ایجنسی کے ہندی اور انگریزی اہلکاروں کو نوازاجاتا رہا، نتیجہ ہے کہ اردو سروس کے ایک ایک ملازم کی کئی کئی لاکھ تنخواہیں باقی ہیں، کچھ عدالت سے فریاد کنا ہیں تو کچھ دیگر راستے اپنار ہے ہیں۔ کچھ اور بدعنوانیاں ہیں جن کی بنیاد پر سرکار نے تحقیقات کرائیں اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اب سالانہ ڈھائی کروڑ کی سبسڈی بھی ایجنسی کو یکم اپریل 2022سے ملنی بند ہوچکی ہے۔ایسے میں صرف سرکار کاقصور نہیں بلکہ اس کیلئے یواین آئی انتظامیہ کی مسلسل چلی آرہی بدانتظامیاں بھی ذمہ دار ہیں۔ یہ بات ہضم کرنی پڑے گی کہ حالیہ دنوں چنئی میں یواین آئی سینٹر کے انچارج نے اپنی لڑکی کی شادی کیلئے بقایا تنخواہ میں سے پانچ لاکھ کا مطالبہ کیا تو اسے مایوس کردیاگیا، نتیجہ ہوا کہ دوسرے دن دفترکے پنکھے سے لٹکی اس کی لاش ملی۔
ایک بڑی عجیب بات یہ بھی ہے کہ انتظامیہ یواین آئی کی انگریزی او رہندی سروس کے تئیں خوفزدہ نہیں ہے ، وہ اس خوش فہمی میں ہے کہ یہ دونوں سروسیز چلتی رہیں گی لیکن وہ سمجھ لیں کہ حالات بدل چکے ہیں، مالی بحران کا شکار ادارہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں بچے گا۔ سچائی یہ ہے کہ اگر ایجنسی لولی لنگڑی ہوئی تو کوئی بچے گا نہیں۔ اگرانتظامی ذمہ داروں نے ماحولیات کا موضوع پڑھا ہے تو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک جگہ کسی ایک کے متاثر ہونے کے بعد اثرات کہاں تک پہنچتے ہیں۔ دوسری بات یواین آئی انگریزی اور ہندی سروس کے پاس جدید تکنیک نہیں کہ وہ موجودہ دور میں ٹھہر پائیں ۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ انتظامیہ سبھی کو بچانے کی فکر کرے ۔ادھر اردو اخبارات کو بھی اپنی خیر خبر لے لینی چاہئے کیونکہ اگر سبسڈی رکی ہے تو ایجنسی کی نہیں بلکہ ان کی روکی گئی ہے ۔اگر وہ سرکار کے سامنے اپنی باتیں رکھنے کیلئے سامنے نہیں آئیں گے تو ان کی مسیحائی کرنےوالی اردو سروس بند ہوجائے گی او رپھر انہیں ان خبروں پر انحصار کرنا ہوگا جن کی معتبریت پر سوالات اٹھیں گے۔ پھر ہوگا یہ کہ قارئین مجبور ہوکر ارد واخبارات کو چوراہوں پر جلائیں گے، اس لئے وہ وقت آنے سے قبل اردو اخبارات کے مدیران سرکار کی عدالت میں اپنا مدعا رکھیں اور فریاد کریں۔

One comment

  • Zafar Iqbal

    May 9, 2022 at 6:07 am

    اللہ ہماری حالت پر رحم کرے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر