جشن جام جہاں نما’ : اردو صحافت کومسلمانوں کے ساتھ غیرمسلموں نے بھی پروان چڑھایا’۔ پروفیسر واسع

kolkata_urdu_sahafat_urdu_acadmy_jashn_e_jaam_jahan_numa

 کولکتہ گزشتہ دو سو سال میں اردو صحافت دو دفعہ غیرمعمولی صورتحال سے دو چار ہوئی۔ ایک تو تب جب ہماری پہلی جنگ آزادی ناکام ہوئی۔ اخبارات:  کی: تعداد بُری طرح گھٹ گئی لیکن سلام ہو ان جواں حوصلہ لوگوں کا، جنہوں نے اردو صحافت کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا بلکہ اردو صحافت کے اس کارواں کو مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلموں نے بھی خوب پروان چڑھایا

ان تاثرات کا اظہار خسرو فاونڈیشن کے ڈائریکٹر اور ممتاز پروفیسر اختر الواسع نے کولکتہ میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے زیر اہتمام اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر ’جشن ۔ جام جہاں نما‘‘ کے صدارتی خطبہ میں کیا۔ یاد رہے کہ کولکتہ میں اردو صحافت کے دو سالہ جشن کا تین روزہ پروگرام کا آغاز منگل کو ہوا ہے۔

اس موقع پر پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ کلکتہ کیسا خوش نصیب شہر ہے کہ فارسی کا پہلا اخبار بھی یہیں سے نکلا اور اردو کا بھی۔ فارسی کا اخبار جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں راجا رام موہن رائے نے نکالا اور اردو کا پہلا اخبار ۲۷؍مارچ ۱۸۲۲ء کو ہری ہر دت نے ’’جامِ جہاں نما‘‘ جاری کیا جسے کے ایڈیٹر سدا سکھ لعل تھے اور اس طرح انگریزی اور بنگالی کے بعد اردو ایسی تیسری زبان بن گئی جس میں اخبار شائع ہوتے تھے۔ اردو زبان کی صحافت، آزادی، حق پسندی، حق گوئی اور بے باکی سے عبارت تھی۔

بقول اکبر الہ آبادی کے: ۔۔۔۔

کھینچو نہ کمانوں کو، نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

انہوں نے  اپنے خطبے میں کہا کہ بلاشبہ مولوی محمد باقر اور مرزا بیدار بخت نے پہلی جنگ آزادی کے موقعے پر دہلی میں اپنے خون سے ایک نئی تاریخ رقم کی اور ہماری اردو صحافت کی کہانی کو ایک نئی سرخی عطا کی لیکن امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے ’’الہلال‘‘ کے ذریعے جو صور پھونکا اس نے نہ صرف سوتے ہوئے ہندوستانیوں کو جگا دیا بلکہ سامراجی حکومت کے ایوانوں کو متزلزل کر دیا۔’ ’الہلال‘‘ پھر ’’البلاغ‘‘ پھر پیغام مولانا آزاد کے ذریعے جاری کردہ وہ اخبارات تھے جن کا ذکرکئے بغیر ہماری جدوجہد آزادی کی تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی۔

awaz

مغربی بنگال اردو اکاڈمی  کے زیر اہتمام  جشن جام جہاں نما میں سامعین ۔ فوٹو ۔حیدر علی 


ایک طرف مولانا آزاد کو عبدالرزاق ملیح آبادی جیسا پختہ قلم اور اولوالعزم ساتھی ملا جس نے پہلے ’’پیام‘‘ اور بعد میں ’’ہند‘‘ کے ذریعے ہماری تحریکِ آزادی اور اردو صحافت کو نئی سمت اور رفتار عطا کی۔ اسی طرح رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر کو قاضی عبدالغفار جیسا صاحب قلم اور جری اور بے باک صحافی ملا جنہوں نے اسی شہر سے روزنامہ ’’اخبار جمہور‘‘ نکالا جو محمد علی جوہر کے جذبہ صادق، حب الوطنی اور آزادی کی تڑپ کی اسی روایت کی توسیع تھی جس کی داغ بیل انہوں نے روزنامہ ’’ہمدرد‘‘ کے ذریعے ڈالی تھی۔

اور اردو والوں نے یہی کیا اور غیرملکی سامراج سے ٹکراؤ کی یہ روایت اخبار ’’جامِ جہاں نما‘‘ سے ہی شروع ہو گئی جب کمپنی بہادر نے اس کو جاری نہ رہنے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اردو صحافت کی کوئی تاریخ اس شہر کلکتہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اردو صحافت کے 200؍سال پر بات کی جائے تو آپ کلکتے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

awaz

بنگال کے ممتاز صحافی محمد  امان اللہ  کا استقبال ۔ فوٹو ۔ حیدر علی


انہوں نے کہا کہ مگر سب سے پہلےہمیں ہمیں مغربی بنگال کی اردو اکیڈمی کو مبارکباد بھی دینی چاہیے اور اس کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اردو صحافت کے دو سو سال پر اس سیمینار کا انعقاد کرکے ہم سب کو جمع بھی کیا اور ایک طرح سے اپنا فرض ہی نہیں ادا کیا بلکہ اس قرض کو بھی اتارا جو اس شہر کی اردو صحافت کی جنم بھومی کے طور پر ہم سب پر واجب الادا تھا۔

اس اکیڈمی کو اس بات کا بلا شبہ حق ہے کہ وہ جشنِ جامِ جہاں نما کے اجرا کے دو سو سال پورے ہونے پر اس سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کرے کیوں کہ ہندوستان کی تمام ریاستی اردو اکیڈمیوں میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے 1982 میں سب سے پہلے اردو جرنلزم کا ایک سالہ ڈپلومہ کورس شروع کیا

اس کے فارغین ملک کے بڑے بڑے اردو روزناموں کے علاوہ یو این آئی اردو سروس کا سرگرم حصہ بنے اور انہوں نے اپنی خبرنگاری سے تجزیہ نگاری تک اردو صحافت کو دیگر ورناکولر زبانوں کی صحافت سے کسی طور پیچھے نہیں رہنے دیا۔

مشہور صحافی اور یواین آئی اردو کے سابق ایڈیٹر عبدالسلام عاصم کے لفظوں میں کلکتے میں آزادی کے بعد بھی اردو صحافت کی صحت مند اقدار کی توسیع میں احمد سعید ملیح آبادی، رئیس الدین فریدی، سالک لکھنوی، رئیس احمد جعفری، وسیم الحق، سید منیر نیازی، شمس الزماں، ابراہیم ہوش، اقبال اکرامی، وقار مشرقی، حرمت الاکرام، جاوید نہال، کریم رضا مونگیری، احسن مفتاحی، سجاد نظر، سلیمان خورشید، بدر نظامی، راقم لکھنوی کے نام شامل ہیں۔

awaz

 اردو اکاڈمی کے روح رواں اور ایم پی  ندیم الحق  ۔ فوٹو ۔حیدر علی 


اس شہر کو یہ شرف اور امتیاز بھی حاصل ہے کہ بقول عبدالسلام عاصم ہی، جن کی بحیثیت صحافی کے کلکتہ کرم بھومی بھی رہا ہے، اس نے اردو صحافیوں کی ایک نئی کھیپ تیار کی جو کہ آج مختلف شہروں میں اپنے قلم کی پختگی اور صحافت میں اپنے امتیاز کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اِن میں جلیل الدین شعلہ، اشہر ہاشمی، سلطان احمد، جہانگیر کاظمی، عالمگیر ثانی، خورشید فرازی، سلامت مرزا، اسمعیل نظر، منصورالدین فریدی، ریحانہ فریدی اور نوراللہ جاوید تمام نامساعد حالات کے باوجود اپنے صحافتی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

awazurdu

جشن جام جہاں نما کے پروگرام کا ایک منظر۔ فوٹو ۔ حیدر علی 


پروفیسر اختر الواسع نے مزید کہا کہ اردو صحافت کے دو سو سال کے اس جشن پر تمام اردو والوں بالخصوص مغربی بنگال والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے مجھے یہ کہنے کی اجازت ضرور دے دیجئے کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اردو صحافت کا تین سو سالہ، چار سو سالہ اور پانچ سو سالہ جشن اسی جوش، جذبے اور ولولے کے ساتھ منا سکیں، اس کی بھی فکر ہمیں آج ہی کرنی ہوگی اور وہ اس طرح کہ ہم اپنے بچے اور بچیوں کو اردو رسم خط کے ساتھ لکھنا پڑھنا سکھائیں اور اس قابل بنائیں کہ وہ اردو تہذیب اور ثقافت کی علامت کے طور پر دنیا میں جانے جائیں۔

awazurdu

اردو اکاڈمی میں پروگرام کا ایک منظر ۔ فوٹو ۔ حیدر علی


پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ میں ایک بار پھر مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے جواں سال اور جواں حوصلہ وائس چیئرمین جناب ندیم الحق صاحب (ایم پی راجیہ سبھا) کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ عزت و سعادت بخشی کہ میں اس تاریخی شہر کے تاریخی و بین الاقوامی سیمینار میں جو اردو صحافت کی جنم بھومی بھی ہے اور آج تک کرم بھومی بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر