مساجد کے اندر کوچنگ سینٹرکھولیں!

download (1)

نقی احمد ندوی،ریاض،سعودی عرب
ہمارے ملک میں کتنے ایسے انٹرنس ایگزامس اور امتحانات ہوتے ہیں جن کی تیاری کے لیے بچوں کو کسی بڑے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے شہر کی جامع مسجدوں میں کوچنگ سینٹر قائم کریں جہاں پر مسلم طلباء NEET, JEEوغیرہ کے مسابقاتی امتحانات کی تیاری کرسکیں۔ شہر کے کسی جامع مسجد میں JEEاور کسی دوسری میں NEET کی تیاری کا نظم و نسق ہو، تاکہ بچوں کو باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس کے لیے بھی معقول فیس رکھی جاسکتی ہے جو دوسرے اداروں سے انتہائی کم اور معمولی ہو جس سے اسٹوڈنٹس کو بھی فائدہ ہو اور مسجد کو بھی۔ کوچنگ سینٹر کھولنے کے لیے بہت زیادہ کمروں یا جگہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ مسجد کے ایک دو کمرے بہت آسانی سے استعمال کرکے کوئی بھی کوچنگ سینٹر کھولا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی مسجد کی لائبریری میں ایسے اگزامس کی تیاری کی کتابیں رکھی جائیں جس سے طلباء مستفید ہوں۔  اگر ایسی لائبریری قائم کی جائے تو بیشتر لوگ اور طلباء ایسی کتابیں لاکر مسجدوں میں خود بہ خود رکھنا شروع کردیں گے جس سے ہمارے طلباء مستفید ہوتے رہیں گے۔
مسجدوں کے اندر کوچنگ سینٹر کھولنا نہ تو مشکل کام ہے اور نہ کوئی نئی بات ہے۔چنئی کی ایک مسجد نے UPSCکا کوچنگ سینٹر کھول کر ایک ایسا نمونہ پیش کردیا ہے جسے ذمہ داران مساجد نمونہ کے طور پربخوبی  استعمال کرسکتے ہیں۔  اس کے علاوہ بھی بہت سی مساجد میں ایسے کوچنگ سنٹرس کا انتظام ہوگا جس کا ہم سب کو علم نہیں۔ ہم یہاں چنئی کی کوچنگ سنٹر پر ایک مختصر رپورٹ جو ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی تھی پیش کرتے ہیں:
اناملائی میں واقع مکہ مسجد کے امام مولانا شمس الدین قاسمی آج فخر محسوس کررہے ہیں کہ ان کی پہلی ہی کوشش بار آور ہوئی ہے۔ انھوں نے مسجد ہی کے اندر آئی اے ایس کے امتحان میں شریک ہونے والے طلباء کے لیے ایک ٹریننگ اکیڈمی کا آغاز کیا تھا، 2011ء میں Azhagiya Kadan IASاکیڈمی کے نام سے انھوں نے مسجد کے تیسرے فلور پراس اکیڈمی کا آغاز کیا تھا۔ جس میں شروع میں صرف 26طلباء تھے۔ آج انھیں طلباء میں ایک محمد اشرف جی ایس نے پہلی ہی دفعہ میں UPSCاگزام پاس کرلیا ہے اور 1032رینک حاصل کیا ہے۔
مولانا شمس الدین کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی ایسی مسجد نہیں پائی جاتی جو اپنے احاطہ میں مسجد کے اندر سول سروسیز کی ٹریننگ اکیڈمی چلاتی ہو۔ یہ اکیڈمی مفت کوچنگ، قیام و طعام، کتابیں اور اسٹڈی میٹریل مہیا کراتی ہے۔ یہ اکیڈمی سالانہ چالیس لاکھ روپئے اس پر خرچ کرتی ہے۔ اور یہ فنڈ اسی کمیونٹی کے لوگ مہیا کرتے ہیں۔
اشرف پہلے چنئی میٹرو ریل لمیٹڈ میں کام کرتے تھے، انھوں نے اپنی نوکری چھوڑ کر سول سروسز جوائن کرنے اوراپنے بچپن کے خواب کو پورا کرنے کا ارادہ کیا۔ اشرف سیوا گنگا ضلع میں واقع کرائے کوڈی کے رہنے والے ہیں جہاں ان کے والد ایک ویلڈنگ ورکشاپ چلاتے ہیں۔ انھوں نے 2011ء میں انّا یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، گریجویشن کے بعد انھوں نے 28000ماہانہ کی تنخواہ پر CMRLجوائن کرلی۔
اشرف ان 28طلباء میں شامل تھے جن کو اکیڈمی نے 1200درخواست کنندگان میں سے منتخب کیا تھا۔ اشرف نے 2012ء میں مسجد کی اکیڈمی میں داخلہ لیا۔ اور مئی 2013ء میں سول سروسز کے امتحان میں شرکت کی۔ گرچہ ان کا رینک 1032آیا ہے مگر کمیونٹی کیلوگ اس کو ایک شاندار کامیابی کے طور پر مانتے ہیں۔ مستقبل میں یہ اکیڈمی مسلم نوجوانوں کے لیے ایک مشعل راہ کا کام کرے گی۔
مولانا شمس الدین نے کہا کہ اشرف کی کامیابی سے مسلم طلباء کی ہمت افزائی ہوئی ہے، ہم طلباء سے اکیڈمی جوائن کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ فی الحال ہمارے پاس 50طلباء ہیں مستقبل میں 100 طلباء کوکوچنگ کرانے کا ارادہ ہے۔
اشرف کا ماننا ہے کہ مسجد کی اکیڈمی ہی کی وجہ سے وہ کامیاب ہوسکے ہیں۔ لوگوں کو اپنے بچوں کو ملک کے باہرمزدوری کرنے کے لیے بھیجنے کی ذہنیت کو بدلنی چاہیے۔ اس کے بجائے انہیں اچھی تعلیم دینی چاہیے۔ اشرف کا خیال ہے کہ IASمیں مسلمانوں کا تناسب صرف 2%ہے، اس قسم کی اکیڈمیوں کے ذریعے اس تناسب کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، 13جون، 2014،
اگر چنئی کی ایک مسجد ہندوستان کے سب سے مشکل ترین امتحان سول سروسز کی تیاری اپنی مسجد کے اندر کراسکتی ہے تو کیا آپ اپنی مسجد میں میٹرک، JEEیا NEET کی تیاری نہیں کراسکتے؟ کس نے آپ سے کہا کہ مسجدیں صرف دینی تعلیمات کے پڑھنے کے لیے وجود میں آئی ہیں۔ یہ وہ مرکز ہے جس کا صحیح استعمال آپ کی قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
صرف ہندوستان کے اندر مسجد کو عصری تعلیم کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہے بلکہ برطانیہ کی مسجد میں خالص ٹیکنیکل تعلیم مسجد کے اندر ہورہی ہے۔ وہاں کی مسجد میں نوجوانوں کو ایسے ہنر سکھائے جاتے ہیں جو ان کی معاش کا ذریعہ اور وسیلہ بن سکے۔
واشنگٹن میں ایک مسجد ہے جس کا نام مسجد محمدؐ ہے، اس اسکول میں نوجوانوں کے لیے ہفتہ کے آخر میں اسکول چلایا جاتا ہے، لیڈر شپ پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی حفظ کرایا جاتا ہے۔ مسجد والوں نے فل ٹائم اسکول کھولنے کا بھی منصوبہ بنارکھا ہے۔
ہمیں اپنے ملک میں بھی پوری دانشمندی کے ساتھ اپنے نبی پاکؐ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی مسجدوں کو تعلیم کا مرکزبنانے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا کرنے میں آپکامیاب ہوجاتے ہیں تو یقین مانئے کہ آپ کے علاقہ میں آپ کی مسجد ایک ایسا انقلاب برپا کرنے میں ممد و معاون ہوسکتی ہے جو ہماری قوم کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کی بھی تعمیر و ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر