جمعیت علماء ہند کا اپنے منہج فکر سے الگ ہونا افسوسناک

ulama hind

ابوالکلام قاسمی شمسی

(نوٹ یہ مضمون ایک نقطہ نظر کے طور پر دیا جارہا ہے۔ اس کے مندرجات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ۔دراصل سوشل میڈیا کی آنکھیں بہت گہری ہوتی ہیں وہ انٹیلیجنس کی طرح سب کی خبر رکھتا ہے اور فوری خبر لیتا بھی ہے ۔مولانا قاسمی سنجیدہ شخصیت ہیں اور عموماً ان کی تحریریں مخالفت براے مخالفت سے الگ ہوتی ہیں ۔انہوں نے جمعیت کی بنیادی فکر کےتعلق سے جو کچھ کہا ہے اس پر اظہار رائے کی دعوت ہے .ادارہ)

جمعیت علماء ہند کے بینر تلے ایک فرقہ کے مذہبی تہوار کے موقع پر  کیمپ کا اہتمام کیا گیا ھے ، جس میں مذہبی رسومات ادا کرنے کےلئے کاوڑ یاترا پر جانے والے   لوگوں کے استقبال  کا انتظام کیا گیا ، خبر کے مطابق یہ کام اتفاقی طور پر نہیں ہوا ہے ، بلکہ یہ مجوزہ پروگرام کے تحت ہوا ھے ، اس طرح کے کیمپ کا انعقاد یو پی کے کئی اضلاع میں کیا گیا

جمعیت علماء ہند ملک کی بڑی اور ملت کی باوقار تنظیم ھے ، اس کا تحریک آزادی میں اہم رول رہا ھے ، ملک میں اس سے وابستہ حضرات کی بڑی تعداد ھے ، اس  تنظیم نے نہ صرف  ملک کی تحریک آزادی میں حصہ لیا ھے ، بلکہ  اس کے سماجی خدمات کا دائرہ بھی وسیع ھے ، جمعیت علماء ہند نے ملک میں مسلمانوں کے تحفظ ،ان کے حقوق کی حفاظت ، رفاہی اور سماجی خدمات میں بھی اہم کردار ادا کیا ھے ، اس تنظیم کو ہمیشہ ملک کے اکابر علماء کی سرپرستی حاصل رہی ھے اور آج بھی ھے  ، اس کی قیام کے مقاصد میں دین پر استقامت اور  ملک کی حفاظت شامل ھے ،

جمعیت علماء نے ملک کی تحریک آزادی میں حصہ لیا ، ملک کی تقسیم  کے موقع لوگوں کی باز آبادکاری میں حصہ لیا ، دین پر استقامت کے لئے کام کیا ، مدارس اور مکاتب کے قیام پر زور دیا ، اس لئے اس تنظیم کے یہ  نظریہ رہا کہ  مسلمانوں کے لئے یہی مفید ھے کہ وہ  برادران وطن کے ساتھ مل کر  رہیں ، اس لئے اس نے قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری پر زور دیا ، اور اسی پر  آج بھی عمل پیرا ھے ، البتہ کچھ برسوں سے ایسا دیکھنے میں آرہا ھے کہ قومی یکجہتی اور رواداری کے نام پر ایسے کام کئے جارہے ہیں ،جس کی وجہ سے آئندہ  مسلمانوں کو دشواری پیدا ہوسکتی ھے ، خاص طور پر ایسے موقع پر جبکہ ملک میں نفرت کا ماحول ھے اور اس کو مزید  بڑھاوا دیا جارہا ھے ، موجودہ وقت میں اس کی ضرورت تو ھے کہ نفرت کو دور کرنے کے لئے قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے ، اور پیار و محبت کو عام کیا جائے ، مگر اس کے لئے بھی حدود مقرر ہیں ، قومی یکجہتی کے دائرہ کو دین میں داخل کرنا ،دین کے مزاج کے خلاف ھے ، موجودہ وقت میں  قومی یکجہتی کے نام پر کچھ اس طرح کے امور انجام دیئے جارہے ہیں جو صحیح نہیں ہیں      موجودہ وقت میں جمعیت علماء کی بعض یونٹ کی جانب سے جو کام شروع کئے گئے ہیں ،اس سے دین و شریعت میں غیر شرعی امور کی مداخلت کا رواج بڑھے گا ، اور علماء کے اشتراک سے اس کو تقویت حاصل ہوگی ، اس لئے جمعیت علماء کے بینر تلے اس طرح کے کام کو دیکھ کر لوگ برداشت نہ

کرسکے اور ہر طرف سے ردعمل شروع ھوگیا ،صحیح بات یہ ہے کہ جب اس طرح کی بات سامنے آئی تو اس کی تصحیح کی جاتی ، اور اس کی کمی کو دور کر کے اس کو صحیح انداز پر کرنے کی کوشش کی جاتی ، لیکن ایسا نہ کر کے بعض حضرات کی جانب سے  اس کو  صحیح ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ھے ، جو کسی بھی طرح درست نہیں ھے

ہندوستان ایک جمہوری ملک ھے ، اس میں قانون کو بالادستی حاصل ھے ، ملک کے آئین میں مذہبی آزادی دی گئی ھے ، ہر کوئی اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ ملک کے قانون کے دائرہ میں عمل کرسکتا ھے ، اس لئے ملک میں کوئی ایسا ماحول نہیں ھے کہ اس کے لئے دفع مضرت کا سہارا لے کر ایسا کام کیا جائے ، جس کی ہمارے دین میں  اجازت نہیں ھے ، اس لئے دفع مضرت کے نام پر دین میں  شرک کو داخل کرنا کسی طرح صحیح نہیں ھے ، اب تک تو کچھ دین کے سلسلہ میں کم واقفیت رکھنے والے لوگ اس طرح کا کام کر رہے تھے ، اب  علماء حضرات بھی وہی کام کرنے لگیں ، تو  اس کا اثر نہایت ہی خراب پڑے گا ، قومی یکجہتی اور رواداری کا اس سے کوئی تعلق نہیں ھے ،  قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہئے ، اچھے برادران وطن سے میل جول کو بڑھانا چاہئے ، مگر دین یا دینی امور پر سمجھوتہ کی اجازت مذہب اسلام نہیں دیتا ھے ، یہ تو خالص دینی معاملہ ہے ، سب سمجھتے ہیں ، موجودہ وقت فتنہ کا ھے ، ایسے وقت میں  تو یہ  اور مناسب نہیں ھے ، دفع مضرت کے لئے ابھی ایسا وقت نہیں آیا ھے کہ آدمی اپنے دین سے سمجھوتہ کرلے ، ہندوستان میں آئین کی حکومت ھے ، ملک کا آئین ہمیں مذہبی آزادی دیتا ھے ، اس کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کی ضرورت ھے   ، اگر کہیں کمی دیکھنے میں آرہی ہے تو اس کی اصلاح کی جانب توجہ دی جائے ، اللہ تعالی استقامت عطا فرمائے

 

،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر