مسلمانوں کی پسماندگی کا ذمہ دار کون؟

Screenshot_2020-12-04-13-58-34-128
جاوید اختر بھارتی 
یہ تو بڑے زور وشور سے کہا جاتا ہے کہ مسلمان تعلیم میں بھی پیچھے ہیں اور سیاست میں بھی پیچھے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان پسماندگی کا شکار ہیں مگر یہ کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے مسلمان اگر تعلیم میں پیچھے ہے تو کیوں؟ اگر سیاست میں پیچھے ہے تو کیوں؟ جبکہ سیکڑوں سال تک ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی مذہبی بنیاد پر دیکھا جائے تو قرآن کی پہلی ہی آیت ہے اقرأ یعنی پڑھو،، جبرئیل امین پہلی وحی لے کر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تو کہا پڑھو اسی نبی پاک کی امت آج تعلیم میں پیچھے ہے جس ملک میں  لاکھوں عالم ہوں اس ملک کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں، جس ملک میں چھوٹے بڑے تقریباً ساڑھے چار لاکھ مدرسے ہوں اس ملک کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں ، جس ملک میں کئی سو سال تک مغلوں نے حکومت کی ہو اس ملک کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں، جس ملک میں چار پانچ عالمی شہرت یافتہ مدرسے ہوں اس ملک کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں، جس ملک میں ہزاروں خانقاہیں ہوں اور ہزاروں کی تعداد میں پیر اور ہزاروں ہزار کی تعداد میں مرید ہوں اس ملک کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں اور جس ملک کے آئین نے سب کو پڑھنے کی اجازت دی ہو اس ملک کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں تو آخر کیوں؟ کوئی تو وجہ ہوگی اور کوئی تو ذمہ دار ہوگا ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی وجہ نہ ہو اور کوئی ذمہ دار نہ ہو-
1947 میں ملک آزاد ہوا اور جب ملک آزاد ہوا تو کوئی پارسی، جینی، بدھسٹ ریاست نہیں تھی مگر آج وہ سب تعلیم میں بہت آگے ہیں اور لائن لگاکر مسلمانوں کی ریاستیں تھیں نواب پٹودی، نواب رام پور، نواب جونا گڑھ، نواب بھوپال، نواب لکھنئو اور نواب نظام تو پھر ان ریاستوں کے نوابوں نے کوئی آرڈر جاری کررکھا تھا کیا،، کہ لوگ تعلیم سے دور رہیں یا تعلیم سے محروم رہیں،، یہ سوال تو ہندوستان کی پارلیمنٹ میں بھی اٹھ چکا ہے کہ وہ تمام اقلیتیں جن کی ایک بھی ریاست ملک کی آزادی کے وقت نہیں تھی وہ تعلیم کے میدان میں بہت آگے اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کہ جس کی تمام ریاستیں آزادی کے وقت تھیں وہ اقلیت آج تعلیم میں اتنا پیچھے کہ جو چاہے طعنہ مارکر نکل جائے اور وہی اقلیت احساس کمتری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناکر چائے خانوں سے لے کر اسٹیج تک خود بخود اعلان بھی کرتی ہے اور اعتراف بھی کرتی ہے کہ مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں لیکن سچائی پر لاکھ پردہ ڈالنے کے باوجود بھی پارلیمنٹ کے اندر ایک لیڈر نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تو تلخ سچائی یہی سامنے آئی کہ مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں تو اس کے ذمہ دار بھی مسلمان ہی ہیں اور مسلمان پسماندگی کے شکار ہیں تو اس کے بھی ذمہ دار خود مسلمان ہی ہیں-
اب ہر کوئی مشورہ دیتا ہے کہ ائے مسلمانوں تعلیم حاصل کرو اور سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے پسماندہ مسلمانوں پر کہ تعلیم حاصل کرو اور آگے بڑھو مگر یہیں سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہی مشورہ پہلے کیوں نہیں دیا گیا آج بھی بہت سے ایسے افراد ہیں جن کی عمریں طویل ہوچکی ہیں وہ خود بتاتے ہیں کہ جب ہمارے بچے قرآن مجید ناظرہ مکمل کرتے تھے تو بڑے طبقے کے لوگ کہا کرتے تھے کہ قرآن پڑھ لیا بس اب اسے کام دھندے میں لگاؤ لیکن خود اسی طبقے کی ایک ایسی شخصیت کو دیکھا گیا ہے جن کے انتقال کو تقریباً پچیس سال ہوچکے ہیں جبکہ ان کا انتقال سروس سے ریٹائر ہونے کے پندرہ سال بعد ہوا ہے اب یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت بھی باسٹھ سال کی عمر رہی ہوگی کل ملا کر سو سال کی مدت ہوتی ہے اور وہ شخصیت پولیس محکمہ میں آئی جی کے عہدے تک پہنچی اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے جبکہ اس زمانے میں پورے صوبے میں ایک آئی جی اور ڈی آئی جی ہوا کرتے تھے تو مطلب صاف ہے کہ وہ اس زمانے میں بھی تعلیم حاصل کئے تھے تب تو اس منصب پر فائز ہوئے اور ان کا پورا گھرانہ تعلیم یافتہ تھا یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس زمانے میں بھی تعلیم کی ضرورت تھی تو دوسروں کو کام دھندے کا مشورہ دیا جاتا تھا اور آج تعلیم و سیاست دونوں کی ضرورت ہے تو آج صرف یہ کہا جا تا ہے کہ تعلیم حاصل کرو سیاست جو کررہے ہیں انہیں کرنے دو،، اس نظریے سے تو یہی ثابت ہوتاہے کہ خود مسلمانوں کی ہی کل بھی نیت صاف نہیں تھی اور آج بھی نیت صاف نہیں ہے ،، کل تک یہ سوچ تھی کہ تعلیم حاصل کرکے کوئی ہمارے برابر نہ ہوسکے اور آج بھی یہی سوچ ہے کہ کوئی سیاست کرکے ہمارے مقابلے میں کھڑا نہ ہوسکے اور ہماری۔ برابری نہ کرسکے اور اقتدار کا مزا نہ چکھ سکے نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمان تعلیم سے بھی دور ہے اور اس سے بھی زیادہ سیاست سے دور ہے-
اور ان دونوں چیزوں سے دوری کی وجہ سے مسلمان اور بالخصوص بیک ورڈ مسلمان ووٹوں کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتا اور ریزرویشن کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھ پاتا ہے جبکہ ہندؤں میں جو پسماندہ طبقات ہیں وہ دونوں چیزوں کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ہمارے مسلم رہنمائے سیاست کا حال یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے طبقے ہیں جن کی حالت دلتوں سے بدتر ہے اور بدتر اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہندو دلت کے لئے ریزرویشن ہے اور مسلم دلت کو کو محروم رکھا گیا ہے دفعہ 341 کے تحت ہر مذہب کے دلتوں کے لئے ریزرویشن ہے مگر اس میں پیرا 3 کا اضافہ کرکے اسی کے تحت مسلم دلتوں کو محروم کردیا گیا اگر وہ پابندی ختم کردی جائے تو مسلمانوں میں حلال خور، نٹ، بھانٹ، دھوبی اور بنجارہ وغیرہ جیسی برادریوں کو اس کا فائدہ ملے اور پارلیمنٹ و اسمبلی کی محفوظ سیٹوں پر وہ بھی الیکشن لڑ سکیں گے-
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کی ہمدرد بنتی ہیں مگر پھر بھی کوئی سیاسی پارٹی اس موضوع کو اپنے انتخابی منشور میں شامل نہیں کرتی ہے تو اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیوں کے سیکولر ازم کا دعویٰ کھوکھلا اور جھوٹا ہے اور ساری ہمدردی جھوٹی ہے اور دلت و پسماندہ مسلمانوں کو بھی چاہئیے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈران سے سوال کریں کہ ہمارے ریزرویشن سے متعلق آپ کا نظریہ کیا ہے اور ہمیں وہ مخصوص سہولت فراہم کرانے کے لئے آپ آواز بلند کریں گے کہ نہیں اور آپ کی پارٹی ہمارے ووٹوں کی بدولت اقتدار میں آئی تو آپ کی حکومت ہمیں وہ سہولت فراہم کرے گی کہ نہیں جس دن اس طرح کا سوال ہونے لگے گا تو سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا اور آج اسی کی ضرورت ہے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر