رکھشابندھن: چھ ہزار کروڑ روپے کا کاروبار

raksha bandhan

 راکھی کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کورونا کی وجہ سے راکھی کے کاروبار کے لیے اچھے نہیں رہے لیکن اس سال خوردہ تاجروں نے کورونا کا خوف ختم ہونے کے بعد بہت زیادہ راکھی خریدی ہے۔

جیسے جیسے رکھشا بندھن کا تہوار قریب آرہا ہے۔ ویسے ویسے ملک کی بڑی منڈیوں میں رونق بڑھنے لگی ہے۔ کورونا دور کے دو سال بعد اس بار لوگوں میں رکھشا بندھن کو لے کر زبردست جوش و خروش دیکھا گیا ہے۔ راکھی کا کاروبارجو پچھلے دو سالوں سے ٹھپ ہو چکا تھا، اب اس وبا سے مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس سال کاروبار میں کورونا سے پہلے کی نسبت اضافہ ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے اس سال راکھیاں بازاروں میں مہنگی ہیں لیکن فروخت گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ ہے۔ راکھی کے کاروبار سے جڑے تاجروں کے مطابق گزشتہ سال راکھی کا 3500 سے 4500 کروڑ روپے کا کاروبار ہوا تھا۔ اس سال یہ تعداد بڑھ کر 5,000 سے 6,000 کروڑ روپے ہونے کی امید ہے۔ راکھی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ مجموعی لاگت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن قیمت میں صرف 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے منافع کم ہوا ہے۔

دہلی کا صدر بازار ملک میں راکھی کے کاروبار کا اہم مرکز ہے۔ یہاں راکھی کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کورونا کی وجہ سے راکھی کے کاروبار کے لیے اچھے نہیں رہے، لیکن اس سال خوردہ تاجروں نے کورونا کا خوف ختم ہونے کے بعد بہت زیادہ راکھی خریدی ہے۔ قیمت میں اضافے کے باوجود اس بار 30 سے ​​50 فیصد سے زائد راکھیاں فروخت ہونے کا امکان ہے۔

 اس سال مختلف قسم کی راکھیاں بازار میں نظر آرہی ہیں۔ ایول آئی یعنی نظر بٹو راکھی کی بہت مانگ ہے۔ یہ راکھیاں 10 سے 50 روپے میں دستیاب ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمت بڑھنے کی وجہ سے بھلے ہی راکھیاں مہنگی ہو جائیں لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں کاروبار میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس سال راکھی بنانے والے بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ موتیوں، دھاگوں، موتیوں سے لے کر پیکیجنگ میٹریل تک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

پیکنگ بکس کی قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 70 روپے ہو گئی ہے۔ راکھی پرنٹنگ بھی 25 فیصد مہنگی ہو گئی ہے۔ راکھی بنانے میں استعمال ہونے والی ورق 300 سے 400 روپے سے بڑھ کر 400 سے 450 روپے تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے راکھی کی قیمت میں بھی 3 سے 5 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ موتیوں کی کوالٹی کے لحاظ سے آپ کو 300 سے 2500 روپے فی کلو مل رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے راکھی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

پہلے درجن بھر راکھیوں کا ایک پیکٹ جو 180 روپے میں فروخت ہوتا تھا، آج اس کی قیمت 240 روپے ہے۔ راکھی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ مجموعی لاگت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن قیمت میں صرف 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے منافع کم ہوا ہے۔

دہلی کے علاوہ مغربی بنگال ملک میں راکھی کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔ ملک میں کل کاروبار کا 50 سے 60 فیصد حصہ بنگال کا ہے۔ اس کے بعد گجرات، ممبئی، دہلی، راجستھان میں بڑے پیمانے پر راکھیاں بنتی ہیں۔ راکھی براہ راست چین سے درآمد نہیں کی جاتی بلکہ اسے بنانے کے لیے استعمال ہونے والا سامان جیسے فینسی پارٹس، ورق، فوم، آرائشی اشیاء، پتھر وغیرہ وہیں سے آتے ہیں۔ راکھی بنانے کے لیے استعمال ہونے والا خام مال چین سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی مالیت 1,000 سے 1,200 کروڑ روپے ہے۔


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر