جنگ آزادی میں اردوصحافیوں کی لازوال قربانیاں

JUNG AZADI

معصوم مرادآبادی

آج جب ہم اپنی آزادی کی طلائی سالگرہ منارہے ہیں تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ان سورماؤں کو بھی یاد کریں جنھوں نے بے مثال قربانیاں دے کر اس ملک کو انگریزوں کے پنجوں سے آزاد کرایا۔ یوں تو ہر برس یوم آزادی کے موقع پر ہم ان مجاہدین آزادی کو یاد کرتے ہیں، لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں اردو صحافیوں کی لازوال قربانیوں کو بھی یاد کیا جائے۔اس برس ہم چونکہ آزادی کی 75/ویں سالگرہ کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اردو صحافت کے دوسوسال مکمل ہونے کا جشن بھی منارہے ہیں، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اردو کے ان جیالے صحافیوں قربانیوں کو بھی یاد کریں جنھوں نے اپنے قلم سے تلوار کاکام لیا۔انگریزوں نے ان میں سے کئی صحافیوں کو حق گوئی اور جرات مندی کی پاداش میں سزائے موت بھی دی، لیکن انھوں نے سرنگوں نہیں کیا۔

آزادی کی پہلی لڑائی 1857سے لے کر آزادی کے حصول تک اردو اخبارات ہی اس کام میں پیش پیش رہے۔بزرگ صحافی رئیس الدین فریدی کے لفظوں میں 1857 سے لے کر 35۔1930 تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لیے جنگ کرنے کا سہرا زیادہ تراردو اخبارات کے سررہا، کیونکہ ہندی کے اخباراس زمانے میں برائے نام ہی تھے۔ انگریزی کے اکثر اخبار انگریزوں کے ہم نوا تھے اور علاقائی زبانوں کے اخباروں کا حلقہ اثر محدود تھا۔“(بحوالہ ماہنامہ ’آجکل‘نومبر، دسمبر 1983)

اس اقتباس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو اخبارات نے آزادی کی جنگ میں ہراول دستے کا کام کیا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے مورخین نے ان صحافیوں اور اخبارات کو وہ اہمیت نہیں دی، جو دیگر مجاہدین آزادی کو دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ ان کی لازوال قربانیوں سے ناواقف ہیں۔

ہم  یہاں آپ کو کچھ ایسے جیالے صحافیوں سے روبرو کریں گے جنھوں نے وطن کی آزادی کے لیے قید وبند کی صعوبتیں ہی برداشت نہیں کیں بلکہ خوشی سے تختہ دار کو بوسہ بھی دیا۔ان میں سب سے اہم نام ’دہلی اردو اخبار‘کے ایڈیٹر مولوی محمدباقر کا ہے جنھیں 74 سال کی عمر میں انگریزوں نے توپ کے دہانے پر رکھ کر اڑادیا تھا۔

قصور یہ تھا کہ انھوں نے اپنے اخبار میں 1857کی جنگ آزادی کے دوران باغی سپاہیوں کا ساتھ دیا تھا۔وہ آخری مغل شہنشاہ اور پہلی جنگ آزادی کے قائد بہادرشاہ ظفر کے قریب تھے اور انھیں ان کا اعتماد حاصل تھا۔

awazurdu

انگریزوں کے مظالم کی کہانی 


یہی حال انگریزوں نے اخبار’پیام آزادی‘ کے مدیر مرزابیدار بخت کا بھی کیا، جو بہادر شاہ ظفر کے پوتے تھے اور ان ہی کے حکم پر انھوں نے یہ اخبار جاری کیا تھا۔ انگریزوں نے پہلی جنگ آزادی کے بعد جب دوبارہ دہلی پر قبضہ کیا تو جن اولین لوگوں کو سزائے موت دی گئی، ان میں مولوی محمدباقر کے علاوہ مرزا بیدار بخت بھی شامل تھے۔اس دور کا ایک اور اخبار ’صادق الاخبار‘ بھی تھا جو بہادرشاہ ظفر کے مقدمہ میں زیربحث آیا۔اردواخبارات کے جرات مندانہ کردار کی وجہ سے ہی وکیل استغاثہ نے اردو صحافت پر قلعہ معلی سے سازش کا الزام عائد کیا۔

 پہلی جنگ آزادی میں اردو اخبارات نے نہایت بے باکی کے ساتھ مجاہدین کا ساتھ دیا اور قلم کو انگریز سامراج کے خاتمہ کے لیے ایک دھاردار ہتھیار کے طورپر استعمال کیا۔ایک طرف جہاں ’دہلی اردو اخبار‘،’صادق الاخبار‘اور ’فتح الاخبار‘ وغیرہ نے مجاہدانہ کردار ادا کیا تو وہیں ’کوہ نور‘ اور ’نورالابصار‘ وغیرہ سرکار پرست اخبار تھے، لیکن مجموعی طورپر اردو صحافت کا کردار قوم پرستانہ تھا۔پہلی جنگ آزادی کی ناکامی نے اردو صحافت کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگادیا۔

اردو صحافت کے اہم مراکزدہلی،لکھنؤ، میرٹھ اور کانپور جیسے شہر جو انقلاب کے بھی مراکز تھے، ان شہروں سے اردو صحافت کا صفایا ہوگیا۔اس طرح پہلی جنگ آزادی سے اردو صحافت کو زبردست صدمہ پہنچا۔1857کی جنگ چھڑتے ہی شمالی مغربی صوبہ جات کے بیشتر اردو اخبارات بند ہوگئے۔

اردو اخبارات کی اشاعت اور توسیع کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا کہ1853میں اردواخبارات کی تعداد 35تھی جو گھٹ کر صرف12رہ گئی۔1857 کی بغاوت کے بعد غیرملکی حکومت نے دیسی اخبارات پر نت نئی پابندیاں لگائیں۔ قانون زباں بندی (گیگنگ ایکٹ)کے تحت زیادہ تر کارروائی فارسی اور اردو اخبارات کے خلاف ہوئی۔ دیگر دیسی زبانوں میں کوئی اخبار زیرعتاب نہیں آیا کیونکہ انقلاب کو کامیاب بنانے میں قلعہ معلی اور اردو صحافت کے درمیان غیرمعمولی ہم آہنگی قایم تھی۔

دراصل سنہ 1857کی ناکامی کے بعد انیسویں صدی میں کسی اہم اخبار کا کوئی سراغ نہیں ملتا تاہم بیسویں صدی کے آغازمیں شائع ہونے والے شانتی نارائن بھٹناگر کے اخبار ’سوراجیہ‘ کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، جو1907 میں الہ آباد سے نکلا تھا۔ یہ ایک ہفتہ واری اخبار تھا اور اس نے قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔اس اخبار نے انگریز سامراج کے خلاف پوری جرات کے ساتھ آواز بلند کی اور یکے بعد دیگرے اس کے مدیروں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

ڈھائی سال کے عرصہ میں اس کے آٹھ مدیر مقرر کئے گئے اور سبھی کو قیدوبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔اس اخبار کے مدیران نے اپنے اداریوں سے ہندوستانی عوام کے دلوں میں آزادی کے جذبہ کو بیدار کیا۔جس کی وجہ سے ’سوراجیہ‘ اخبار کے مدیران کو حکومت نے کالاپانی کی سزا سنائی۔انگریز حکومت اس اخبار سے اس حد تک خائف تھی کہ ’سوراجیہ‘ اخبار کے سات مدیران کومجموعی طور پر 94 سال سے زیادہ کی سزا سنائی گئی اور انھیں کالا پانی بھیجا گیا لیکن اخبار نے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی۔

اس اخبار کے بانی شانتی نرائن بھٹناگر نے اپنی تمام زمین و جائدادفروخت کرکے ’سوراجیہ‘ کی اشاعت شروع کی تھی۔اجراء کے کچھ عرصہ بعدہی انھیں بغاوت کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور دوسال کی سزا اور پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے شانتی نرائن بھٹناگر کی قید مزید 9 ماہ بڑھا دی گئی۔

 اس کے بعد موتی لال ورما اس اخبار کے مدیر بنائے گئے، جنھیں دس سال کی سزا ہوئی۔ بعدازاں بابو ہری رام ’سوراجیہ‘ اخبار کے مدیر مقرر ہوئے۔ انھوں نے اس کے گیارہ شمارے نکالے۔ انگریزی حکومت نے انھیں 21 سال کی سزا سنائی۔بعدازاں رام سیوک اس اخبار کے مدیر مقرر کئے گئے، لیکن جوں ہی وہ کلکٹر کو اپنا تقرری نامہ دینے گئے تو انھیں وہیں قید کر لیا گیا۔ اس کے بعد نند گوپال چوپڑا اس انقلابی اخبار کے مدیر بنائے گئے اور انھوں نے 12 شمارے بحسن و خوبی شائع کئے لیکن انگریزوں نے انھیں بھی قید کر لیا اور تیس سال کی سزا سنائی۔

اس کے بعد لدھا رام کپور نے مدیرکی ذمہ داریاں سنبھالیں اور ’سوراجیہ‘ کے تین شماروں میں تین اداریے تحریر کیے۔ ہر اداریئے کے عوض انھیں دس سال کی سزا ہوئی یعنی مجموعی طور پر لالہ لدھا رام کو  30سال کی سزا سنائی گئی۔ اس اخبار کی ایک اہم بات یہ تھی کہ مدیر کے جیل جانے کے بعد ایک’مدیر کی ضرورت‘ کا اشتہار اخبار میں مسلسل شائع ہوتا تھاجس کی شرطیں یہ تھیں:

ایک جو کی روٹی اور ایک پیالہ پانی۔ یہ شرح تنخواہ ہے جس پر سوراجیہ الہ آباد کے واسطے ایک ایڈیٹرمطلوب ہے۔ یہ وہ اخبار ہے جس کے دو اڈیٹر بغاوت آمیز مضامین کی جھپٹ میں گرفتار ہو چکے ہیں۔اب…… ایسا ایڈیٹر درکار ہے جو اپنے عیش و آرام پر جیل میں رہ کر جو کی روٹی اور ایک پیالہ پانی کو ترجیح دے۔

(بحوالہ ’ذوالقرنین‘، بدایوں،فروری 1909)

بیسویں صدی کے دوسرے دہے میں چار بڑے اخبارات شائع ہوئے، جنھوں نے آزادی کی تحریک پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ کلکتہ سے ’الہلال‘(مولانا ابوالکلام آزاد)، ’لاہور سے ’زمیندار‘(مولانا ظفرعلی خاں)، دہلی سے ’ہمدرد‘(مولانا محمدعلی جوہر)اور بجنور سے ’مدینہ‘(مولوی مجید حسن)۔ان چاروں ہی اخباروں نے جنگ آزادی میں ہراول دستہ کا کام کیا۔

مولانا ابوالکلام آزادنے ’الہلال‘ جولائی 1912میں جاری کیا تھا، جس نے قومی جذبات اور انقلابی سوچ کو پروان چڑھایا۔یہ اخبار مولانا آزاد کی گہری سوچ وفکر کا نتیجہ تھا۔کچھ ہی عرصے میں اس کی اشاعت پچیس ہزار تک پہنچ گئی، جو اس زمانے میں غیرمعمولی سرکولیشن تھا۔اس کی مقبولیت سے انگریزحکومت پریشان تھی،لہٰذا16/نومبر 1914کو حکومت نے ’الہلال پریس کی دوہزارروپے کی پہلی ضمانت ضبط کرلی اور 14و21/اکتوبر کا مشترکہ شمارہ بھی ضبط کرلیا۔

awazurdu

قلم سے جدوجہد 


مجموعی طورپر 17/بار ’الہلال‘کی ضمانت ضبط ہوئی۔ بعدازاں 8/نومبر کو ’الہلال‘ کا آخری شمارہ شائع ہوا۔ اس سے دس ہزار کی ضمانت طلب کئی گئی اور جمع نہ کرانے کی صورت میں اخبار بند ہوگیا۔اخبار 1927میں دوبارہ شائع ہوا لیکن مولانا آزاد کی سیاسی مصروفیات اس میں مانع آئیں اور یہ چھ ماہ بعد اس کی اشاعت بند ہوگئی۔اردو کی سرفروشانہ صحافت میں ’الہلال‘ کا جو کردار ہے، وہ آج تک کسی اور کو حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ اپنے معیار کے اعتبار سے بھی ایک منفرد اخبار تھا۔

الہلال‘ کے اجراء کے سات ماہ بعد فروری 1913میں مولانا محمدعلی جوہر نے دہلی سے ’نقیب ہمدرد‘کے نام سے ایک روزنامہ جاری کیا۔ 13/جون کو اس کا نام ’ہمدرد‘ کردیا گیا۔ ان دنوں جنگ بلقان شباب پر تھی۔ مولانا محمدعلی نے اس موقع پر ’ہمدرد‘ میں مغربی سامراجی طاقتوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا اور ہندوستان پر فرنگی استبداد کی زوردار مخالفت کی۔

اخبار کے معیار اور جرات مندی کے سبب اس کی شاعت دس ہزار تک جاپہنچی۔ حکومت کو یہ بے باکی گوارا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد 16/مئی 1915کو مولانا محمدعلی اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی نظربند کردیا گیا اور اس کے ایک ماہ بعد ’ہمدرد‘ پر سنسر شپ نافذکردی گئی۔9/نومبر1924کو اس کی اشاعت دوبارہ شروع ہوئی لیکن مولانا محمدعلی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مصروفیات، صحت کی خرابی اور سرمائے کی قلت کے سبب اخبار جاری نہیں رہ سکا۔ اس اخبار نے آزادی کے حصول کے لیے زبردست مجاہدانہ کردار ادا کیا۔

زمیندار‘ کے بانی ایڈیٹر میاں سراج الدین احمد تھے۔ 1909میں ان کے انتقال کے بعد اس کی کمان ان کے نوجوان بیٹے مولانا ظفرعلی خاں نے سنبھالی۔ مولانا زبردست جوش وخروش کے آدمی تھے۔ تحریروتقریر دونوں کے دھنی تھے اور شاعری میں بھی طاق تھے۔انھوں نے سیاسی نظموں اور معرکہ خیزخبروں سے دھوم مچادی۔اخبار کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا۔

 جنگ طرابلس شروع ہونے کے قریب ’زمیندار‘ہفتہ وار سے روزنامہ ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ اخبار شعلہ جوالہ بن گیا۔حکومت اس کی تاب نہ لاسکی اور پہ درپہ اس سے ضمانتیں طلب کی گئیں۔شروع میں ’زمیندار‘ کو 22/ہزار روپے بطور ضمانت جمع کرانے پڑے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران مولانا ظفرعلی خاں کو نظربند کردیا گیا اور اس طرح اس کی اشاعت بند ہوگئی۔

بجنور کا قوم پرست اخبار’مدینہ‘ بھی اپنی بے باکی اور جرات مندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے مدیروں میں اپنے عہد کے بڑے نامی گرامی لوگ شامل تھے۔ یہ اخبار برطانوی حکومت کی پھوٹ ڈالو او ر راج کرو کی پالیسی کا سخت مخالف تھا۔ اس نے دیسی ریاستوں کے مصنوعی نظام کے بارے میں جو پیشین گوئیاں کی تھیں، وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئیں۔

ان تفصیلات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اردو صحافت نے آزادی کی پوری تحریک کے دوران ہراول دستہ کا کام کیا اور وطن کی خاطر جو قربانیاں پیش کیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


ہمارے بارے میں

www.maeeshat.in پر ہم اقلیتوں خصوصا  مسلم دنیا میں کاروبار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو حلال اور حرام کے حوالے سے اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں۔ شروع سے ہی اس جریدے/ویب سائٹ نے مسلمان صنعت کاروں اور تاجروں کو قائل کیا ہے کہ وہ ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنائیں اور دوسرے کارپوریٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیں۔


CONTACT US

CALL US ANYTIME




نیوز لیٹر