بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / اقلیتی معاشی اجلاس / تعلیمی ،رفاہی اور سماجی کاموں میں تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کولکاتاکو قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعلیمی ،رفاہی اور سماجی کاموں میں تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کولکاتاکو قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ) کے جنرل سکریٹری ابو طلحہ جمال قاسمی

تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ) کے جنرل سکریٹری ابو طلحہ جمال قاسمی

ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ابو طلحہ جمال قاسمی کا کہنا ہے کہ مالی مفاد کے علی الرغم ہم خدمت خلق،تعلیم و تربیت اور فکر قوم و ملت میں سرگرداں ہیں

کولکاتہ : ’’تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ) شہر کولکاتا کا ایک معتبر تعلیمی ، رفاہی اور سماجی ادارہ ہے، جو قانونی اعتبار سے پورے ملک میں خدمات انجام دینے کا مجاز ہے ۔ تعمیر ٹرسٹ امت مسلمہ کے لئے بالخصوص اور تمام بنی نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے بالعموم خدمات انجام دیتا ہے۔ کسی بھی قسم کے مالی مفاد کا حصول ٹرسٹ کا بالکل بھی مقصد نہیں ہے۔ یہ ٹرسٹ اپنے اراکین ، ممبران ، اور مخلص عوام کی طرف سے حاصل ہونےوالے امداد، زکوۃ ، عطیات اور چرم قربانی کے تعاون سے ملک و بیرون ملک کے مستند علماء کرام و مفتیان عظام کی رہنمائی میں اپنی تمام تر سرگرمیاں انجام دیتاہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعمیر کے اولین ذمہ دار شہر کلکتہ کے معروف و متحرک علماء کرام اور شہر کے مخلص آفیسرز اور دانشوران ہیں جن کی پوری زندگی خدمت خلق،تعلیم و تربیت اور فکر قوم وملت سے پر ہے ۔ مختلف کاموں کے ساتھ ساتھ بالخصوص امت کے تعلیمی ، معاشی اور صحت کے اعتبار سے پسماندہ طبقات کی ہر ممکن مدد کرتاہے اور اس کے لئے ہمہ دم کوشاں و سرگرداں ہے۔اس ادارے کا وجود 2017 میں عمل میں آیا جس کے اہم اور بنیادی مقاصد میں بلاتفریق مذہب و ملت اور بلا امتیاز رنگ و نسل تمام انسانیت کی خدمت کرنا ہے اور ہمارے پیارے دیش بھارت کے خاص کر نوجوان نسل اور نادار طبقے کی تعلیمی ،معاشی ،طبی اور تدریبی میدانوں میں معاونت اور ان کو معاشرے کا اعلیٰ،اہم اور کار آمد فرد بنانا ہے‘‘۔ان خیالات کا اظہارتعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کےجنرل سکریٹری ابو طلحہ جمال قاسمی نے اپنے پریس اعلامیہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ’’ہر دور میں امت مسلمہ کی اعتقادی،فکری ،اصلاحی تربیت اور اقتصادی ارتقاء کےلئے اللہ تعالیٰ نے اس دور کے عروج و زوال کے اسباب سے واقفیت رکھنے والے اور قوم ملت کی خدمت و ان کی تربیت کو نصب العین سمجھنے والے درمندافراد کو توفیق دی ہے کہ قوم کی دینی و دنیاوی ضروریات کو پوری کرنے کی سعی کرتے رہیں۔کسی بھی جماعت اور معاشرے کی ارتقاء ان کی تعلیمی نہج کی درستگی ،مالی و اقتصادی آسودگی اور مستقبل کے قائدین کی افزائش پر مضمر ہوتی ہے یعنی (۱) دینی و دنیاوی تعلیم کے بہتر مواقع اور اداروں کا قیام (۲)مالی معاملات اور اقتصادی امور کی درستگی ،قوم کے کمزور طبقے کی بنیادی ضروریات کو پوری کرنے والے پروگرامز، Social Services (۳)لیڈر شپ ،(Training & Coaching) کی بازیابی یہ تین اہم ترین ترقیاتی نکات ہیں ، جن کو مد نظر رکھنا ناگزیر ہے‘‘۔
‘تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ” کے قیام کا مقصد بیان کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ’’ مخلص افراد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے جڑے سماجی امور سے واقفیت رکھنے والے درمندانِ قوم و ملت کی شب و روز کی یہی جستجو ہے اور زائد از دو سال سے ادارہ اپنے مقاصد کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہے۔ جس کیلئے ہم نے تین الگ الگ پروگرامز شروع کئے ہیں۔ رفاہی کاموں کیلئے (Tameer Educational And Welfare Trust جوکہ مرکزی ادارہ ہے) تصحیح قرآن اور تصحیح عقائد اور دینی علوم کی تعلیم و تربیت کیلئے (Ad Darain Education Centre) اور عصری علوم کیلئے ماڈرن اداروں کا قیام ، اسکولی نصاب کی مضبوطی اور اعلیٰ تعلیم کی جانب راہیں ہموار کرنے کیلئے (Tameer EDU-CARE Centre) کا قیام عمل میں آیا ، ان سلسلوں کو عام کرنا اور ہر عام و خاص کو ان سے جوڑنا ،ان کی افادیت میں اضافہ کرنا ہی ہمارا بنیادی مقصود ہے۔جس کیلئے بہت مخصوص افراد ،ممبران اور ٹرسٹی حضرات کی بہت مختصر مالی تعاون سے اب تک کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘
تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے اپنے کام کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے(1)معاشرے کے کمزور طبقے کی فکری اور مالی کفالت جس کے لئے مستفدین کو الگ الگ زمروں میں منقسم کیا گیا ہے۔جیسے کہ سوسائٹی میں موجود وہ خواتین جو بیوہ ،مطلقہ اور یتیم طبقے کیلئے کئی ایک پروگرام ہیں جن میں سے "سہارا” پروجیکٹ قابل ذکر ہے جس کے ذریعے ستمبر 2020 سے اب تک 45 افراد کا انتخاب عمل میں آیا ہے جن کے گھروں تک ہمارے رضاکاران ماہانہ راشن پہنچاتے ہیں ،اس کے علاوہ اسکول فیس،کوچنگ فیس ،سردیوں میں کمبل اور جیکٹس،علاج و معالجہ وغیرہ قابل ذکر خدمات انجام دئے جارہے ہیں۔(2)امت کے وہ بچے بچیاں ،بالغان و بالغات جو اسکول کالج میں زیر تعلیم ہیں ان میں دینی تعلیم ،اسلامی تربیت اور قوم و ملت کی فکر پیدا کرنے کیلئے پورے شہر میں چھوٹے چھوٹے مکاتب کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے سردست 6 برانچیز شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ہیں جن میں تقریباً 45 شعبہ حفظ پلس اور 450 طلبہ و طالبات دینیات سیکشن کے تحت زیر تعلیم ہیں جن میں کثیر مقدار بالغان و بالغات کی بھی ہے۔اپنے آئندہ کے عزائم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’تعلیم ہر دور میں اہمیت کی حامل رہی ہے مگرماضی میں یہ خدمت اور سوشل سروس کا درجہ رکھنے والا عمل، اب اس دور کا بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے اور تعلیمی ادارے صرف مالی فراہمی کیلئے ایک دوسرے سے ریس لگانے میں مصروف ہیں، ایسے دور میں قوم و ملت کی اس ضرورت کو پوری کرنا اللہ کی نگاہ میں بڑی خدمت ہے اور ہمارے شہر میں اس کی حاجت دوبالا ہوجاتی ہے جہاں عیسائی اور ہندو اسکولوں کاجال بچھا ہے جہاں تعلیم کے نام پر تہذیب کو گھول کر پلایا جارہا ہے اور بچے بچیوں کو عیسائی ،یہودی اور ہندو تو نہیں بنایا جارہا مگر غیر دانستہ طور پر سوچی سمجھی سازش کے تحت پری پرائمری سیکشن سے لے کرگریجویشن تک غیر اسلامی جنریشن یا بالفاظِ دیگر بیزار نسل تیار کی جا رہی ہے، جس کا شکار امت کے نو نہالان ہوتےجا رہے ہیں یقیناً یہ پروجیکٹ وقت طلب،مال طلب ہے ، پر شروعات تو کہیں سے اور کسی کو کرنی ہوگی، لہٰذا ابتداء یہی سمجھ میں آتی ہے کہ :
(۱) دینی خدمات کا سلسلہ جاری ہے اور بلا کسی الجھن کے رواں ہے، اس کیلئے مالی فراہمی لازمی ہے لہٰذا ایک ایسے اسکول کا قیام جس کے نظم و نسق کو معیاری رکھتے ہوئے فیس وغیرہ کو مناسب اور قابل تحمل بنایا جائے جس سے ابتدائی پری پرائمری لیول (Pre-Primary Level) میں قوم و ملت کے والدین پر بوجھ بھی نہ ہواور تعلیمی معیار بھی ملحوظ رہے۔ جس کا وجود معاشرے میں نہ کے برابر ہے۔
Montessori School کا نظام کم لاگت ،کم قانونی گھیرا بندی کاحامل ہوتا ہے،پَر ساتھ ہی انتہائی حساس مرحلہ ہے، ایسے عمر میں ہی بچے بچیوں کی ذہنی افزائش ہوتی ہے اُس وقت اگر عمدہ تربیت اور نبوی ہدایات پر اعتدال کے ساتھ اس نسل کی آبپاشی کی جائے تو قوم و ملت کیلئے یہ بچے اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔عموماً اس قسم کے اسکول صبح کے وقت ایک شفٹ یا دو شفٹ میں چلائے جا سکتے ہیں اور فیس اتنی رکھی جائے جن سے اسکول کے انتظامیہ کے اخراجات کی تکمیل بعافیت ہوجائے اور ساتھ ہی دوسرے رفاہی امور یعنی فری ایوننگ اسکول، (Free Evening School)فری ایوننگ کوچنگ کلاسیز) (Free Evening Coaching Classes ، وغیرہ کی انجام دہی کا سلسلہ بھی جاری رکھا جاسکے اور انتظامی امور و فیکلٹی کی مالی معاونت اسی پروگرام سے ہوجائے ۔
(۲) قوم اور دوسرے برادران وطن کا ایک طبقہ مالی اعتبار سے نہایت کمزور ہے جو اپنے نونہالوں کو اس نازک عمر میں بہتر اسکول میں تعلیم دلوانے سے قاصر ہوتا ہے، ان کےلئے اگر اس اسکول کے دروازے کو مفت کھول دیا جائے اور بلا کسی تفریق مذہب و ملت ان بچے بچیوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تو ان شاء اللہ امید ہے ہمارے شہر میں ایک مثال قائم ہو اور اسلام و مسلمانوں کے تئیں برادران وطن کے دل میں امت کیلئے عزت اور محبت کے جذبے موجزن ہوجائیں ۔اور دعوت دین کی بہترین عملی فضاء تیار ہو۔جیسا کہ ماضی شاہدہے۔
(۳) امت کو اللہ اور اس کے رسول نے علماء ربانیین کے حوالے کیا ہے اور تا قیامت امت کی اصلاح اور فلاح و بہبود ،دینی اقتداء و دنیاوی عروج علماء اور ان کی اطاعت کے ساتھ ہی مربوط ہے ۔لہٰذا ہر زمانے میں علماء کی تربیت اور ان میں قائدانہ کردار پیدا کرنا اور زمانے کی رُت سے اس طرح ہم آہنگ کرنا کہ وہ دینی و دنیاوی امور میں قوم و ملت کی نگہبانی کرسکیں۔جو کہ مفکرین کا اوّلین مشغلہ رہاہے۔اسی بناء پر ملک کے دیگر بڑے شہروں اور معتمد جامعات میں ایسے شعبے کھولے جارہے ہیں اور کئی دہائی سے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں ۔کلکتہ اب تک اس عمل میں پیچھے ہے اگر اس وقت اس جگہ میں ایک تربیتی و تعلیمی ادارہ جو علماء و فضلاء کی جدید علوم اور عصری ٹیکنالوجی سکھانے کا کام کرے تو یقیناً اس سے شہر کے مسلمانوں کو ایسے باصلاحیت افراد میسر ہوں گے جو ان کی زبان میں دین کی افہام و تفہیم کا فریض انجام دے سکیں اور دیگر برادران وطن کے سامنے اسلام کی درست تبلیغ کرسکیں۔
(۴)ساتھ ہی کسی خاص وقت میں جگہ کے ایک حصے کو عصری علوم کے اداروں میں زیر تعلیم وہ طلبہ و طالبات جو مالی کمزوری کی بناء پر غیر معیاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ، پر صلاحیت کی جلاء اور تربیتی معیار میں انتہائی کمزور ہونے کی بناء پر اعلیٰ تعلیم کے مواقع ان کیلئے تقریباً مسدود نظر آتے ہیں ،ان کی کوچنگ اگر تجربہ کار ،درمند معلمین و معلمات کریں تو بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی ہے جس سے قوم کا دنیاوی زندگی کا معیار بھی بلند ہوگا اور حکومتی اداروں ،اعلیٰ کمپنیوں میں ایسے افراد کی تقرری عمل میں لائی جا سکے گی۔یقینا ًیہ سارے امور سنجیدگی سے غور کرنے اوربہترین منصوبہ بندی کا متقاضی ہیں، ساتھ ہی مالی تعاون کے تسلسل کے خواہاں ہیں۔یہ چند امور ہماری جماعت کے دلوں میں موجزن ہیں اگردیگر احباب بھی ان کی انجام دہی میں معاون بن جائیں تو ہم سب کےلئے ذخیرۂ آخرت اور دنیاوی رفعت و بلندی کا سبب ہوجائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ ہمارے کاموں میں تعاون کرنے کے خواہشمند ہیں یا ہمارے ذریعہ کسی مستحق کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے آفس ضرور تشریف لائیں۔ آفس کا پتہ ہے: تعمیر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، 47/ای، کستیا مسجد باڑی لین، نزد کستیا مسجد ، توپسیا، کولکاتا -۳۹ ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*